اسرائیلی فوجیوں کی سی این این کے صحافی سے بدسلوکی، رپورٹنگ سے روکنے کی کوشش

اسرائیلی فوجیوں نے امریکی نیوز چینل سی این این سے تعلق رکھنے والے صحافی سے اسرائیلی فورسز کی بدسلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کلپ میں سی این این کے نامہ نگار کو اسرائیلی فورسز میں گھرے ہوئے اور ان کی جانب سے دھکے دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ شام کے تنازع کے دوران رپورٹنگ کرچکے ہیں اور انہوں نے 2014 میں ٖغزہ میں ہونے والی جنگ کی کوریج بھی کی تھی۔
انہوں نے مزید لکھا ‘آج میں ایک پولیس اہلکار کے پاس سے گزرا، میں نے مسکرا کر ہیلو کہا جس کے جواب میں پولیس اہلکار نے نامناسب زبان استعمال کی’۔
ایک اور ٹوئٹ میں مارک اسٹون نے بتایا کہ ‘میں نے آج اسرائیلی پولی/فوج کی جانب سے بالکل غیر ضروری اور اشتعال انگیز رویوں کے بہت سے واقعات دیکھے’۔انہوں نے لکھا کہ ‘دمشق گیٹ پر (فلسطینیوں کے پرامن گروپ پر گرنیڈز پھینکے گئے) اور شیخ جراح میں فلسطینیوں کے گھروں پر پانی برسایا گیا اور بیت المقدس میں آنسو گیس کا استعمال کیا گیا’۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں میڈیا کو خاموش کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے میڈیا کے دفاتر پر پہلا حملہ 12 مئی کو کیا گیا تھا جب غزہ سٹی میں 10 منزالہ الجواہرا ٹاور کو تباہ کردیا گیا جہاں فلسطین ڈیلی نیوز اخبار اور ٹی وی چینل العرابی سمیت میڈیا کے 14 دفاتر تھے۔اگلے روز غزہ سٹی میں الشروک ٹاور کو تباہ کیا گیا تھا جو 14 منزلہ عمارت تھی جہاں الاقصیٰ اور ٹی وی سمیت میڈیا کے 7 اداروں کے دفاتر قائم تھے۔
15 مئی کو اسرائیل نے غزہ میں کثیرالمنزلہ عمارت کو نشانہ بنایا تھا جہاں الجزیرہ اور امریکی خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر بھی تباہ ہوگئے تھے۔
اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کو دنیا بھر کے صحافیوں نے جنگی جرم قرار دیا تھا۔
