کرونا 26 اپریل سے 10 مئی کے دوران ملک میں بڑی تباہی لا سکتا ہے

محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے حکومت کو وارننگ دی ہے کہ پاکستان میں 26 اپریل سے 10 مئی کے دوران کرونا وائرس اور بھی زیادہ خطرناک طریقہ سے پھیل کر بڑے پیمانے پر تباہی مچا سکتا ہے لہذا 25 اپریل تک لاک ڈاؤن کے بعد کے دو ہفتوں میں بھی بہت زیادہ احتیاط برتنا ضروری ہے۔
ہیلتھ سائنس سے وابستہ طبی ماہرین کی مرتب کردہ ایک تحقیقی رپورٹ کی بنیاد پر محکمہ صحت نے حکومت کوبتایا ہے کہ ملک میں کرونا کی وبا کو پھیلے 50 دن مکمل ہو چکے ہیں اور امریکہ سمیت یورپ میں اس وائرس کی تباہ کاریاں پچاس سے ساٹھ دن کے دوران اپنے عروج پر پہنچی تھیں جس دوران بڑے پیمانے پر انسانی ہلاکتیں ہوئیں لہذا پاکستان میں بھی 26 اپریل سے 10 مئی کے دوران پندرہ دنوں میں کرونا وائرس کی وبا زیادہ خطرناک طریقے سے پھیل سکتی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک میں ہونے والی 60 فیصد سے زائد اموات بھی وائرس پھیلنے کے دو سے ڈھائی ماہ کے درمیان سامنے آئی ہیں۔ اب تک کورونا وائرس کا یہی طرز عمل سامنے آیا ہے اور پاکستان میں بھی اسی پیٹرن پر کرونا پھیلنے اور ہلاکتیں ہونے کا امکان نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یاد رہے کہ کرونا وائرس دنیا میں پچاس سے ساٹھ دن تک ہلکے پھلکے انداز میں پھیلا لیکن پھر اس نے اچانک دنیا میں تباہی مچا کر رکھ دی۔ اگر اسی طرز عمل کو سامنے رکھا جائے تو اس کی وبائیت کا چکر 90 دن میں مکمل ہوتا ہے۔پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا ٹیسٹ 26 فروری کو ہوا تھا جسے اب پچاس دن پورے ہوچکے ہیں۔ لہذا 26 اپریل سے 10مئی تک کہ دو ہفتے اس وائرس کے حوالے سے نہایت خطرناک ہوسکتے ہیں اور اس عرصے کے دوران بہت ہی زیادہ احتیاط برتنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ کرونا وائرس گذشتہ سال کے آخر میں وسطی چین کے شہر ووہان میں نمودار ہوا اور پھر دو ہی مہینوں میں اس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس مہلک وائرس نے اب تک دنیا کے 202 ممالک میں 1.9 ملین سے زیادہ افراد کو متاثر کیا۔ 118،000 افراد کورونا کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد امریکا اور پھر اٹلی، سپین اور فرانس کے شہریوں کی ہے۔
پاکستانی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کا ہمسایہ ملک ہونے کے باوجود بھی پاکستان 26 فروری تک اس وائرس سے محفوظ رہا۔ پھر کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان میں ایران سے واپسی پر کرونا کی تصدیق ہوئی۔ 26فروری کو پہلا کیس رپورٹ ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ وائرس ملک بھر میں پھیل گیا اور مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، اب ملک میں کرونا مریضوں کی تعداد 6ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ بنیادی طور پر یہ وائرس ایران سے پاکستان منتقل ہوا اور پھر اس کے بڑھنے کی رفتار میں لاہور میں ہونے والے رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع سے تیزی آئی۔
تازہ اعدادوشمار کے مطابق 15 اپریل کو پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران 520 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو کہ ملکی تاریخ میں کیسز کے حوالے سے دوسرا بڑا دن ہے۔ اس سے قبل 6 اپریل کو سب سے زیادہ 577 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں بھی دنیا بھر کی طرح ہر گزرتے دن کے ساتھ کرونا وائر س کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے لیکن ابھی تک حکومت بظاہر اس میں ناکامی کا شکار نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 15 اپریل کو پاکستان کی تاریخ میں کیسز کی تعداد کے حوالے سے دوسرا بڑا دن سامنے تھا جس میں 24 گھنٹوں میں 520 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان کی مجموعی صورتحال دیکھی جائے تو ابھی تک متاثرہ افراد کی تعداد 6623 ہو گئی ہے جبکہ 130 افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہو کر جاں بحق ہو چکے ہیں۔
حکومت کی جانب سے کرونا وائرس کو مزید پھیلنےسے روکنے کے لئے ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی گئی ہے لیکن ابھی تک نئے کیسز کی تعداد میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
