اسٹیبلشمنٹ اپنے کئے کی معافی مانگ لے تو معاف کر دیں گے

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا تیسرا کامیاب جلسہ کوئٹہ میں ہوا۔
پی.ڈی.ایم کے کوئٹہ تیسرے پاور شو میں مولانا فضل الرحمان نے خطاب کے آغاز میں فرانس اور ڈنمارک کی دیواروں پر پیغمبر اسلام کے خاکے چسپاں کرنے کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی۔ کراچی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ساتھ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اخلاقی دیوالیہ پن قرار دیا۔ محسن داوڑ کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا کہ ’ایک مہمان کو ایئر پورٹ پر روکا گیا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔‘مولانا فضل الرحمن نےمزید کہا کہ نام نہاد کابینہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک ریفرنس جعلی صدر کو بھیجا۔ کئی سماعتوں کے بعد اس ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔ اب حکومت کے پاس اخلاقی جواز نہیں رہا ہے، آپ کس بنیاد پر وزیر اعظم اور صدارت کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم کا مؤقف درست ہے ثابت ہوا کہ یہ حکمران جعلی تھے اور جعلی ہیں۔ ان کے مطابق ان حکمرانوں کے خلاف تحریک اب اور زور پکڑے گی۔ انھوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے سندھ کے جزائر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان پر وفاقی حکومت کو کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم نے چین اور سعودی عرب جیسے دوستوں کو ناراض کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تم چیخ رہے تھے تو اس وقت پاکستان کے اکاؤنٹس میں تین ارب ڈالر رکھے۔ انھوں نے کہا کہ اب افغانستان بھی آپ کی بات سن رہا ہے۔ انھوں نے کہا حکومت کی خارجہ پالیسی ہے ہی کوئی نہیں ہے۔ ان میں شعور ہے ہی نہیں کہ خارجہ پالیسی کسے کہتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہ صرف عمران خان نے کشمر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا دیا بلکہ دعا مانگی کہ خدا کرے کہ ہندوستان میں مودی جی کی حکومت آئے اور پھر جب انھوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو پھر یہ گھر خاموش بیٹھے رہے سب ہوتا دیکھتے رہے۔ یہ کشمیر فروش ہیں۔ انھوں نے گلگت بلتستان کو آزادانہ صوبہ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک حصے پر انڈیا اور دوسرے حصے پر انڈیا قابض ہے تو اس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی. آج جو حشر پشاور بی آر ٹی کا ہوا ہے وہ حال پورے پاکستان کا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم اداروں کے دشمن نہیں ہیں۔ اداروں کا احترام کرتے ہیں، ادارے ملک کے لیے ضروری ہیں۔ ہم اداروں کے سربراہان کی عزت کرتے ہیں۔ مگر جب وہ مارشل لا لگاتے ہیں اور من پسند حکومت کی پشت پناہی کرتے ہیں تو پھر ان سے شکوہ کرنا ہمارا حق بنتا ہے۔ آج بھی اگر سٹیبلشمنٹ اس حکومت کی پشت پناہی سے باز آجائے اور کہے کہ انھوں نے ان کو اقتدار میں لا کر غلطی کی تو پھر ان کی عزت ہو گی۔ یہ ریاست مدینہ نہیں ہے بلکہ کوفہ ہے۔
ان کہا مزید کہنا تھا کہ این آر او اب تمھاری ضرورت ہو گی۔ کہتا ہے کہ ایک سال میں ایک کروڑ نوکریاں دوں گا۔ ان کے مطابق یہ تو 1947 سے لے کر آج تک نہیں ہوا۔ اب یہ کہتا ہے کہ بھنگ پیو، چرس پیو۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور میں آپ کا انکار کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا میں نے پہلے دن سے اس حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں۔ انھوں نے کہا یہ حکومت اب لوگوں کو بے روزگار کر رہی ہے۔ ریڈیو پاکستان اور پی آئی اے سے ملازمین کو نکالا گیا اور متعدد محکموں کے لوگ اسلام آباد کے ڈی چوک کا رخ کرتے اور چیخ و پکار کرتے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے لاپتہ افراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس معاملے میں مداخلت کا کہا ہے۔ انھوں نے ہیلری کلنٹن کے ایک حالیہ دنوں کے انٹرویو کے بارے میں کہا کہ انھوں نے بھی وضاحت کی کہ ڈیپ سٹیٹ ایک ایسی ریاست کو کہتے ہیں کہ جہاں ایجنسیوں کی لائی ہوئی حکومت ہو اور لوگوں کو لاپتہ کیا جائے مگر کوئی پوچھنے والا نہ ہو اور اس کے بعد انھوں نے کہا کہ جیسا کہ پاکستان۔ انھوں نے عوام کو باہر نکلنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ گھر بیٹھے آزادی نہیں ملا کرتی، اس کے لیے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق میرے نزدیک فوج کی حیثیت ایسی ہے جیسے آنکھوں کی پلکیں۔ یہ سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ صرف سرحدوں پر ہی ہوتی ہیں۔ جب ان پلکوں کا کوئی بال آنکھ میں آ جائے تو درد ہوتا ہے اور پھر اس بال کو نکالنا پڑتا ہے۔ ہمارا مذاق مت اڑاوں اور ہماری وفاداریوں کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھو
