کیا کراچی میں 400 پراسرار اموات کرونا کے باعث ہوئیں؟

شہر قائد میں 15 روز کے دوران 400 افراد کی پراسرار اموات نے طبی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ مرنے والوں میں کرونا کے مریض کی تمام علامات پائی گئیں جیسے نمونیا، سانس کی بیماری، اور پھیپھڑوں میں پانی بھرا ہونا۔ ان تمام افراد کی میتیں کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے مختلف سرد خانوں میں رکھی گیئں لیکن ان کے لواحقین میں سے کسی نے بھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ ان کے عزیز کرونا وائرس کا شکار تھے۔
جناح ہسپتال کے ذرائع کے مطابق جب حکام نے ایدھی فاؤنڈیشن کے سرد خانوں میں رکھوائی جانے والی ان 400 میں سے چند میتوں کے سینے کا ایکسرے کروایا تو پتہ چلا کہ ان کے پھیپھڑوں میں پانی بھرا ہوا تھا جو کہ کرونا وائرس کی مرض کی ایک بڑی علامت ہے۔ تاہم سندھ حکومت نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔
دوسری طرف ایدھی فاؤنڈیشن نے کراچی کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں جاں بحق افراد کی میتیں ایدھی سرد خانے لائے جانے کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ ماہ 15مارچ سے دو اپریل تک 18روز کے دوران شہر کے ایدھی سرد خانوں میں مجموعی طور پر 401 میتوں کو لایا گیا گیا جس میں 220 مرد جبکہ 181 خواتین کی میتیں شامل تھیں۔ ان میں دے 66 میتیں ایسی تھیں جن کی عمریں ایک سے 40 سال کے درمیان تھی۔اسی طرح 76 میتیں ایسی تھیں جس میں جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 41 سال سے پچپن سال کے درمیان تھی۔ ایدھی ذرائع کے مطابق میت سرد خانے میں رکھواتے وقت اکثر ورثاء کی جانب سے بتایا گیا کہ انتقال کر جانے والے شخص یا خاتون کو سانس کی تکلیف تھی۔ تاہم ورثا کی جانب سے اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ جو میت وہ سردخانے میں رکھوا رہے ہیں اس کی وجہ ہلاکت کیا کرونا تو نہیں تھی۔ نہ ہی ایدھی سرد خانوں میں لائی جانے والی میںتوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیاتھا۔۔
تاہم ایدھی فاؤنڈیشن کے ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ مرنے والے 400 افراد میں کرونا وائرس سے ملتی جلتی علامات پائی گئیں ، پراسرار طور پر مرنے والوں میں نمونیا، سانس ، پھیپھڑوں میں پانی کی علامات تھی، تاہم انکو کرونا تھا یا نہیں اس چیز کی تشخیص نہیں کی گئی۔
تاہم کراچی میں جناح اسپتال کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا کہ ان مرنے والوں میں صرف چند کی لاشوں کو ایکسرے کے لئے بھیجا گیا تھا جن کے پھپھڑوں میں پانی پایا گیا جو کہ کرونا کے مرض کی ایک واضح علامت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس حوالے سے حکومت سندھ کسی قسم کی کوئی انکوائری کرواتی ہے یا نہیں۔
