حکومت مخالف سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کا کوئٹہ میں کامیاب جلسہ

پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا تیسرا کامیاب جلسہ کوئٹہ میں ہوا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے تقاریر میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی گئی.
اپوزیشن رہنماؤں میں سے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور دیگر رہنما جلسہ گاہ میں موجود تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اس وقت انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں جہاں سے انہوں نے آج کے جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ پی ڈی ایم کے جلسے میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور موبائل سروس بھی معطل ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب کے آغاز میں فرانس اور ڈنمارک کی دیواروں پر پیغمبر اسلام کے خاکے چسپاں کرنے کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی۔ کراچی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ساتھ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اخلاقی دیوالیہ پن قرار دیا۔ محسن داوڑ کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا کہ ’ایک مہمان کو ایئر پورٹ پر روکا گیا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔‘مولانا فضل الرحمن نےمزید کہا کہ نام نہاد کابینہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک ریفرنس جعلی صدر کو بھیجا۔ کئی سماعتوں کے بعد اس ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔ اب حکومت کے پاس اخلاقی جواز نہیں رہا ہے، آپ کس بنیاد پر وزیر اعظم اور صدارت کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم کا مؤقف درست ہے ثابت ہوا کہ یہ حکمران جعلی تھے اور جعلی ہیں۔ ان کے مطابق ان حکمرانوں کے خلاف تحریک اب اور زور پکڑے گی۔ انھوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے سندھ کے جزائر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان پر وفاقی حکومت کو کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم نے چین اور سعودی عرب جیسے دوستوں کو ناراض کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تم چیخ رہے تھے تو اس وقت پاکستان کے اکاؤنٹس میں تین ارب ڈالر رکھے۔ انھوں نے کہا کہ اب افغانستان بھی آپ کی بات سن رہا ہے۔ انھوں نے کہا حکومت کی خارجہ پالیسی ہے ہی کوئی نہیں ہے۔ ان میں شعور ہے ہی نہیں کہ خارجہ پالیسی کسے کہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہ صرف عمران خان نے کشمر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا دیا بلکہ دعا مانگی کہ خدا کرے کہ ہندوستان میں مودی جی کی حکومت آئے اور پھر جب انھوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو پھر یہ گھر خاموش بیٹھے رہے سب ہوتا دیکھتے رہے۔ یہ کشمیر فروش ہیں۔
انھوں نے گلگت بلتستان کو آزادانہ صوبہ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک حصے پر انڈیا اور دوسرے حصے پر انڈیا قابض ہے تو اس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی. آج جو حشر پشاور بی آر ٹی کا ہوا ہے وہ حال پورے پاکستان کا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم اداروں کے دشمن نہیں ہیں۔ اداروں کا احترام کرتے ہیں، ادارے ملک کے لیے ضروری ہیں۔ ہم اداروں کے سربراہان کی عزت کرتے ہیں۔ مگر جب وہ مارشل لا لگاتے ہیں اور من پسند حکومت کی پشت پناہی کرتے ہیں تو پھر ان سے شکوہ کرنا ہمارا حق بنتا ہے۔ آج بھی اگر سٹیبلشمنٹ اس حکومت کی پشت پناہی سے باز آجائے اور کہے کہ انھوں نے ان کو اقتدار میں لا کر غلطی کی تو پھر ان کی عزت ہو گی۔ یہ ریاست مدینہ نہیں ہے بلکہ کوفہ ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این آر او اب تمھاری ضرورت ہو گی۔ کہتا ہے کہ ایک سال میں ایک کروڑ نوکریاں دوں گا۔ ان کے مطابق یہ تو 1947 سے لے کر آج تک نہیں ہوا۔ اب یہ کہتا ہے کہ بھنگ پیو، چرس پیو۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور میں آپ کا انکار کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا میں نے پہلے دن سے اس حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں۔ انھوں نے کہا یہ حکومت اب لوگوں کو بے روزگار کر رہی ہے۔ ریڈیو پاکستان اور پی آئی اے سے ملازمین کو نکالا گیا اور متعدد محکموں کے لوگ اسلام آباد کے ڈی چوک کا رخ کرتے اور چیخ و پکار کرتے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے لاپتہ افراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس معاملے میں مداخلت کا کہا ہے۔ انھوں نے ہیلری کلنٹن کے ایک حالیہ دنوں کے انٹرویو کے بارے میں کہا کہ انھوں نے بھی وضاحت کی کہ ڈیپ سٹیٹ ایک ایسی ریاست کو کہتے ہیں کہ جہاں ایجنسیوں کی لائی ہوئی حکومت ہو اور لوگوں کو لاپتہ کیا جائے مگر کوئی پوچھنے والا نہ ہو اور اس کے بعد انھوں نے کہا کہ جیسا کہ پاکستان۔ انھوں نے عوام کو باہر نکلنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ گھر بیٹھے آزادی نہیں ملا کرتی، اس کے لیے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق میرے نزدیک فوج کی حیثیت ایسی ہے جیسے آنکھوں کی پلکیں۔ یہ سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ صرف سرحدوں پر ہی ہوتی ہیں۔ جب ان پلکوں کا کوئی بال آنکھ میں آ جائے تو درد ہوتا ہے اور پھر اس بال کو نکالنا پڑتا ہے۔ ہمارا مذاق مت اڑاوں اور ہماری وفاداریوں کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھو۔
بلاول بھٹو نے جلسے سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آگے دو قدم بڑھ سکتے ہیں مگر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ میں شگر کے پہاڑوں سے آپ سے مخاطب ہوں۔ انھوں نے کہا کہ گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ کے بڑے جلسے کر کے آپ نے پوری دنیا کو بتا دیا ہے کہ عوام ایک طرف اور سیلیکٹڈ ایک طرف ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم ٹوٹ جائے ان کے لیے میرا واضح پیغام ہے کہ پیپلز پارٹی کبھی کسی اتحاد سے پیچھے نہیں ہٹی ہے۔ ہم آگے دو قدم بڑھ سکتے ہیں مگر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ بہادر عوام ہیں اور اپنے حقوق لینا جانتے ہیں۔ اپنے حقوق حاصل کرنے لیے اس صوبے نے خون دیا ہے خون۔ انھوں نے کہا بلوچستان کے عوام کا سر کٹ سکتا ہے مگر وہ کسی کے سامنے جھک نہیں سکتے۔ انھوں نے کہا کہ عوام اب آزادی چاہتی ہے۔ عوام اپنے وسائل کی آزادی چاہتے ہیں، بے روزگاری سے آزادی چاہتے ہیں، سوچنے کی آزادی چاہتے ہیں۔ یہ کس قسم کی آزادی ہے۔ جہاں نہ عوام آزاد، نہ سیاست، نہ صحافت آزاد نہ ہمارا عدلیہ آزاد. اس وقت سب جمہوری قوتیں ایک سٹیج اور ایک پیج پر ہیں۔ اب سب کو اس پیج پر آنا پڑے گا ورنہ اس سب کو گھر جانا پڑے گا۔ مشرف کے آمرانہ دور کے بعد جب صدر زرداری صدر بنے تو حقوق دیے گئے، مشرف اس ملک کے شہریوں کو اغوا کر کے دوسرے ملک کو بیچے۔ یہ جو غداری کا فتوی بانٹتا تھا وہ یہ سب کرتا تھا۔ وہ اب سرٹیفائیڈ قاتل اور غدار بن چکا ہے۔ بلاول بھٹو نے اکبر بگٹی اور اپنی ماں اور سابق وزیر اعظم بے نطیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار بھی پرویز مشرف کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قاتلوں کا سہولت کار بنا۔ ہم نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ہم نے صوبوں کو ان کا حق دیا ہے۔ ہم نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے خود مختاری کا وعدہ پورا کیا۔ انھوں نے کہا کہ آغاز حقوق بلوچستان ایک تاریخی قدم تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں انسانی حقوق سے متعلق قانون سازی کی ہے۔ سی پیک سے متعلق جو بڑی مشکل سے چار سال تک سی پیک کے لیے محنت کی۔ اس سے متعلق بہت مذاکرات ہوئے۔ یہ انقلابی منصوبہ ہے۔ آج جو سی پیک، سی پیک کہتے ہیں، اس کو گیم چینجر کہتے ہیں ان کو بلوچستان کو ترجیح دینا ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر سی پیک کا فائدہ بلوچستان کو نہ پہنچایا گیا تو اس سے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان نے تو آپ کو کوئی منصوبہ نہیں دیا ہے۔ وہ تو راتوں رات ایک آرڈیننس نکالتا ہے اور سندھ اور بلوچسان کے جزائر پر قبضہ کر لیتا ہے۔ ’یہ تباہی ہے تباہی، تبدیلی نہیں‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ تباہی ہے تباہی، تبدیلی نہیں،تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی، بے روزگاری۔۔ یہ ہے عمران خان اور ان کے سہولت کاروں کی تبدیلی۔ انھوں نے کہا کہ اس سیلیکٹڈ حکومت کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہا ہے۔ یہ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔ عوام غائب ہوتے ہیں اور عوام کو اغوا کیا جاتا ہے۔ اس پر میڈیا، عدلیہ اور نہ پارلیمان کچھ کر سکتا ہے۔ ان کے والدین سالہا سال دربدر پھر رہے ہیں مگر ریاست کچھ نہیں کر رہی ہے۔ اگر یہ ظلم چلتا رہتا ہے تو میرا نہیں خیال کہ یہ ملک اس ظلم کو برداشت کر سکے گا اور یہ ملک چل سکے گا۔ لاپتہ افراد کے ایشو کو ہمیشہ کے لیے ختم ہونا ہو گا تاکہ ہم اپنے آپ کو ایک جمہوری ملک کہلا سکیں۔
وہی آدمی جو نیب کا سربراہ ہے، جن کے نیب کی قید میں زیادہ لوگ فوت ہو چکے ہیں، گوانتاناموبے سے بھی زیادہ لوگ اس کی قید میں فوت ہوئے۔ وہ لاپتہ افراد کو انصاف دے گا۔ وہ آدمی جو آصف زرداری اور نواز شریف کو گرفتار کر کے ان کی بیٹیوں کو تکلیف پہنچاتا ہے کیا وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرا سکتا ہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ جس کی طرف پوری عوام انصاف کے لیے دیکھ رہی ہے وہ بھی اس کو سنجیدہ لے گی اور انصاف دلائیں گے۔ اسی عدلیہ نے خواجہ سعد رفیق کیس میں نیب کو سیاسی انتقام کا ادارہ قرار دیا، غیر آئینی ادارہ قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ وہ نیب کے مقدمات کو روزانہ سنا جائے۔ جو سپریم کورٹ یہ حکم دے سکتی ہے وہ سپریم کورٹ روزانہ کی بنیاد پر لاپتہ افراد کے مقدمات کو بھی روزانہ کی بنیاد پر سنے گا، وہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی کیس کو روزانہ کے بنیاد پر سنے گا۔ انھوں نے کہا ماضی میں ہماری عدلیہ نے آمروں کا ساتھ دیا، آمریت کا ساتھ دیا۔ اب ہمیں امید ہے کہ آج کی عدلیہ جمہوریت اور انصاف کا ساتھ دے گی۔ عمران خان کی یہ کوشش ہے کہ وہ اس ملک کے ہر ادارے کو اپنی ٹائیگر فورس میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے جیالے عمران خان کو ادارے تباہ نہیں کرنے دیں گے، ان اداروں کو ٹائیگر فورس نہیں بننے دیں گے۔ سندھ پولیس کو بھی ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کی، میں سلام پیش کرتا ہوں سندھ پولیس کو جنھوں نے انکار کر دیا۔ عمران خان چاہتا ہے کہ آئی ایس آئی کو بھی ٹائیگر فورس بنانا چاہتا ہے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ تو ہماری فوج کو بھی ٹائیگر فورس میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ یہ عدلیہ کو بھی اپنا ساتھ ملانے کی بات کر رہا تھا یہ اسے بھی ٹائیگر فورس بنانا چاہتا ہے۔ یہ پاکستان کے عوام کے ادارے ہیں، یہ ان کے ٹائیگر فورس نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان اداروں کو ہم تباہ نہیں ہونے دیں گے۔ محسن داوڑ پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے انھوں نے پوچھا کہ کیا اب دوسرے صوبے میں داخل ہونے کے لیے بھی ویزا لینا ہو گا۔
مریم نوازنے کوئٹہ جلسے سے خطاب خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب تمھاری دو سال کی نہیں 72 سال کی محنت ضائع ہونے والی ہے. مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کے کچھ طلبا جن کو پنجاب کی یونیورسٹیوں میں سکالرشپ دیے انھوں نے میرا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق مجھے جتنے پنجاب کے طلبا عزیز ہیں اتنے ہی بلوچستان کے طلبا عزیز ہیں۔ وہ بچے بارہ دن سے سڑکوں پر رل رہے تھے مگر کسی کو ان پر کوئی رحم نہ آیا۔ امید کرتی ہوں کے ان کے سکالرشپ بحال ہوں گے۔ مجھ سے کسی صحافی نے ہوٹل میں مجھ سے یہ سوال پوچھا کہ آپ نے جو بلوچی لباس پہنا ہے اس سے آپ کیا پیغام دینا چاہتی ہیں تو میرا جواب تھا کہ جتنی محبت مجھے پنجاب کے لوگوں سے ہی اس سے بھی زیادہ محبت بلوچستان کے لوگوں سے ہے۔ انھوں نے کہا آج ہی مجھے ایک لڑکی حسیبہ کامرانی نے بتایا کہ ان کے تین جوان بھائیوں کو گھروں سے اٹھا لیا گیا اور تین سال ہو گئے ہیں کہ ان کا کچھ پتا نہیں ہے۔ اس نے اپنے موبائل فون میں ان تین بھائیوں کا سہارا تھا۔ مجھے آپ نے جیل میں ڈالا تو میری آنکھوں میں آنسو نہیں آیا، میری ماں مر گئی میری آنکھوں میں آنسو نہیں آئے، میرے باپ کو آپ نے دو بار جیل میں ڈالا، میری آنکھوں میں آنسو نہیں آئے مگر آج جب حسیبہ نے اپنے بھائیوں کی تصاویر دکھائیں تو میری آنکھوں میں آنسو آئے۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ راتوں رات باپ کے نام سے ایک پارٹی بنائی گئی، اس پارٹی نے ایک بچے کو جنم دیا اور اگلے ہی دن اسے وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا، مجھے ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ سالوں پہلے انسانیت سوز واقع یاد آ گیا۔ انھوں نے کہا کہ ہوٹل میں میرے کمرے کا دروازہ توڑا گیا۔ انھوں نے بلوچستان کے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ایسی روایات ہیں کہ ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟ انھوں نے اکبر بگٹی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے شیم شیم کے نعرے بھی لگوائے۔ جب پرویز مشرف کو عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تو وہ عدالت ہی ختم کر دی گئی۔ اس کے بعد پھر انھوں نے شیم شیم کے نعرے لگوائے۔ مریم نواز نے کہا مجھے آج قائد اعظم کو وہ الفاظ یاد آگئے کہ پالیسیاں بنانا آپ کا کام نہیں ہے۔ یہ عوامی نمائندوں کا کام ہے یہ کام انھیں ہی کرنے دیں۔ اس کے بعد انھوں نے پوچھا کہ کیا سیاست میں مداخلت بند ہوئی، کیا آئین کا احترام کیا گیا، کیا عوامی نمائندوں کا حکم مانا گیا۔ قائد اعظم کی روح بھی دیکھ رہی ہے کہ ان کی تلقین کو مٹی میں ملا دیا گیا۔ مریم نواز نے کسی شخصیت یا ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’اپنے حلف کی پاسداری کرو، سیاست سے دور ہو جاؤ، عوام کے نمائندوں کو حکمرانی کرنے دو، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکے مت ڈالو، حکومت کے اوپر حکومت مت بناؤ۔‘ انھوں نے کہا حاکم کے گریبان پر آپ کا نہیں کسی اور کا ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ آپ کو نہیں کسی اور کو جوابدہ ہوتا ہے۔ اسے ہٹانے اور بٹھانے کا اختیار آپ کے پاس نہیں کسی اور کے پاس ہوتا ہے۔ میں آپ کو اور کوئٹہ کے عوام کو مبارکباد پیش کرنا چاہتی ہوں، مجھے آج قاضی محمد عیسیٰ کی یاد آتی ہے جو قائد اعظم کا قریبی ساتھی تھا۔ آج اس کا قابل فخر بیٹا قاضی فیض عیسیٰ سپریم کورٹ کا جج ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے کہ یہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا۔ انھوں نے کہا کہ ججز کے خلاف اس سازش کے بعد عمران خان اور ان کی حکومت کو استعفی دینا چائیے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی انصاف دیجئے۔ جو سچ بولنے کی پاداش میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ تمھاری دو سال کی نہیں تمھاری 72 سال کی محنت ضائع ہونے کی ہے۔ اب عوام کی حاکمیت کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔
مجھے الف لیلیٰ کے ایک اور کردار کا نام یاد آ رہا ہے۔ اس کا نام ہے عاصم سلیم باجوہ، جو یہاں کا بادشاہ رہا ہے۔ وہ یہاں ووٹ کی عزت دو سے کھیلتا رہا ہے۔ وہ یہاں بھی سیاسی کرتب دکھاتا رہا ہے۔ وہ بھی ماں اور باپ کے نام سے سیاسی پارٹیاں بناتا رہا ہے۔ نوکری پیشہ ہونے کے باوجود آپ کے پاس اربوں کھربوں کے اثاثے کہاں سے آئے تو وہ چپ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ یہ پیزا کیا ہے تو وہ چپ، ہم پوچھتے ہیں کہ یہ نناویں کمپنیاں کہاں سے آئیں تو وہ چپ، ہم پوچھتے ہیں کہ آپ نے ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں جو جعل سازی کرائی تو ہو چپ۔ عاصم سلیم اب ایسا نہیں چلے گا۔ رسیدیں تو دکھانی ہوں گی۔ چیئرمین سی پیک کے عہدے سے بھی استعفی دو کیونکہ اربوں کھربوں کے منصوبے کا کام آپ جیسے داغدار شخص کے حوالے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اب یہاں غداری کے سرٹیفیکٹ نہیں بٹیں گے۔ اب یہاں سے گمشدگیاں نہیں ہوں گی۔ ہیلی کاپٹر سے آپریشن نہیں ہوں گے۔ کسی کو ووٹ کی عزت سے کھیلنے کا حوصلہ نہیں ہو گا۔
نواز شریف نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ووٹ کی عزت کوئی پامال نہیں کر سکے گا اور کوئی ووٹ کی عزت کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ جذبہ میں نے گوجرانوالہ، کراچی اور اب کوئٹہ میں دیکھا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’میرے بہنوں اور بھائیو اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔‘ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کے عوام ایک ہی قافلے کا حصہ بن گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ہم وطن آج بھی اٹھائے جار ہے ہیں۔ کوئی پتا نہیں انھیں آسمان کھا گیا یا زمین نکل گئی۔ انھوں نے کہا کہ دکھی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا ہے کہ کب تک یہ سب ہوتا رہے گا۔ ہماری طاقت اپنوں پر استعمال کی جاتی رہے گی۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انھیں علم ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو کس طرح کے مسائل کا سامنا رہا ہے اور اب وہ کن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انھوں نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آ چکا ہے۔ آٹا، چینی اور روٹی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نان بائی اب یہ احتجاج کر رہے ہیں کہ روٹی کی قیمت 30 روپے کی جائے۔ اشیائے خوردونوش کے علاوہ دواؤں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ نواز شریف کے مطابق غربت میں اضافے کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو موت کے منہ میں جاتے دیکھتے ہیں مگر انھیں دوائیاں لے کر نہیں دے سکتے۔ انھوں نے کہا پورا ملک کو تباہی کے دھانے پر دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم ان حالات کی طرف کیسے پہنچیں ہیں. کیوں 54 روپے سے چینی 110 روپے کی ہو گی۔ کیوں آٹا اتنا مہنگا ہو گیا اور کیوں اتنی زیادہ مہنگائی ہو گئی ہے۔ کیوں ترقی کرتا ہوا پاکستان آگے بڑھتا ہوا پاکستان برباد کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ کیوں کارخانے لگنا بند ہو گئے ہیں، کیوں موٹر وے بننا بند ہو گئے ہیں، کیوں پاکستان دنیا میں تنہا رہ گیا ہے، کیوں انڈیا کو کشمیر ہڑپ کرنے کی جرات ہوئی، کیوں سعودی عرب جیسا ہمارا دوست ہم سے دور ہو گیا ہے۔ آئین اور قانون مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں آڑے آ گئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انھیں نواز شریف کیوں پسند نہیں؟ کیونکہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیتا، وہ آپ کا منتخب نمائندہ ہے۔ پھر ایک لاحاصل تفتیش کے بعد فیصلہ ہوا کہ نواز شریف کو نااہل کردو۔ اسے عمر بھر کے لیے نااہل کردو۔ اس کے بھائی شہباز شریف، اس کی بیٹی مریم نواز اور مسلم لیگ کے ساتھیوں کو جیل بھیج دو۔ انھوں نے نواز شریف کو نشان عبرت بناتے بناتے ملک کو عبرت کا نشانہ بنا دیا۔
نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے انتخابات سے قبل زبردستی لوگوں کو پی ٹی آئی میں شامل کرایا، پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا اور آر ٹی ایس بند کرکے اپنی مرضی کے نتائج جاری کرنا شروع کردیے اور ایک نااہل اور نالائق شخص کو دھانددلی سے وزیر اعظم کی کرسی پر لا بٹھایا۔
کراچی کے جلسے سے گھبرا کر انھوں نے ہوٹل کے کمرے کو توڑا جہاں مریم نواز اور کیپٹن صفدر ٹھہرے ہوئے تھے۔ نہ روایات نہ قدریں، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ایک طرف اعلیٰ اخلاقی قدروں کی بات کرتے ہیں لیکن اب بھی وہ اس حکومت کا حصہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے میرے بیانے کو مزید تقویت دی کہ ’یہاں ریاست کے اوپر ایک اور ریاست قائم ہو چکی ہے۔‘ انھوں نے پوچھا کہ سیکٹر کمانڈر کون ہے، وہ کس کے حکم پر ایف آئی آر کٹواتا ہے، وہ کس کے حکم پر آئی جی اور ایڈشنل آئی جی کو اغوا کراتا ہے، جس کی خبر خود وزیر اعلیٰ کو بھی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اسی نا انصافی کے خلاف اٹھی ہے۔ پی ڈی ایم پاک فوج کے مقدس ادارے کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف اٹھی ہے. چند لوگ اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے آئین اور قانون توڑتے ہیں اور خود کو بچانے کے لیے نام فوج کا استعمال کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے فوج کا دور دور سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس سے بدنامی کس کی ہوتی ہے فوج کی ہوتی ہے۔ اسی لیے میں نام لے کر ان کرداروں کو ظاہر کرتا ہوں تاکہ اس کا دھبہ فوج پر نہ لگے، ملک پر یہ داغ نہ لگے۔ کارگل میں رسوائی کا فیصلہ فوج کا نہیں تھا، چند مفاد پرست جرنیلوں کا تھا۔ میرے بہادر سپائی دہائیاں دیتے رہے کہ خوراک نہیں تو ان پہاڑیوں پر اسلحہ تو بھجوائیں۔ کارگل آپریشن کے پیچھے وہی کردار تھے جنھوں نے اپنے گناؤں پر پردہ ڈالنے کے لیے 12 اکتوبر کو بغاوت کی اور مارشل لا نافذ کیا۔ میں ان افسران کو بھی بری الذمہ نہیں قرار دے رہا ہوں جنھوں نہ وزیر اعظم ہاؤس کے دیوار پھلانگی۔ یہ اتنے ہی قصور وار ہیں جتنے آرڈر دینے والے۔ انہی لوگوں نے اکبر بگٹی کو شہید کرایا، انہی لوگوں کو بے نظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے چند دن قبل اپنے قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے 12 مئی کو کراچی میں طاقت کا استعمال کیا. اس کے بدلے پرویز مشریف کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے پڑے ہیں مگر نیب سمیت کی کی ہمت نہیں کہ تحقیقات کرائیں۔ انھوں نے کہا کہ چند کرداروں نے میری حکومت کے خلاف دھرنے دلوائے۔ اب تمام سوالوں کے جواب قمر جاوید باجوہ کو دینے ہیں، جنرل فیض حمید کو دینا ہے۔ جنرل قمر باجوہ آپ کو دھاندلی اور اس حکومت کی تمام ناکامیوں کا حساب دینا ہے۔ اس قوم کو مہنگائی اور غربت کی طرف دھکیلنے کا حساب دینا ہے۔ جنرل فیض حمید آپ کو جواب دینا ہے کہ کیوں آپ نے ایک حاضر جواب جج کے گھر جا کر دباؤ ڈالا۔ کیوں اسے وقت سے پہلے اسے چیف جسٹس بننے کا کہا۔ کیوں آپ نے نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن تک جیل میں رکھنے کا کہا۔ آپ کی کون سی دو سال کی محنت ضائع ہو رہی تھی۔ آپ نے تو آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا تھا۔ آپ نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا حلف اٹھایا تھا پھر کیوں آپ نے ایسا کیا۔ کیا آپ فیض آباد دھرنے کے ذمہ دار نہیں۔ سپریم کورٹ نے آپ کے خلاف کیا فیصلہ دیا۔ اس کے باوجود آپ کو لیفٹیننٹ جنرل کے عظیم الشان عہدے پر ترقی ملی اور آئی ایس آئی کے چیف بنے۔ آپ نے بے دھڑک سیاست میں مداخلت کی۔ اگر یہی توانائی آپ نے اپنے کام پر خرچ کی ہوتی تو ہمارے کشمیری بھائی اس مشکل میں ہی نہ ہوتے جو وہ آج ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان ہمارا مقابلہ تمھارے ساتھ نہیں ہے۔ ہمارا مقابلہ تمھیں لانے والوں سے ہے۔ تمھیں ثاقب نثار کا این آر او نہیں بچا سکے گا۔ انھوں نے کہا تمھاری فارن فنڈنگ کیس جیل بھیجے گی۔ یہ پرویز مشرف اور چند ساتھی تھے جنھوں نے فوج کا نام استعمال کیا بلکہ بدنام کیا۔ میرے فوجی بھائیوں آئین کی تابعداری کا حلف سب سے اہم ہے۔ جہاں آئین شکنی شروع ہوتی ہے وہاں ظلم شروع ہو جاتا ہے۔ اپنے حلف کی پاسداری کیجیے۔ اپنے آپ کو متنازع ہونے سے بچائیے۔ سول سرونٹ کے نام میرا پیغام ہے کہ جس طرح سندھ کے پولیس افسران نے غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کیا اسی طرح میں سب سول سرونٹس کو گزارش کرتا ہوں کہ کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنا فریضہ انجام دینا چائیے۔ میرا عوام کے نام پیغام ہے کہ میرے بہنوں اور بھائیو یہ فوج آپ کی ہے، اسے عزت دی جائے۔ مگر جہاں معاملہ آئین کی پاسداری کا آجائے تو پھر کوئی سمجھوتہ نہ کیجیے۔ کوئی فوج اپنی عوام سے نہیں لڑ سکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button