اسٹیبلشمنٹ نے اپنے بنائے ہوئے الطاف حسین کو فارغ کیوں کیا؟


گذشتہ 20 برسوں سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے الطاف حسین اور اس کی فاشسٹ جماعت ایم کیو ایم کو عروج بھی اُسی اسٹیبلشمنٹ نے عطا کیا تھا جس پر لعن طعن اور للکار نے اسے بدترین حالات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایم کیو ایم کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق اس عروج و زوال میں شخصیت پرستی، ذاتی انا، منفی تشخص اور آمرانہ طرزِ سیاست کا بھی اہم کردار ہے جس کے سحر سے ایم کیو ایم اور الطاف حسین دونوں ہی کبھی آزاد دکھائی نہیں دیئے۔
بلاشبہ الطاف حسین کے ہاتھ میں مضبوط ترین ہتھیار لسانی کارڈ تھا۔ اردو بولنے والے اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ اگر وہ تقسیم ہوگئے تو انکے حقوق سلب ہو جائیں گے۔ اسی خوف کا فائدہ الطاف اور اسکی ایم کیو ایم نے اٹھایا۔ الطاف حسین کو اندرونی اور بیرونی مقتدر قوتوں کی سرپرستی حاصل رہی۔ الطاف نے کراچی اور حیدر آباد کے اردو سپیکنگ عوام کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کیلئے مسلح ونگ تشکیل دیئے۔ ایم کیو ایم کی تنظیم سازی جمہوری اصولوں کے بجائے لشکری انداز پر کی گئی۔ کراچی کو سیکٹروں میں تقسیم کرکے سیکٹر انچارج مقرر کیے گئے اور ایک طرح کی متوازی حکومت قائم کردی گئی۔ بیرونی قوتوں کی خوشنودی اور ہوسِ زر کیلئے بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کا آغاز کیا گیا۔ الطاف نے اپنی جماعت کو ایک فاشسٹ تنظیم کی طرح چلایا گیا جس کا اصل مقصد اردو بولنے والوں کو لسانی خوف کے ساتھ جسمانی خوف میں بھی مبتلا رکھنا تھا۔ بیرونی مقصد یہ تھا کہ پاکستان کی معاشی شہہ رگ کو عدم استحکام کا شکار رکھا جائے۔
پاکستان کی ریاست نے مقبول عوامی لیڈروں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو جب چاہا سیاسی منظر سے ہٹا دیا کیونکہ وہ محب الوطن تھے اور الطاف حسین کی طرح بلیک میلرز نہیں تھے۔ انکے پاس عوامی طاقت تھی مگر ایم کیو ایم جیسی لشکری طاقت نہیں تھی۔ پھر وقت بدلا۔ 22 اگست 2016 کو ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی ایک تقریر ٹی وی چینلز پر نشر ہوئی جس میں اسنے جرنیلوں کے نام لے کر مغلظات بکیں۔ اسکی اس تقریر سے یہ طے ہوگیا کہ اب ملک کے سیاسی منظر نامے میں الطاف حسین اور اُس کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کی فی کوئی جگہ نہیں رہی۔ اسی روز تین نجی ٹی وی چینلز پر ایم کیو ایم کی جانب سے حملے بھی ہوے۔ اُن دنوں کراچی پریس کلب پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی بھوک ہڑتال بھی جاری تھی لیکن اس واقعے کے بعد جب ایم کیو ایم رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوا تو اُس وقت کے ڈپٹی کنوینر فارق ستار سمیت پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے الطاف حسین اور ان کی پاکستان مخالف تقریر سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔
الطاف کی اسٹیبلشمنٹ مخالف اس تقریر کے بعد نہ صرف ریاست کی جانب سے قائد تحریک کی تقاریر نشر و شائع کرنے پر پابندی عائد کردی گئی بلکہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے برطانوی حکومت کو ایک ریفرنس بھی بھیجا گیا، جس میں بانی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ 23 اگست 2016 کو پاکستان رینجرز نے الطاف کا عزیز آباد میں واقع نائن زیرو ہیڈ کوارٹر اور دیگر دفاتر سیل کر دیے جس کے بعد اب تک نہ تو متحدہ قومی موومنٹ سیاسی طور پر مستحکم ہو پائی ہے اور نہ ہی اس کے سیاسی قلعےکی روشنیاں بحال ہوسکی ہیں۔
اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد ایم کیو ایم کے ٹکڑے ہونے شروع ہو گئے حالانکہ یہ وہی جماعت تھی جو کسی زمانے میں ملک کی تیسری بڑی سیاسی پارٹی ہوتی تھی اور 1988 کے بعد پاکستان کے وفاق میں قائم ہونے والی کسی بھی حکومت کا ان کی حمایت کے بغیر قائم ہونا یا اپ ا وجود برقرار رکھنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ الطاف حسین اور اسکی ایم کیو ایم کو عروج بھی اُسی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عطا کیا تھا جس پر لعن طعن نے اسے زوال سے دوچار کر رکھا ہے، علاوہ ازیں اس عروج و زوال میں شخصیت پرستی، ذاتی انا، منفی تشخص اور آمرانہ طرزِ سیاست کا بھی ہے جس کے سحر سے ایم کیو ایم اور الطاف حسین دونوں ہی کبھی آزاد دکھائی نہیں دیے۔
گو کہ آج الطاف حسین کو ایم کیو ایم کا بانی قرار دیا جاتا ہے مگر ستر کی دہائی میں پاکستان کی سیاست کے عینی شاہدین کا ماننا ہے کہ دراصل جنرل ضیاء الحق نے اس لسانی جماعت کی بنیاد رکھی تاکہ پیپلزپارٹی کو پس منظر میں دھکیلا جا سکے۔ بعد ازاں جنرل اسلم بیگ نے مہاجر کنکشن پر ایم کیو ایم کو قومی سطح کی پارٹی بننے میں مدد فراہم کی جبکہ جنرل پرویز مشرف کا اردو شپیکنگ کنکشن اسے مزید طاقت بخشنے کا باعث بنا۔ مشرف دور ایم کیو ایم کے لئے انتہائی شاندارثابت ہوا لیکن جب الطاف نے اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے کی غلطی کی تو راندہ درگاہ قرار پایا اورآج اس جماعت کے حصے بخرے ہوچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button