اسلام آباد: فیس ماسک نہ لگانے پر جرمانہ وقید کی سزا

ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے سبب اسلام آباد میں فیس ماسک لگانا لازمی قراردے دیا ہے، ماسک نہ لگانے پر ضلعی اتنظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ فیس ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف اسسٹنٹ کمشنر اور مجسٹریٹ کاروائی کے مجاز ہوں گے۔ خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کئے جائیں گے، مجسٹریٹ تین ہزار روپے تک جرمانے کر سکیں گے، خلاف ورزی کرنے والے کو دفعہ 188 تعزیرات کے تحت جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے اعلان کیا ہے کہ عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے والے شہریوں پر جرمانہ ہوگا اور جیل بھی ہوسکتی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ ‘اسلام آباد میں تمام عوامی مقامات پر ماسک پہننا، منہ ڈھانپنا اب لازم قراردے دیاگیا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘مارکیٹوں، عوامی مقامات مساجد، پبلک ٹرانسپورٹ، لاری اڈہ، گلیوں، سڑکوں اور دفاتر میں چیکنگ ہوگی’۔ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا سے متعلق کہا کہ ‘مجسٹریٹ 3 ہزار روپے تک جرمانہ اور دفعہ 188 تعزیرات پاکستان کے تحت جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے’۔
قبل ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی ٹوئٹر پرگزشتہ روز پریس کانفرنس میں کیے گئے اعلان کو دہرایا تھا۔ڈاکٹر ظفر مرزا کہا تھا کہ ‘پرہجوم مقامات جیسے مساجد، بازار، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ، ریل، ہوائی جہاز میں سفر کے دوران ماسک پہننا اب لازمی قرار دیا گیا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماسک پہننے سے متعلق اپنی گائیڈ لائنز کا جائزہ لیا اور اس کو پہننا لازمی کردیا ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ‘جیسے کیسز اور اموات بڑھ رہی ہیں تو جو احتیاطی تدابیر دی گئی ہیں ان پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے اور خاص کر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ دفتر یا باہر کہیں بھی ہوں اور سمجھتے ہوں کہ سماجی فاصلہ رکھنا ہے تو وہاں ماسک پہننا لازمی ہے، پرہجوم جگہوں پر ماسک پہننا ہم نے لازمی قرار دیا ہے’۔معاون خصوصی نے کہا تھا کہ ‘مساجد، بازاروں، شاپنگ مالز، ذرائع آمد و رفت چاہے جہاز، ریل، بس یا ویگن ہو یہاں ماسک پہننا لازم ہے’۔
ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا میں بعض اوقات بڑے ذمہ دار افراد بھی غلط معلومات دیتے ہیں یا ان کے مقصد کی سمت صحیح نہیں ہوتی، ‘کل ایک بڑے عالم کے حوالے سے پیغام آیا کہ وہ منع کررہے تھے کہ اگر آپ کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت ہے تو ہسپتال نہ جائیں یا ہسپتال میں صحیح سلوک نہیں ہوگا، اس طرح کے پیغامات مناسب نہیں ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میں تمام افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ قوم اور لوگوں کو صحیح معلومات پہنچائیں، صحیح رہنمائی کریں اور درست معلومات فراہم کریں’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button