اسلام آباد کا باقی ملک سے رابطہ منقطع کرنے کا فیصلہ

شہباز شریف حکومت نے 25 مئی سے عمران خان کا پشاور سے وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ ناکام بنانے کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد کو ملک کے باقی حصوں سے منقطع کر دیا جائے۔ کیپٹل پولیس کے افسران کے مطابق حکومت کو اطلاع ملی ہے کہ عمران خان کی ہدایت پر لانگ مارچ میں خون خرابہ کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال پیدا ہو لہذا دو منصوبے بنائے گئے ہیں، یا تو پی ٹی آئی کے مارچ کے شرکا کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی یا پھر داخلی مقامات پر انہیں روک دیا جائے گا۔ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے لیکن دونوں صورتوں میں مارگلہ روڈ پر موجود واحد داخل ہونے اور نکلنے کے راستے کے سوا ریڈ زون کو سیل کر دیا جائے گا۔
پولیس افسران کے مطابق اگر حکومت پی ٹی آئی والوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے تو پلان ‘اے’ نافذ کیا جائے گا لیکن اس صورت میں مارچ کرنے والوں کو زیرو پوائنٹ عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، فیض آباد، بہارہ کہو، روات اور گولڑہ کو کنٹینرز لگا کر سیل کیا جائے گا اور پولیس تعینات ہوگی۔
لیکن اگر حکومت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہ دی تو پلان بی پر عملدرآمد کیا جائے گا، جسکے تحت تمام داخلی راستوں کو سیل کر دیا جائے گا اور مارچ کرنے والوں کو اٹک اور جہلم پل پر روک دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ موٹرویز اور جی ٹی۔ روڈ بلاک کر کے پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا جائے گا، سینئر پولیس افسران نے بتایا کہ اس سلسلے میں 400 سے زائد مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کی لسٹ تیار کی گئی ہے، جیسے ہی حکومت کی جانب سے ہدایت جاری کی جائے گی ان کی گرفتاری شروع ہو جائے گی۔ تاہم لاہور شہر میں گرفتاریوں کا سلسلہ ابھی سے شروع کر دیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ ایسے مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جہاں پی ٹی آئی اور اس کے طلبہ ونگ کے کارکنان ملک کے دیگر حصوں سے دارالحکومت پہنچنے کے بعد چھپے ہوئے ہیں۔
اسی لیے پنجاب حکومت نے صوبے میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور رینجرز بھی تعینات کئے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل محکمہ داخلہ سندھ نے دفعہ 144 کے نفاذ سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ اسکے علاوہ بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے قریب قصوری روڈ پر 300 سے زائد کارکنان ٹھہرے ہوئے ہیں جن کے خلاف جلد کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کو گزشتہ جمعہ کی رات گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن اس پر عمل نہ ہو سکا اور وہ ملتان میں جلسہ کر کے پشاور نکل گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کا منصوبہ لیک ہو کر پی ٹی آئی قیادت کے علم میں آگیا جس کے بعد عمران دارالحکومت واپس نہیں آئے، بعدازاں کیپٹل پولیس چیف اور ایس ایس پی آپریشنز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس دوران ریڈ زون اور شہر کے داخلی راستوں کو سیل کرنے کے لیے کنٹینرز کو دارالحکومت واپس لایا گیا۔اب تک پولیس کو 500 کنٹینرز دیئے جا چکے ہیں اور ریڈ زون کو سیل کرنے کے لیے 300 کنٹینرز درکار تھے جو پہلے ہی لگانے شروع کیے جاچکے ہیں اور پیر کی رات یا منگل کی صبح تک مکمل کر لیے جائیں گے۔ مارگلہ روڈ پر ریڈ زون میں داخل ہونے کا واحد راستہ کھلا رہے گا تاہم وہاں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی نفری تعینات رہے گی۔ پولیس افسران نے بتایا کہ دارالحکومت پولیس کے لیے ہنگامی حالات کے علاوہ تمام قسم کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے پنجاب کانسٹیبلری کے 8 ہزار اہلکاروں کے ساتھ پنجاب سے 2 ہزار اینٹی رائٹ یونٹ کے اہلکاروں، سندھ کے 2 ہزار اہلکاروں اور 4 ہزار رینجرز اہلکاروں کے دستے کی درخواست کی ہے، اس کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے بھی پولیس کی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ اسلام آباد پولیس نے دیگر صوبوں میں اپنے ہم منصبوں سے درجنوں قیدی وین اور واٹر کینن گاڑیاں بھی منگوا لی ہیں۔ اس وقت اسلام آباد پولیس کے پاس 20 ہزار لمبی اور مختصر رینج کے آنسو گیس کے شیل ہیں جبکہ ربڑ کی ہزاروں گولیاں بھی منگوا لی گئی ہیں۔
عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے دوران خون خرابہ کروانے کے مبینہ احکامات کے بعد حکومت کی جانب سے پرامن لانگ مارچ کی اجازت دینے کے باوجود اب پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں ہر کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔ یہحکومتی کارروائی ماڈل ٹاؤن میں ایک اعلیٰ سطح کے پارٹی اجلاس کے بعد سامنے آئی جس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف نے کی، اجلاس میں وزیراعظم کے بڑے بھائی نواز شریف نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جس میں یہ بھی طے پایا کہ حکومت معزول وزیر اعظم عمران خان کے جلد از جلد انتخابات کے مطالبے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔
مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے ہر قسم کی تیاریاں کی جائیں، قبل ازیں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت نے ان لوگوں کی فہرست تیار کر لی ہے جنہیں وہ احتجاج کو روکنے کے لیے گرفتار کرنا چاہتی ہے۔اپوزیشن پارٹی کے خدشات گزشتہ رات درست ثابت ہوئے جب پی ٹی آئی رہنماؤں کو دارالحکومت کی جانب مارچ سے قبل نشانہ بنانے یا گرفتار نہ کیے جانے کی یقین دہانی کے باوجود پولیس نے پارٹی کی کئی اہم شخصیات کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 25 مئی کو اسلام آباد میں ’آزادی مارچ‘کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
