اسلام آباد میں باغی صحافی اسد طور پر قاتلانہ حملہ

سینئر صحافی ابصار عالم پر چند ہفتے پہلے قاتلانہ حملے کے بعد اب ایک اور باغی صحافی اسد علی طور پر منگل کی شام ان کے گھر میں گھس کر چند نامعلوم افراد نے حملہ کیا اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اس حوالے سے خبر سوشل میڈیا پر صحافی وسیم عباسی نے دی اور معروف پروگرام فور مین شو کے ہوسٹ نے بھی ٹوئٹر پر بتایا کہ اسد علی طور کے ساتھ یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔
یاد رہے کہ اسد علی طور نے چند روز قبل یوٹیوب پر اپنی ایک ویڈیو میں یہ بیان دیا تھا کہ انہیں نامعلوم نمبروں سے کالز موصول ہوئی ہیں اور اس حوالے سے ایک وفاقی وزیر نے بھی انہیں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘وہ تمہارے سر کے پیچھے ہیں’۔ اسد علی طور ماضی میں کئی ٹی وی چینلز سے بطور پروڈیوسر وابستہ رہ چکے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس کے حوالے سے ان کی سوشل میڈیا پر رپورٹنگ کو سنجیدہ حلقوں اور عوام میں خوب پذیرائی ملی۔ وہ اپنے یوٹیوب چینل پر گذشتہ کچھ عرصے سے اسٹیبلشمینٹ مخالف رپورٹنگ بھی کر رہے ہیں۔ اسد علی طور اسلام آباد میں مقیم ہیں اور اپنی کورٹ رپورٹنگ کے لئے سراہے جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں صحافی اور یو ٹیوب بلاگ اسد علی طور پر تین نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں گھس کر تشدد کیا جس کے بعد ان کے دوستوں نے انھیں ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔پمز ہسپتال میں موجوداسد علی طور کا کہنا ہے کہ ان کے فلیٹ میں تین افراد زبرستی گھس گئے جہاں ان کو باندھ کر زود و کوب کیا گیا اور ان سے ‘پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے گئے۔’اسد طور کا مزید کہنا تھا کہ ان تینوں افراد نے ان کو باندھ کر چھوڑ دیا اور ان کے جانے کے بعد انھوں نے شور مچایا تو اپارٹمنٹ میں موجود دیگر افرد نے جا کر انھیں آزاد کیا۔اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں اسد طور کے فلیٹ کے سی سی ٹی وی سے حملہ آوروں کی ویڈیو فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے۔
دوسری جانب وزارت اطلاعات و نشریات کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے اسد طور پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور ایس ایس پی اسلام آباد کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اس حملے کی فوری تفتیش کریں۔
واضح رہے کہ چند ہفتے قبل ایک اور صحافی ابصار عالم پر بھی ایف الیون میں ہی چہل قدمتی کرتے ہوئے حملہ کیا گیا تھا جس میں انھیں گولی لگی تھی۔گذشتہ برس اسد طور پر راولپنڈی کی پولیس نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں صحافی اسد طور کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا۔حملے کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے بڑی تعداد میں اس حملے کی مذمت کی اور اس کے خلاف تبصرے کیے۔
