اسرائیل کو تگنی کا ناچ نچانے والے حزب اللہ چیف حسن نصر اللہ کی کہانی

حزب اللہ کو لبنان کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور بناکر اسرائیل کو تگنی کا ناچ نچانے والےحزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو لبنان کی ایسی واحد شخصیت قرار دیا جاتا ہے جو اسرائیل سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ جنگ چھیڑنے یا امن قائم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔لبنان اور دیگر عرب ممالک میں مقبول حسن نصر اللہ کو حزب اللہ کا مرکزی چہرہ سمجھا جاتا ہے۔حزاب اللہ کے دیرینہ دشمن اسرائیل کے ہاتھوں نشانہ بننے سے بچنے کے لیےانھیں کئی برسوں سے عوامی مقامات پر نہیں دیکھا گیا  اور وہ روپوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مبصرین کے مطابق نصراللہ کو اپنے شیعہ حامیوں میں غیر معمولی درجہ حاصل ہے۔ ان کی تنظیم لبنان کی قومی فوج سے کہیں زیادہ خطرناک اور کہیں زیادہ جدید ہتھیاروں کے ذخیرے سے لیس ہے اور وہ لبنان کے اداروں پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔حزب اللہ کو سیاسی اور عسکری طور پر مضبوط کرنے میں حسن نصراللہ کا مرکزی کردار رہا ہے۔ ان کی قیادت میں حزب اللہ نے نہ صرف فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس کے جنگجوؤں کو تربیت دی  بلکہ وہ کھل کر عراق اور یمن میں ملیشیا کی حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے ایران سے میزائل اور راکٹ سمیت دیگر ہتھیار حاصل کیے تاکہ انھیں اسرائیل کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان پر حملہ کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف قائم کی گئی حزب اللہ نامی ملیشیااب یہ ایک ایسی عسکری طاقت ہے جو لبنان کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور سیاسی جوڑ توڑ میں بھی حصہ لیتی ہے۔ اس تنظیم کے ذریعے لبنان میں صحت، تعلیم اور دیگر سوشل سروسز مہیا کی جاتی ہیں۔ ایران بھی علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے۔اس حقیقت کے باوجود کہ حزب اللہ کو امریکہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا، نہ تو ایران کے رہنما اور نہ ہی نصر اللہ نے اپنے قریبی تعلقات کو کبھی نہیں چھپایا۔مبصرین کے مطابق

حسن نصراللہ کے جتنے پرجوش پرستار ہیں اتنے ہی ان کے دشمن بھی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اسرائیل کے ہاتھوں نشانہ بننے کے خوف سے برسوں سے عوام کے سامنے نہیں آئے۔ نصراللہ کو 2006 میں اسرائیل کے ساتھ حزب اللہ کی جنگ کے بعد سے عوام میں شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہے ۔

لبنان کے حزب اللہ نواز اخبار، "الاخبار "کو 2014 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں، حسن نصر اللہ نے خود بتایا تھا کہ وہ اپنےسونے کی جگہیں باقاعدگی سے بدلتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ کسی بنکر میں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا، "حفاظتی اقدامات کا تقاضا یہ ہے کہ نقل و حرکت کو خفیہ رکھا جائے، لیکن یہ مجھے گھومنے پھرنے اور یہ دیکھنے سے نہیں روکتے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔”مبصرین کے مطابق بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نصر اللہ کہاں رہتے ہیں ۔ حالیہ برسوں میں جن اہلکاروں اور صحافیوں نے نصراللہ سے ملاقات کی ہے انہوں نے سخت حفاظتی اقدامات کے بارے میں بتایا جن کے باعث وہ یہ نہیں جان سکے کہ انہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔گزشتہ دو عشروں میں ان کی زیادہ تر تقاریر کسی خفیہ مقام سے ریکارڈ اور نشر کی گئی ہیں۔

ایک پر اثر عوامی مقرر، 64 سالہ نصراللہ ایک باریش عالم دین ہیں جو عینک لگاتے ہیں اور انہیں کبھی روایتی عبا اور سیاہ پگڑی کے بغیر نہیں دیکھا گیا۔

حسن نصر اللہ 1992 میں صرف 32 سال کی عمر میں اس وقت حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے تھےجب ایک اسرائیلی گن شپ ہیلی کاپٹر نے ان کے پیشرو عباس الموسوی کو موت کے گھاٹ اتاردیا تھا ۔حزب اللہ واحد گروپ ہے جس نے 1990 میں لبنان کی 15 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد ہتھیاروں سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا تھا، اور نصر اللہ کا اصرار تھا کہ اسرائیل بدستور ایک حقیقی خطرہ ہے۔

نصر اللہ 31 اگست 1960 کو بیروت کے مفلسی کے شکار شمالی مضافاتی علاقے، برج حمود میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک چھوٹے سے جنوبی گاؤں بازوریہ سے تعلق رکھنے والے ایک غریب کریانہ فروش کے نو بچوں میں سے ایک تھے۔نصراللہ نے عراق میں شیعہ فرقے کے مقدس شہر نجف کے ایک مدرسے میں تین سال تک سیاست اور قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہیں 1978 میں اس وقت وہاں سے نکال دیا گیا جب سنی اکثریتی حکومت نے سر گرم شیعہ کارکنوں کو بے دخل کیا ۔اس کے بعد وہ لبنانی سیاست میں بھر پور طریقے سے شامل ہو گئے اور خانہ جنگی کے دوران شیعہ ملیشیا "امل” میں ابتدائی تجربہ حاصل کیا۔لیکن وہ حزب اللہ کے بانی بننے کے لیے امل سے اس وقت الگ ہو گئے جب اسرائیلی فوجیوں نے 1982 میں بیروت پر حملہ کیا ۔انہوں نے لبنان اور پوری عرب دنیا میں اپنا غیر معمولی مقام اس وقت حاصل کیا جب اسرائیل نے مئی 2000 میں حزب اللہ کے زبردست حملے کے باعث جنوبی لبنان سے اپنی فوجیوں کو واپس بلالیا، جس سے سرحدی پٹی پر اس کا 22 سال کا قبضہ ختم ہوا۔نصراللہ کی برسوں کی قیادت میں،حزب اللہ یا ’اللہ کی جماعت‘ ایک چھاپہ مار دھڑےسے ملک کی سب سے طاقتور سیاسی قوت بن چکی ہے ۔

حزب اللہ نے حسن نصراللہ کی اسرائیلی حملے میں شہادت کی تصدیق کردی

لبنان کے بہت سے مقامی شیعہ حزب اللہ کو، خیراتی اداروں کی مدد کرنے، اپنے مضبوط مراکز میں صحت اور تعلیم کی سہولیات بڑھانے اور حامیوں میں سے ضرورت مندوں کی مدد کرنے پر سراہتے ہیں۔نصراللہ کی ذاتی مقبولیت پوری عرب دنیا میں اس کے بعد بڑھ گئی تھی جب اسرائیل کے ساتھ اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانےوالی ایک جنگ بندی 2006 میں ختم ہو گئی ۔ تاہم اس کے بعد 2011 سے ان کی مقبولیت کو اس وقت دھچکا لگا جب انہوں نے اپنے جنگجووں کو صدر بشار الاسد کی حکومت کی مدد کے لیے پڑوسی ملک شام بھیجا۔

Back to top button