اسٹیبلشمنٹ سے ڈائیلاگ کا حتمی فیصلہ PDM قیادت کرے گی

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا پی ڈی ایم کامشترکہ فیصلہ ہوگا، کسی ایک جماعت کا نہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اصلاحات کی طرف جانے کےلیے ذمہ دار ہی سے بات کرنی ہوگی، بلاول اور مریم کے الفاظ میں تعبیر کا فرق ہوسکتا ہے مگر دھاندلی کے ذمہ دار کا نہیں۔فضل الرحمان نے کہا کہ کچھ لوگ شخصیات کا نام لینے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ اس سے ادارے کا تاثر بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات ہوئے تو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہوں گے، بلاول اور مریم کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں، موجودہ حکومت کا دھاندلی کی پیداوار ہونے پر دونوں کا اتفاق ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ آئی جی سندھ واقعے پر انکوائری میں مثبت پہلو بھی ہے، ٹرمپ ہٹ گیا مودی اور عمران کا وقت بھی آنے والا ہے، حکومتی جلسوں سے کورونا نہیں پھیلتا تو اپوزیشن کے جلسوں سے بھی نہیں پھیلے گا، پی ڈی ایم کے جلسے ہر صورت ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای پیسے واپس مانگ رہے ہیں،خارجہ پالیسی تباہ ہوچکی، دونوں حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر پشیمان ہیں، اسٹیبلشمنٹ سے بات پی ڈی ایم فورم پر ہوگی، مریم نواز اوربلاول کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ کی وفات پر دل کی گہرائی سے اظہار تعزیت کرتا ہوں ، اسی طرح ڈی آئی خان میں نہر میں ڈوبنے سے 24 لوگ انتقال کرگئے ہیں، یہ بڑا سانحہ ہے، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستا ن میں جو الیکشن ہورہے ہیں اور ننگے انداز کے ساتھ پری پول دھاندلی ہورہی ہے اور الیکشن کمیشن بے بس ہے، وفاقی وزراء انتخابی مہم چلا رہے ہیں ، انتخابی قواعدوضوابط کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں، ہزاروں گندم کی بوریاں جن پر عمران خان کی تصاویر لگی ہوئی ہیں، آٹا تقسیم کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماقت یہ ہے کہ ایک امیدوار کو باقاعدہ تحریری طور پر نوٹس دیا جاتا ہے آپ آئندہ میرے مشیر ہوں گے۔ یہ عوام کے ووٹ پر دن دیہاڑے ڈاکہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک حلقے میں کل سرکاری ووٹ سات سو ہیں، لیکن پوسٹل بیلٹ ایک ہزار 751جاری کیے گئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ وہاں عوام ، الیکشن کمیشن کا امتحان ہے، وہ کس طرح ان حربوں کو روکتے ہیں،ہماری ایجنسیوں کا اعتماد خراب ہوچکا ہے، ابھی وہ 2018کے انتخابات کا دھبہ نہیں دھو سکے، اب ا ن کے سامنے یہ سب کچھ ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو سبز باغ دکھائے لیکن عوام کو جہنم کی طرف دھکیل دیا ہے۔ باشعور عوام سوچیں یہ وقت ان لوگوں پر اعتما دکرنے کا نہیں ہے، جعلی سروے شائع کیے جارہے ہیں۔ جہاں تک گلگت بلتستان کا تعلق ہے، گلگت بلتستان 1949ء کی قراردادوں سے وابستہ مسئلہ ہے، ہم گلگت اورکشمیریوں کو بھی پاکستانی سمجھتے ہیں، ہمارے دل ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم جتنے مراعات گلگت بلتستان اور کشمیر کو دے سکیں،ہم اس کے علمبردار ہیں، مگر مسئلہ کشمیر ایک اصولی مئوقف ہے، اس کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان جب بھی کوئی بات کرتا ہے بونگی مار دیتا ہے کہتا ہے میں نے اپنے بہنوئی کے پلاٹ کا قبضہ لینا تھا تو پھر میں فلاں ایس ایس پی کو لگایا ، کیا پولیس آفیسر پلاٹوں کے قبضے چھڑوانے کیلئے لگائے جاتے ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی کی پیداوار کو موقع مل گیا ہے، جتنا کھا سکتے ہیں وہ کھا ئیں، وہ ملک کے امیج کو خراب کریں، خارجہ پالیسی تباہ ہوچکی ہے، سعودی عرب ناراض ہے،اس نے جو تعاون کیا تھا وہ پشیمان ہے، سعودی عرب اور یو اے ای پیسے واپس مانگ رہا ہے کہ ہم نے پیسے کس کے حوالے کردیے ہیں، یہ تو اپنے پیسے ڈبو رہا ہے، ہمارے پیسے بھی ڈبو دے گا۔ان جعلی حکمرانوں سے قوم کو نجات دلائیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ الفاظ کی تعبیر ہے، اس میں اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن کسی پارٹی کا دھاندلی پر اختلاف نہیں ہے، مشکل یہ ہے کہ کچھ شخصیات کے پیچھے اداروں کا بھی تصور ہوتا ہے، اسی لیے بعض سیاستدان نام لے دیتے ہیں اور بعض نہیں لیتے۔مریم نواز اوربلاول کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں۔مذاکرات کا فیصلہ پی ڈی ایم کرے گا، موجودہ حکومت کولانے والی فوج ہے، قوم پر مسلط کرنے کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہے، جو ذمہ دار ہے جب اصلاحات کی طرف جائیں گے تو اصولی مئوقف کو برقرار رکھتے ہوئے ذمہ داروں سے بات کریں گے کہ سیاست میں حصہ نہیں لینا۔ انھوں نے کہا کہ کراچی واقعے کی انکوائری کے بارے میں ذمہ داروں کا تعین ، عہدوں سے ہٹا، مقدمہ چلانا رپورٹ کا مثبت پہلوہے، لیکن جو بیک گراؤنڈ بتایا گیا اس کا مذاق اڑایا جارہا ہے
