اسٹیبلشمنٹ نے کپتان کا بوجھ اٹھانا کیوں بند کیا؟
اسٹیبلشمنٹ
وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت کے تعلقات میں دراڑ آ جانے کے بعد اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت کو سیاسی لڑائیاں خود اپنے دم پر لڑنا ہوں گی اور اسٹیبلشمنٹ اب اسکے لیے مزید ٹربل شوٹنگ نہیں کرے گی۔ حکومت کے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات میں خلیج بڑھتی جا رہی ہے، جس وجہ سے اس کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لہذا حکومت کو ہائبرڈ حکومت پکارا جارہا تھا وہ اب بگڑتی گورننس اور سول فوجی قیادت میں بڑھتے تنازع کے باعث ہچکولے کھانا شروع ہو چکی ہے۔ اگرچہ ان دونوں کے تعلقات مکمل ٹوٹنے کی نہج تک نہیں پہنچے لیکن تناؤ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ بنیادی طور پر آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی پر پیدا ہونے والے تنازع نے وزیراعظم اور آرمی چیف کے تعلقات میں کڑواہٹ گھول کر نظام میں موجود طاقت کے ازلی عدم توازن کو واضح کردیا ہے۔ چنانچہ اب اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو سیاسی مشکلات سے نکالنے کے لیے اپنا کندھا دینا بند کر دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈان اخبار سے وابستہ سینئر صحافی زاہد حسین اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ ایک اور برس ضائع ہو گیا کیونکہ کچھ بھی تو ٹھیک نہیں ہوا۔ اگرچہ حکومت بدترمعاشی حالات میں بڑی حد تک اپنا سیاسی میدان گنوانے کے باوجود خود کو برقرار رکھنےبمیں کامیاب تو رہی لیکن نئے سال میں اس سے بھی زیادہ کڑا وقت سر پر آ سکتا ہے۔ انکا کہنا یے کہ جس وجہ سے عمران حکومت اب تک ٹکی ہوئی تھی وہ وجہ بھی اب ختم ہوتی جارہی ہے۔ لیکن باعثِ تشویش صرف تحریک انصاف کی مشکلات نہیں بلکہ آنے والے وقت میں ملک کو درپیش چیلنجز بھی ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے لیے نئے سال کا آغاز ترمیمی مالیاتی بل یا منی بجٹ کے معاملے سے ہو گا، جسے اتحادیوں میں بڑھتے اختلافات کے سائے میں پارلیمنٹ سے منظور کروانا ہوگا۔ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے لیے اٹھائے گئے غیرمقبول اور نہایت متنازع مالیاتی اقدامات کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومت کے اپنے حلقوں میں دراڑیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں حیران کن شکست نے اختلافات کو واضح کردیا ہے۔ اس انتخابی شکست نے اپوزیشن کو بھی حوصلہ بخشا ہے جو کہ مالیاتی بل کو روکنے کے لیے متحد نظر آتی ہے۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ بلاشبہ حکومت کے لیے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا یہ سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ اگر بل منظور نہیں ہوتا تو حکومت کی کمزوریاں مزید کھل کر سامنے آجائیں گی۔ حتیٰ کہ اگر حکومت پارلیمنٹ میں بل منظور کروا بھی لیتی ہے تو بھی ٹیکس سے جڑے اقدامات کے سنگین اقتصادی نتائج عوامی غم و غصے کو مزید بڑھائیں گے جو کہ مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی اپنے عروج پر ہے۔ یقیناً 2022ء میں یہ وزیراعظم عمران خان کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا اور پنجاب میں ان انتخابات کا اہم ترین مرحلہ بھی اگلے سال کی ابتدا میں شروع ہوگا تاہم حکومت خود کو ایک سیاسی بھنور میں گھری ہوئی محسوس کر رہی ہے۔ جہاں اندرونی اختلافات کی وجہ سے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے سے قاصر رہی وہیں پنجاب کے انتخابات میں تو اس سے بھی زیادہ مایوس کن نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ یہ بات تو سب پر عیاں ہے کہ پی ٹی آئی اپنا زیادہ تر میدان ملک کے سب سے بڑے اور طاقتور ترین صوبے میں اپنی ناقص کارکردگی کے باعث کھو چکی ہے۔ مگر وزیراعظم کا اپنے چنے ہوئے وزیراعلیٰ پر غیر متزلزل اعتماد قائم ہے۔ پارٹی کی نئی تنظیم سازی سے صورتحال میں تبدیلی کی زیادہ امید نہیں باندھی جاسکتی۔ مزید برآں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پارٹی کی گھٹتی مقبولیت کو مزید کم کیا ہے۔ عام انتخابات سے محض 18 ماہ قبل پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے پارٹی کے اعتماد کو مزید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ داخلی اختلافات اور دھچکے پہلے سے سکڑتے سیاسی میدان کو مزید متاثر کرسکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج آنے والے سال میں ملک کی سیاست کا نقشہ کھینچنے کے لیے کافی ہوں گے۔ کئی داخلی و بیرونی سیکیورٹی کے خطرات میں گھرے اس ملک کے لیے سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی بحران سب سے سنگین مسائل کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
بقول زاہد حسین، خارجہ پالیسی کے معاملے میں عمران خان کی حکومت ہمیشہ سے کمزور نظر آئی ہے۔ مقبول بیانیے کو سنجیدہ سفارت کاری کے متبادل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ذاتی وجوہات کی بنا پر دنیا کے اہم ترین دارالحکومتوں کے دوروں پر جانے میں وزیراعظم کی ہچکچاہٹ نے ہماری سفارتی رسائی کو کافی زیادہ متاثر کیا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد جیوپولیٹکس میں آنے والی غیرمعمولی تبدیلیوں اور جنگ زدہ ملک میں طالبان حکومت کی واپسی کی وجہ سے آئندہ برس پاکستانی حکومت کو خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی مسائل کے زبردست چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ افغانستان پر منڈلاتے اقتصادی زوال کے خطرے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کی بدترین صورتحال کے پاکستان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمارے لیے سب سے بڑی پریشانی کا باعث سیکیورٹی سے جڑے مسائل ہیں۔ سرحد پار افغان سرزمین پر موجود تحریک خونی طالبان کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے سیکیورٹی خطرات کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ کالعدم دہشت گرد تنظیم کا ہتھیار پھینکنے سے انکار کرنے کے بعد بھی افغان طالبان کی جانب سے اس کے خلاف کارروائی نہ کرنا قابلِ تشویش امر ہے۔ یوں لگتا ہے کہ افغانستان میں قدامت پسند حکومت کی واپسی سے سرحد پار موجود اپنے ٹھکانوں سے کارروائی کرنے والے دہشتگرد گروہ نے شے پائی ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں غیریقینی کی صورتحال کے باعث آنے والے برس میں صورتحال مزید بدتر ہوسکتی ہے۔ مگر یہ بات تو طے ہے کہ ملک کے لیے مذہب پر مبنی پُرتشدد انتہاپسندی ہی سب سے بڑا چیلنج رہے گی۔
