مساجد گرانے کا حکم دے کر سپریم کورٹ مشکل میں پھنس گئی

مساجد


کراچی کی مذہبی تنظیموں اور دینی رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے اس حکم کو مسترد کر دیا ہے کہ ملک بھر میں تمام غیر قانونی تجاوزات، بشمول مساجد، کو فوری طور پر گرا دیا جائے کیونکہ غیر قانونی طور پر تعمیر کردہ مساجد میں نماز جائز نہیں۔
اس فیصلے پر مذہبی تنظیمیں سخت مشتعل نظر آتی ہیں اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر عملدآمد کی کوئی کوشش ہوئی تو ملک میں خون خرابہ ہو سکتا ہے۔ مذہبی تنظیموں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جس جگہ مسجد بن جائے وہ قیامت کی صبح تک مسجد ہی رہتی ہے اور اسے کسی دوسری جگہ منتقل کرنا بھی شریعت کی رو سے جائز نہیں۔ انکا کہنا یے کہ جب غیر قانونی جگہوں پر بنی عمارتیں اسی سپریم کورٹ کے حکم پر ریگولرائز ہو سکتی ہیں تو مساجد کیوں نہیں ہو سکتیں؟
ان حالات میں کہا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ مساجد کو گرانے کے احکامات جاری کر کے ایک مشکل میں پھنس گئی ہے کیونکہ ان پر عمل درآمد کروانا تقریبا ناممکن نظر آتا ہے۔ جمیعت علمائے اسلام سندھ کے رہنما ڈاکٹر راشد محمود سومرو کا ایک ویڈیو خطاب سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں وہ اس فیصلے کی شدت کے ساتھ مخالفت کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کی لال مسجد سے منسلک شہدا فاؤنڈیشن نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور اسے غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف مذہبی طبقات کا نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام کا ہے اور اگر اس پر علمدرآمد ہوا تو ملک میں خون خرابہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر گرانا ہے تو بنی گالہ جیسی غیر قانونی تعمیرات کو گرائیں۔ اسلام آباد کے بڑے بڑے غیر قانونی پلازوں کو گرائیں، جن کو اسی سپریم کورٹ نے ریگورائز کیا ہے۔ راشد سومرو نے کہا کہ اگر کسی ایک بھی مسجد کو گرانے کی کوشش کی گئی تو پورے ملک میں مزاحمت کا طوفان اٹھ کھڑا ہو گا، جسے کوئی روک نہیں پائے گا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی کے طارق روڈ پر واقع مدینہ مسجد کو ختم کر کے پارک کی زمین بحال کرنے کے حکم کے بعد جمیعت علما اسلام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اس مسجد کو گرانے نہیں دیں چاہے سر دھڑ کی بازی لگانے پڑ جائے۔ جے یو آئی سندھ کے جنرل سیکرٹری مولانا راشد محمود سومرو نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’اگر کسی میں ہمت ہے تو مسجد گرا کر دیکھیں۔ اگر مسجد سلامت نہیں رہی تو آپ کے دفتر بھی سلامت نہیں رہیں گے۔‘ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی کی دو مساجد بشمول کڈنی ہل پارک کی الفتح مسجد اور طارق روڈ کی مدینہ مسجد کی تعمیر کے اجازت نامے منسوخ کرتے ہوئے عوامی پارک کی زمین پر بنی ان دونوں مساجد کو گرا کر عوامی پارک کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سندھ حکومت کو پارک بحال کر کے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے جس پر بھی عملدرآمد شروع نہیں ہو پایا۔
دوسری جانب سندھ حکومت ان مساجد کو فوری گرانے کے لیے سپریم کورٹ کے شدید تر دباؤ میں ہے ورنہ چیف جسٹس گلزار احمد دوبارہ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کو ہٹانے کا حکم دے سکتے ہیں۔ سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی جماعتوں کی بنیادیں بہت مضبوط ہیں۔ مساجد، مدارس اور مزارات کے بارے عدالت نے فیصلہ تو دے دیا ہے لیکن اس طرح کی غیر قانونی تعمیرات کو گرانا کسی بھی حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان سے وابستہ اسد بٹ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے حکومت ہو یا کوئی اور حکومت، وہ کسی بھی صورت میں غیر قانونی مساجد، مدارس یا مزارات کو گرانے کی بالکل کوشش نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کوشش کرے گی، تو سب مولوی ایک طرف اکٹھے ہو جائیں گے اور ملک انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ لہذا پیپلز پارٹی سمیت کوئی منتخب حکومت نہیں چاہے گی کہ وہ مساجد، مدارس اور مزارات کو گرائے۔ اس بٹ کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے بعد اعلیٰ عدلیہ پر ایک دباؤ آگیا ہے جس کے نتیجے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ بالکل غیر جانبدار ہے۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ مذہبی تنظیمیں کتنی طاقت ور ہیں۔
پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا میں کوئی مذہبی اسکالر نہیں ہوں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ آپ قبضے کی زمین پر مسجد نہیں بنا سکتے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ کراچی کی بہت ساری مساجد قبضے۔کی زمین پر ہی تعمیر کی گئی ہیں۔ لہذا اس مسئلے کو بات چیت سے حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں لائنز ایریا کے علاقے میں حکومت کچھ ترقیاتی کام کرنا چاہتی تھی۔ لیکن وہاں مسجد و امام بارگاہ بھی اس تعقیاتی کام کی وجہ سے منہدم ہونے تھے۔ چنانچہ ہم نے لوگوں سے بات چیت کی اور مسجد و امام بارگاہ کے لیے متبادل جگہ کی پیشکش کی اور یوں مسئلہ حل ہو گیا۔ اسطرح ان مساجد کا مسئلہ بھی بات چیت سے حل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس مسئلے پر تحقیق شروع کردی ہے۔ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بتایا کہ اس مسئلے پر سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شور مچ رہا ہے۔ لوگ سوالات بھی بھیج رہے ہیں اس لیے میں نے کونسل کے شعبہ تحقیق کو کہا ہے کہ وہ اس پر تحقیق کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کرانا بہت مشکل ہو گا کیونکہ اسکی سخت مزاحمت ہوگی اور مذہبی تنظیمیں اس کی بھر پور مخالفت کرینگی۔ ڈاکٹر قبلہ کا کہنا تھا کہ جس مسجد کا کراچی میں حوالہ دیا جارہا ہے اس میں صدر مملکت بھی نماز پڑھتے ہیں۔ لہذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکی تعمیر کی اجازت کس نے دی؟ بجلی اور دوسری سہولیات کس نے فراہم کی؟ ان سارے سوالات پر بات چیت ہونی چاہیے اور تحقیق ہونی چاہیے۔
پاکستان میں سرکاری سطح پر اس طرح کے اعدادوشمار نہیں کہ ملک میں مجموعی طور پر کتنی مساجد، مزارات یا مدارس غیر قانونی طور پر یا سرکاری زمین پر قائم ہوئے ہیں۔ لیکن کئی ناقدین کے خیال میں ایسی تعمیرات کی تعداد ہزاروں میں ہیں۔ کراچی پولیس کے سابق چیف طارق جمیل کے مطابق شہر میں تقریبا پانچ ہزار کے قریب مساجد اور امام بارگاہیں، جس میں نصف سے زیادہ قبضہ کی زمین پر قائم ہوئی ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ صرف کراچی تک محدود نہیں۔ صرف اسلام آباد کے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی میونسپل حدود میں 233 مساجد غیر قانونی ہیں۔ اسی طرح لاہور میں ایک ہزار سے زائد مساجد، مدارس اور مذہبی تعمیرات غیر قانونی طور پر بنائی گئی ہیں۔ ان تعمیرات کے خلاف عدالتیں حکم بھی دیتی رہی ہیں لیکن انہیں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مساجد گرانے کا رسک کوئی بھی نہیں لینا چاہتا کیونکہ اس عمل کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد اپنی احکامات پر عمل درآمد کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

Back to top button