اسلام آباد میں لاک ڈاؤن کے دوران چیتے سڑکوں پر آگئے

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے روک تھام کے باعث کئے جانے والے لاک ڈاؤن سے جہاں دنیا بھر میں لوگ گھروں میں بند ہیں وہیں اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگلی جانور شہروں کا رخ کرتے نظر آتے ہیں، کچھ ایساہی منظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا ہے، جہاں مارگلہ کی پہاڑیوں سے ایک چیتا سڑک پر آگیا اور بظاہر خوراک کی تلاش میں ادھر ادھر پھرنے لگا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔
کرونا لاک ڈاؤن سے نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہیں سب سے بڑا مسئلہ خوراک کی کمی کا ہے۔ اسلام آباد کے سیاحتی مقامات ویران ہیں اور لوگ اپنے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے کاروباری زندگی بند ہے اور جنگلی جانوروں کے علاوہ آوارہ جانور بھی خوراک کی کمی کے باعث سڑکوں پر مارے مارے پھر رہے ہیں۔ محکمہ جنگلی حیات میں گزشتہ ہفتے کے مری اور ایبٹ آباد کے بھوکے بندروں کو تو خوراک فراہم کی تھی لیکن جنگلی چیتے اور اس جیسے دیگر جانوروں کو گوشت فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔
اسلام آباد میں ایک چیتے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد لوگوں کا کہنا ہے کہ بھوکے جیتے انسانی وادیوں میں آچکے ہیں تو یہ انسانوں کے لیے خطرے کی بات ہے کیونکہ بھوکا درندہ انسان اور جانور کی تمیز نہیں کرتا اور حملہ کر دیتا ہے۔ اسی دوران وزارت اطلاعات کے ایک افسر دانیال گیلانی نے ٹوئٹر پر اسلام آباد کی سڑکوں پر پھرنے والے تیندوے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘نیشنل پارک میں تین تیندووں کے خاندان موجود ہیں جو لاک ڈاؤن کے دوران اب سڑکوں پر گھوم پھر رہے ہیں۔’
تاہم وائلڈ لائف کے ایک اہلکار کے مطابق شہر میں جانوروں کے گھومنے پھرنے کی بنیادی وجہ مارگلہ ہلز پر عوام کا نہ جانا ہے جس کی وجہ سے یہ جنگلی حیات آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔ اس کا موقف تھا کہ یہ جانور بھوک کی وجہ سے باہر نہیں آئے بلکہ انسانوں کی عدم موجودگی انکو باہر لے آئی ہے کیونکہ اب انہیں کسی قسم کا کوئی خوف نہیں یے۔ وائلڈ لائف اہلکار نے بندر، چیتے اور سور کے علاوہ لومڑیوں کے بھی اسلام آباد کی سڑکوں پر پھرنے کی تصدیق کی۔ اس کے مطابق مارگلہ ٹریل فائیو اور سکس کے قریب کیمرے موجود ہیں جو ہلکی سی غیر معمولی حرکت بھی تصویر اور ویڈیوز کی صورت میں ریکارڈ کر لیتے ہیں۔
ماہر جنگلی حیات ڈاکٹر انیس الرحمان نے بتایا کہ ان دنوں جانوروں کی جو فوٹیجز ہمیں ملی ہیں ان میں وہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے نیچے شہر میں پھرتے نظر آتے ہیں جن میں ایک بارکنگ ڈیئر بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر انیس الرحمان کے مطابق لومٹری کی جو تصاویر حاصل ہوئی ہیں وہ انتہائی دلچسپ ہیں۔ تصویروں میں لومڑی نے اپنا شکار پکڑا ہوا ہے جب کہ ایک اور تصویر میں وہ ایک خالی بوتل لے کر جا رہی ہے جو ہمارے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ اگر ہم جنگلات کو صاف نہیں رکھیں گے تو جانور یہ کام خود بھی کر لیں گے۔
جب انیس سے پوچھا گیا کہ کیا ان بھوکے جانوروں کو ہمیں خوراک فراہم کرنی چاہیے تو انہوں نے کہا کہ نہیں، کیوں کہ ایسا کرنے سے آپ انہیں عادی بنا دیں گے اور وہ روزانہ آپ کے پاس خوراک کی امید سے آئیں گے۔ جنگلات میں قدرتی طور پر ان کی خوراک موجود ہوتی ہے جسے وہ خود محنت کرکے حاصل کر لیتے ہیں۔ اگر ہم نے انہیں خوراک ڈالنا شروع کر دی اور انہوں نے مسلسل شہر کا رخ کرنا شروع کر دیا تو پھر یہ انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے خطرے کی بات ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسلام آباد کے سیکٹر ایف 6 اور ایف 7 کے رہائشیوں کو چاہیے کہ اگر انہیں بندر نظر آتے بھی ہیں تو انہیں کھانا مت ڈالیں کیوں کہ کل کو دوبارہ کھانا نہ ملنے پر جانور انہیں نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button