الطاف حسین کے عروج و زوال کی مکمل کہانی


پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں پہلے بننے اور پھر مٹنے والے مہاجر قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین 17 ستمبر 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کمپری ہینسِو ہائی سکول عزیز آباد سے مکمل کی۔ 1970-71 کے درمیان الطاف حسین نے فوجی تربیت کا کورس کرنے کے لیے نیشنل سروس کیڈٹ سکیم میں شمولیت اختیار کی، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس فوجی تربیت کے فوراً بعد وہ خود بھی پاکستانی فوج کی بلوچ رجمنٹ میں شامل ہوگیا۔ 1974 میں میڈیکل کالج میں داخلہ نہ ملنے کے بعد الطاف حسین نے اسلامیہ سائنس کالج سے مائیکرو بیالوجی میں بی ایس سی کیا، پھر کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ فارمیسی میں داخلہ لیا جہاں 11 جون 1978 کو الطاف حسین اور اُس کے ساتھیوں نے آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن یا اے پی ایم ایس او قائم کی۔
کئی برس تک الطاف حسین اور ان کی نومولود تنظیم کو تعلیمی اداروں میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمیعت طلبہ کی مخالفت کا سامنا رہا۔ جب جمیعت کے تھنڈر سکواڈ نامی مسلح بازو نے یونیورسٹی سمیت قریباً تمام تعلیمی اداروں میں ان کا داخلہ بند کر دیا تو الطاف حسین نے موقف اپنایا کہ ہم جمیعت کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ اُن کے پیچھے جنرل ضیا الحق ہے یعنی اُن کے ساتھ ریاست کی طاقت ہے۔ تاہم پھر ضیاء الحق نے سندھ خصوصاً کراچی میں پیپلز پارٹی کو پیچھے دھکیلنے کے لیے الطاف حسین کے سرپردست شفقت رکھنے کا فیصلہ کیا۔ شہری سندھ کے احساسِ محرومی و مایوسی اور پرکشش نعروں کے سہارے ضیا جنتا کی سرپرستی میں الطاف نے آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھا۔ ضیا دور میں بلدیاتی انتخابات کے موقعے پر نمائندگی سے محروم عام لوگوں کو ایم کیو ایم کے ذریعے اپنی سیاسی نمائندگی کی امید نظر آنے لگی۔ ضیا نے بھی پیپلز پارٹی کو ٹھکانے لگانے کے لئے جماعت اسلامی کی جگہ مہاجروں کو آگے لانے کا فیصلہ کر لیا تھا، ایم کیو ایم نے ماحول کا فائدہ اٹھایا اور آٹھ اگست 1986 کو نشتر پارک میں ایک بڑا جلسہ کر کے طاقت کے مظاہرے کا فیصلہ کیا۔گلی محلّوں میں جلسوں اور مظاہروں کے ذریعے نشتر پارک کے جلسے کی زبردست تشہیر کی گئی۔ موسلا دھار بارش کے باوجود دو گھنٹے تک الطاف حسین نے شعلہ بیانی کی۔ کہتے ہیں کہ نشتر پارک جلسے کی کامیابی نے الطاف حسین کے لیے 1987 کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کی ایسی راہ ہموار کی جس کا اندازہ تو شاید خود الطاف اور اُس کی تنظیم کو بھی نہیں رہا ہوگا۔ ان انتخابات میں فقید المثال کامیابی کے نتیجے میں ایم کیو ایم نے تقریباً تمام نشستیں حاصل کیں اور ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم کے پہلے میئر منتخب ہوئے۔
1988 میں جب بہت طویل عرصے کے بعد ملک میں جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات ہوئے تو شہری سندھ پورا ایم کیو ایم اور دیہی سندھ مکمل طور پر پیپلز پارٹی کے حصے میں آیا اور دونوں جماعتوں نے مل کر صوبائی اور وفاقی حکومتیں تشکیل دیں۔مقبولیت کی اس انتہا پر الطاف حسین کی ایم کیو ایم بلا شرکت غیرے کراچی کے سیاسی، بلدیاتی، انتظامی اور مالی معاملات کی مالک بن گئی مگر یہ سیاسی اتحاد 1989 میں ختم ہوگیا۔17 اگست 1988 کو طیارے کے حادثے میں جنرل ضیا کی ہلاکت کے بعد کراچی سے تعلق رکھنے والے جنرل اسلم بیگ فوج کے سربراہ بنے مگر نو منتخب وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹّو سے اُن کے تعلقات کبھی بہتر دکھائی نہیں دیے۔اسلم بیگ کے زمانے میں بینظیر، الطاف حسین کی حمایت سے محروم ہوئیں اور پھر اکتوبر 1989 میں ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک سے بمشکل بچنے والی اُن کی حکومت اگست 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کر دی۔ بینظیر نے اس کا ذمہ دار فوجی اسٹیبلشمنٹ اور خاص طور پر خفیہ اداروں اور جنرل بیگ کو قرار دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ جنرل بیگ نے سیاسی قوتوں کو استعمال کر کے پیسے اور طاقت کے بل پر اُن کی حکومت ختم کروائی۔
ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ آفاق احمد کے بقول 1989 میں اسلم بیگ نے مہران بینک سکینڈل والے یونس حبیب کے گھر الطاف حسین، یوسف ایڈووکیٹ اور مجھ سے ملاقات میں کہا کہ بھئی، قومی دھارے کی سیاست کیجیے۔ اب آپ لسانی سیاست کو خیرباد کہہ دیجیے۔ آپ کا آگے مستقبل ہے۔ جنرل بیگ کی اس بات پر الطاف حسین نے رسماً کہا کہ جناب، ہمارے پاس اتنے وسائل اسلم بیگ نے یونس حبیب سے کہا اور یونس حبیب نے فوراً پیسے دے دیئے۔آفاق احمد کے بقول مہاجر کاز چھوڑ کر قومی دھارے کی سیاست کے لئے رضامندی ظاہر کرنے کی وجہ سے الطاف کے ساتھ اس کا پہلی بار اختلاف ہوا۔
تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ فوجی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی کے مقابلے پر اپنے حامیوں پر مشتمل حزب اختلاف کا بلاک قائم رکھنا چاہتی تھی۔جنرل بیگ کے زمانے میں ہی پیپلز پارٹی کے سابق رہنما غلام مصطفیٰ جتوئی اور دیگر کو ملا کر متحدہ اپوزیشن پارٹی بنوائی گئی۔ ملک بھر میں اس کے جلسے ہوئے اور کراچی میں تو شاہراہ قائدین پر بہت ہی بڑا جلسہ ہوا جس میں الطاف حسین کا جادو بھی بولتا دکھائی دیا۔ بعد میں جتوئی صاحب نے تسلیم کیا کہ اسلم بیگ صدر بننا چاہتے تھے اور جتوئی صاحب کو تاثر تھا کہ وزیراعظم وہ ہوں گے۔جب صدر غلام اسحاق خان نے اسلم بیگ کو بطور آرمی چیف مدّتِ ملازمت میں توسیع نہیں دی تو فوجی قیادت تبدیل ہوئی اور جنرل آصف نواز جنجوعہ فوجی سربراہ مقرر ہوئے۔اُس وقت تک اپنی پارلیمانی طاقت کے بل پر کھڑی الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو اپنی سیاسی اہمیت اور طاقت کا اندازہ تو ہو چکا تھا مگر اس کے اصل منبع یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کا اندازہ لگانے میں شاید کہیں چوک ہوگئی۔
الطاف حسین اور ایم کیو ایم نے علاقائی کنٹرول کی پالیسی اپنا لی۔ طاقت کے بل پر علاقوں کو اپنی گرفت میں رکھنے کی کوششوں میں کئی فاش غلطیاں کیں۔ ان میں فوج کے میجر کلیم کو لانڈھی میں اغوا کرنے کی غلطی بھی شامل تھی۔ الطاف اس قدر اوقات سے باہر ہوگیا تھا کہ ایک بار اسے آرمی چیف جنرل آصف نواز کی فون کال آئی تو الطاف نے خود بات کرنے کی بجائے عمران فاروق کو کہا کہ تم بات کر لو۔ انھوں نے جب جنرل آصف نواز کو بتایا کہ الطاف بھائی مصروف ہیں، آپ مجھے بتائیں تو جنرل آصف نواز آگ بگولہ ہوگئے اور انھوں نے فون بند کر دیا۔اکتوبر 1990 کے انتخابات ہوئے اور نواز شریف کی قیادت میں مرکز میں اسلامی جمہوری اتحاد نے کامیابی حاصل کی تو الطاف حسین کی ایم کیو ایم نے نواز شریف حکومت میں شمولیت اختیار کر لی۔پیپلزپارٹی کے کھلے دشمن جام صادق، نواز شریف اور الطاف حسین 1990 میں ایک جلسے کے دوران سٹیج پر ایک ساتھ بیٹھے نظر آئے۔ سیاسی طاقت کے بل پر ایم کیو ایم اُس وقت تک اتنی مضبوط ہوچکی تھی کہ شہر اور پولیس جیسے ریاستی اداروں کا کنٹرول سنبھالنے کی کوششیں بھی کی جانے لگیں اور بلدیہ، سندھ حکومت کے معاملات میں الجھنے کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں سے بھی دانستہ یا غیردانستہ مُڈ بھیڑ کی نوبت آنے لگی۔ پولیس، عدالتی نظام اور شہریوں کی جانب سے اس سب پر ہلکی پھلکی موسیقی بھی شروع ہو چکی تھی۔ کئی ایم کیو ایم رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ایسی شکایات بڑھنے پر تنظیمی نظم و ضبط حرکت میں آیا اور مقامی و علاقائی تبدیلیوں کا آغاز ہوا۔اسی کوشش کے دوران اُس وقت کے دونوں اور طاقتور مرکزی جوائنٹ سیکریٹریز آفاق احمد اور عامر خان کو بھی تبدیل کیا گیا۔1991 میں آفاق احمد اور عامر خان کو جماعت سے خارج کر کے سارا تنظیمی ڈھانچہ توڑ دیا گیا اور سینکڑوں کارکنوں کی رکنیت معطل کر دی گئی۔ ایم کیو ایم سے نکالے جانے والے یہ دونوں رہنما اور ان کے کئی حامی یا تنظیمی کارکنان و عہدیدار شہر سے چلے گئے یا روپوش ہوگئے۔یہ ایم کیو ایم میں تب تک کی سب سے بڑی بغاوت تھی۔
ایم کیو ایم میں جرائم پیشہ عناصر کے در آنے کی ایسی ہی اطلاعات پر جنرل آصف نواز کی قیادت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف حکومت کو کارروائی کے لیے فوجی آپریشن کا مشورہ دیا، جو بعد میں آپریشن کلین اپ کی نام سے جاری رہا۔ نومبر 1991 میں وزیر اعلیٰ سندھ جام صادق علی نے الطاف حسین کو اطلاع دی کہ کوئی بڑا آپریشن ہونے والا ہے اور بہتر ہے کہ آپ ملک سے چلے جائیں۔ جام صادق کے مشورے پر الطاف حسین لندن بھاگ گیا۔ بالآخر19 جون 1992 کو کراچی آپریشن شروع ہوا، جس کی ایم کیو ایم نے بھی حمایت کی لیکن جب آفاق اور عامر خان کی ری انٹری ہوئی تو ایم کیو ایم کو اندازہ ہوا کہ جرائم پیشہ افراد کے بجائے انھیں ہدف بنا لیا گیا ہے۔ اس وقت معاملے نے دوسرا رخ اختیار کیا اور واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ آفاق اور عامر کی قیادت میں بننے والی ایم کیو ایم حقیقی کو خفیہ اداروں کی پشت پناہی حاصل رہی۔لندن میں بیٹھے الطاف حسین کی ایم کیو ایم نے اپنے خلاف اسی یکطرفہ کارروائی کی بنیاد پر احتجاجاً حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ایک طرف پارٹی اور کارکنان آپریشن کے دوران ریاست سے ایک طرح حالتِ جنگ میں تھے تو دوسری جانب قیادت سے رابطہ ٹوٹ جانے کی وجہ سے رہنمائی سے محروم۔جب کارکنان اور تنظیم کو الطاف حسین کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تب اُس تک رسائی اور پہنچ سب سے زیادہ مشکل رہی۔ اس سے صرف کارکنوں کو نہیں بلکہ الطاف حسین کو بھی نقصان ہوا۔الطاف حسین اور اس کی جماعت نے 1993 میں بطور احتجاج قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تاہم صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے پر رضامند ہوگئی، جس کے نتیجے میں وہ کراچی کی طاقت ور جماعت بن کر سامنے آئی۔اسی برس جماعت کا نام مہاجر قومی موومنٹ سے بدل کر متحدہ قومی موومنٹ رکھ دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق الطاف حسین کی شخصیت دو حصوں میں منقسم رہی۔ ایک وہ عوامی شخصیت جو 1986 سے 2000 کے اوائل تک دنیا کے سامنے رہی اور دوسری وہ جو گذشتہ 20 برس سے اب تک ہے۔ شخصیت کے یہ دونوں رخ ایک دوسرے کے برعکس ہیں، بالکل مختلف۔پہلے دور کا الطاف حسین بہت مضبوط اور عوام سے جڑا ہوا رہنما تھا جسے تنظیم پر مکمل کنٹرول حاصل تھا جبکہ سنہ 2000 کے بعد الطاف حسین کمزور بیمار اور مجبور ہو گیا تھا۔لندن پہنچنے پر الطاف حسین کا واسطہ محمد انور سے پڑا۔یہ وہی محمد انور تھا جو پارٹی میں ترقی کر کے الطاف حسین کے بعد لندن سیٹ اپ میں نمبر ون کی پوزیشن تک پہنچا، الطاف حسین کے ساتھ منی لانڈرنگ یا ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل جیسے مقدمات میں بھی بطور شریک ملزم سامنے آیا۔اسی دوران پاکستان میں جنرل عبدالوحید کاکڑ نے کراچی آپریشن ختم کرنے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں الطاف حسین کی ایم کیو ایم بینظیر اور نواز شریف کی مختلف حکومتوں میں کم از کم پانچ بار شریک رہی۔12 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا اور فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔مشرف کا پورا دور 2007 تک ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا آئیڈیل ترین دور تھا۔مشرف کے ساتھ الطاف حسین کا تین نکاتی معاہدہ ہوا۔۔۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ شہری سندھ کے تمام انتظامی اختیارات گورنر کے پاس ہوں گے۔ اگرچہ سرکاری طور پر ایسا کرنا ممکن نہیں تھا تاہم وزیر اعلیٰ ارباب رحیم کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ بنائی گئی اور ڈاکٹر عشرت العباد طویل عرصے تک ان خصوصی اختیارات کے ساتھ گورنر سندھ رہے۔مشرف نے ایم کیو ایم کی صحیح اور غلط، ہر بات مانی۔ اس کے بدلے میں ایم کیو ایم نے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کی سندھ اور وفاق میں حکومت سازی کے لیے کبھی حمایت نہیں کی۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کے سیاسی عزائم تھے اور اُن کی تکمیل کے لیے انھیں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی سیاسی حمایت کی ضرورت تھی۔ لہٰذا ایم کیو ایم کی صحیح اور غلط، ہر بات مانی جاتی رہی یوں پولیس سمیت اربن سندھ کے تمام اداروں کے سربراہان اور افسران کی تعیناتی سے لے کر بلدیاتی نظام کا ڈھانچہ تبدیل کرنے اور فنڈز فراہم کرنے کی شرائط، سب کی سب مانی جاتی رہیں۔مشرف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا ایک اور نکتہ یہ بھی تھا کہ آفاق احمد اور عامر خان کو یا تو ملک سے باہر بھیج دیا جائے گا یا پھر جیل میں بند رکھا جائے اور بیت الحمزہ سمیت حقیقی کے تمام دفاتر ختم کیے جائیں۔اس کی بدولت دونوں رہنما لگ بھگ آٹھ برس جیل میں رکھے گئے، لانڈھی میں حقیقی کا مرکزی دفتر مسمار کر دیا گیا۔اس کے بدلے میں ایم کیو ایم نے جنرل مشرف کے مخالفین یعنی نواز شریف اور بینظیر بھٹّو کی سندھ اور وفاق میں حکومت سازی کے لیے کبھی حمایت نہیں کی۔تاہم سُکھ کے اِس زمانے میں پارٹی میں اندرونی تبدیلی اور بیرونی مسائل سامنے آئے۔
لندن میں بیٹھے الطاف حسین نے ندیم نصرت کو امریکہ سے واپس بلایا اور یہ بات محمد انور اور بہت سے دیگر رہنماؤں کو پسند نہیں آئی۔کراچی اور لندن میں اِن تبدیلیوں نے پارٹی میں نئی مگر خفیہ دھڑ بندی کو تیز کر دیا۔عامر خان اور آفاق احمد کو الطاف حسین کے کہنے پر مشرف دور میں کئی سال جیل میں رکھا گیا لیکن بعد میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد وہ الطاف حسین کی قیادت میں ہی ایک بار پھر ایم کیو ایم میں شامل ہوگئے۔پارٹی کے عہدیدار تیزی سے تبدیل کئے جانے لگے اور نئے نئے واپس آنے والے رہنماؤں عامر خان اور ندیم نصرت کی رائے کو اہمیت ملنے لگی۔ان فیصلوں پر ناراض کارکنوں نے اپنے ساتھیوں کی تنظیمی خلاف ورزیوں، سرکاری اداروں سے متعلق مالی بدعنوانیوں اور دیگر بگڑتے معاملات پر پہلی دبے لفظوں پارٹی کے اندر اور پھر کھلے عام سماجی محافل اور سیاسی بیٹھکوں میں اعتراض کرنا شروع کیا مگر الطاف بے خبر رہا۔ لندن اور کراچی ان تبدیلیوں سے گزر ہی رہے تھے کہ جنرل مشرف نے الطاف حسین کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان واپس آ جائے۔ تاہم ایم کیو ایم کے کئی رہنماؤں نے وطن واپسی پر قتل ہو جانے کے خدشات ظاہر کر کے الطاف حسین کو لندن میں ہی رہنے کا مشورہ دیا۔ وجہ یہ تھی کہ ہر سطح پر نئے عہدیدار نہیں چاہتے تھے کہ الطاف حسین کراچی آئے اور تنظیمی خلاف ورزیوں یا مالی بدعنوانی کی معاملات سے واقف ہو کر ان میں ملوث عناصر کے خلاف کوئی انتہائی قدم اٹھائے۔
اسی دوران مشرف کی حمایت میں کراچی میں ایم کیو ایم کے ہاتھوں 12 مئی 2007 کا واقعہ ہوا جس میں درجنوں افر قتل ہو گئے۔ اسکے بعد لندن میں الطاف حسین کی سالگرہ کے دن عمران فاروق کی قتل کی واردات بھی ہو گئی۔ اس وقت تک عمران فاروق لطاف حسین سے علیحدگی اختیار کر چکے تھے اور یہ افواہ تھی کہ وہ اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھنے والے ہیں۔ لیکن ایک اور بڑی گڑبڑ تب ہوئی جب 2007 میں بینظیر بھٹو کا قتل ہوا اور 2008 کے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کرنے والے آصف زرداری نے جنرل مشرف کو ایوان صدر سے رخصت کیا اور خود صدر بن گئے۔ جنرل مشرف کا جانا الطاف حسین کے لیے گھبرانے والا موقع تھا کیونکہ زرداری کو نہ تو الطاف کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی وہ اس کے خواہشمند تھے۔پھر ذوالفقار مرزا کارڈ استعمال ہوا اور ایم کیو ایم کے ہنی مون کا اختتام ہوتا نظر آیا۔ پیپلز پارٹی میں موجود رحمان ملک جیسے لوگوں کی کوششوں سے ایم کیو ایم نے حکومت سے رابطے تو قائم کر لیے مگر الطاف حسین کا یہ فیصلہ بھی پارٹی میں پسند نہیں کیا گیا۔ مگر مسئلہ وہی تھا، کوئی بھی الطاف کی مخالفت نہیں کرسکتا تھا۔
اب الطاف حسین کے لیے ہر طرح اور ہر طرف سے پریشان کن صورتحال پیدا ہوئیں۔حکومت میں شمولیت کے بغیر ایم کیو ایم کی بقا کا مسئلہ، پے در پے فیصلوں کی ناکامی یا غیر مقبولیت، پارٹی میں دھڑ بندی، سکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے عمران فاروق قتل کی تفتیش کے دوران منی لانڈرنگ کیس کا ابھر آنا، بھارتی خفیہ اداروں سے رابطوں کا انکشاف اور اعتراف، لندن میں قیام کی وجہ سے پارٹی پر ڈھیلی پڑتی گرفت اور کراچی سے آنے والی مالی بدعنوانی میں ساتھیوں کے ملوث ہونے کی شکایات۔۔۔ کتنا کچھ تھا۔اس سب نے مل کر الطاف کو شدید عدم تحفظ کا شکار بنا دیا۔ تب مالطاف حسین کی شخصیت کا دوسرا روپ ابھر کر سامنے آیا یعنی کمپرومائزڈ، ذہنی طور پر منتشر اور مغلوب، نہ وہ کر و فر نہ وہ طمطراق، نہ وہ پہلی سی رمق۔۔۔۔اس دوسرے دور میں کبھی کبھی تو ایسا لگتا کہ وہ نفسیاتی مریض ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی طور پر کثرت شراب نوشی، گردوں کی بیماری، بدترین ذیابیطس اور بےخوانی کے مرض کے الطاف کو کھوکھلا کر دیا۔ ٹی وی چینلز پر اپنے خلاف ہونے والی گفتگو اور اُس کا پارٹی رہنماؤں کی جانب سے مناسب دفاع نہ ہونے پر رہنماؤں سے الطاف کی ناراضی بڑھتی چلی گئی اور پھر بالآخر وہ خود موقع بے موقع تقریروں کے دوران بالکل دوسرے راستے پر جانا شروع ہوگیا۔ سنہ 2013 میں جنرل راحیل شریف کے زمانے میں آپریشن ردالفساد شروع ہوا اور مذہبی و فروارانہ شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز ہوا۔ ایم کیو ایم کو بھی بتایا گیا کہ کسی بھی قسم کی شدت پسندی یا عسکریت پسندی کی گنجائش نہیں لیکن ذہنی امراض، دباؤ، مایوسی اور ناکامیوں کا شکار الطاف اس نئے آپریشن کو سمجھ ہی نہیں سکا۔جب بعض مواقع پر گورنر عشرت العباد کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نظر انداز کیا گیا تب جا کر الطاف حسین کو معاملات کی سنگینی کا احساس ہونا شروع ہوا۔
ایم کیو ایم کے ایک رہنما کے مطابق الطاف بھائی گھر جا کر اپنی مرضی سے اور کسی مشورے کے بغیر کارکنان یا ٹی وی سے خطاب شروع کر دیتے اور 22 اگست کی فوج مخالف تقریر بھی اپنے گھر سے ہی کی تھی جس کے بعد سے پاکستانی میڈیا پر اس کی تصویر دکھانے یا تقریر سنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی جو آج دن تک برقرار ہے۔ 22 اگست کے واقعے کے بعد الطاف کے پاکستان۔میں موجود ساتھیوں پر اتنا دباؤ آیا کہ انہوں نے اپنی ایم علیحدہ کر کے اپنے ہی سابق قائد کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد مذمت پیش کر دی۔ تب سے اب تک الطاف سیاسی منظر سے غائب ہے اور لندن میں زلت آمیز زندگی گزار رہا ہے۔ حال ہی میں ایک پاکستانی عدالت کے ہاتھوں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں مرکزی ملزم قرار دیے جانے کے بعد اب الطاف کو لندن میں ٹیکس چوری کے الزامات پر بھاری جرمانہ بھی ہو چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الطاف حسین کا اختتام کسی برطانوی جیل میں ہوتا ہے یا پاکستانی جیل میں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button