بھارت نے پاکستانی سرحد پر میزائل سسٹم کیوں نصب کر دیا؟

بھارتی فوج کی جانب سے پنجاب کے بارڈر پر روسی ساختہ جدید ترین ایس 400 ٹرائمف میزائل سسٹم کی تنصیب نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ یاد رہے کہ روس نے بھارت کو یہ خطرناک ترین میزائل سسٹم پاکستان اور امریکہ کی بھرہور مخالفت کے باوجود مہیا کیا ہے لیکن ذیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ میزائل سسٹم دسمبر کے پہلے ہفتے میں بھارت پہنچنا شروع ہوا جسے دسمبر کے آخری ہفتے تک پاک بھارت بھارت سرحد پر نصب بھی کیا جا چکا ہے۔ یوں بھارتی فوج کے عزائم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے بھارت کو مہیا کیا جانے والا نیا میزائل سسٹم چھتری کی طرح کام کرتا ہے جو اسے دشمن کی طرف سے کسی بھی قسم کے فضائی خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ یہ میزائل سسٹم اسرائیل کے ’آئرن ڈوم‘ یا امریکہ کے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی طرح کام کرتا ہے، بلکہ ان سے بھی بہتر قرار دیا جا رہا ہے۔ ایس 400 ٹرائمف زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ہے جو 2007 سے روس کے زیرِ استعمال ہے۔ یہ 400 کلومیٹر دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سٹریٹیجک امور پر نظر رکھنے والے واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک دا سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے مطابق یہ سسٹم امریکی پیٹریاٹ میزائل نظام کا متبادل ہے۔ اسے روسی دفاعی ادارے الماز سینٹرل ڈیزائن بیورو نے تیار کیا ہے جو 1993 سے اس نظام پر کام کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے یہی ادارہ ایس 200 اور ایس 300 بنا چکا ہے، اس طرح ایس 400 کو اس میزائل سسٹم کی چوتھی جنریشن کہا جا سکتا ہے اور اسے طیاروں، ڈرون، کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل سمیت ہر قسم کے فضائی حملوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ میزائل نظام 250 کلومیٹر سے 400 کلومیٹر کے علاقے میں آنے والے فضائی حملوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ اس نظام میں 143 کلوگرام وزنی وار ہیڈ مواد نصب ہے جو آنے والے خطرات کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔
روس اس سے قبل یہ میزائل نظام چین اور ترکی کو بیچ چکا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے روس کے ساتھ 2018 میں کیے معاہدے کے تحت 5.43 ارب ڈالر مالیت سے یہ نظام خریدا تھا اور اسے تمام میزائل 2023 تک فراہم کر دیے جائیں گے۔چین کے پاس یہ میزائل نظام پہلے سے موجود ہے اور اس نے دو نظام بھارتی ریاستوں لداخ اور اروناچل پردیش کی سرحد کے قریب نصب کیے ہیں جب کہ ایک نظام تائیوان کے قریب لگایا ہے۔ تاہم بھارت نے پہلا میزائل سسٹم پنجاب کی سرحد پر نصب کیا یے جو کہ پاکستان کے لیے پریشان کن ہے۔
امریکہ نے بھارت کو روسی نظام خریدنے سے باز رکھنے کے لیے اسے تھاڈ یا پیٹریاٹ میں سے کوئی ایک نظام بیچنے کی پیشکش کی تھی مگر بھارت نے روسی نظام کو ترجیح دی۔ اس کے بعد سے ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارت پر پابندیاں لگانے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
ایس 400 کو امریکی میزائل نظام تھاڈ پر اس لحاظ سے برتری حاصل ہے کہ تھاڈ ایک جگہ فٹ کیا جاتا ہے جب کہ ایس 400 کو ہیوی ڈیوٹی 8 بائی 8 ٹرکس پر نصب کیا جاتا ہے جنہیں چلا کر کسی بھی علاقے میں لے جایا جا سکتا ہے۔ چوں کہ یہ سارا نظام موبائل ہے اس لیے جنگ کے زمانے میں اسے دشمن کی طرف سے آسانی سے نشانہ نہیں بنایا جا سکتا اور دشمن کی جانب سے خطرے کے پیشِ نظر ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اس کے مقابلے پر امریکی تھاڈ نظام طرف طویل مار کرنے والے میزائلز کے خلاف موثر ہے اور قریب سے فائر ہونے والے میزائلز کے علاوہ دشمن کے جنگی طیاروں کے خلاف بھی کام نہیں کرتا۔ مذید یہ کہ تھاڈ کی رینج بھی ایس 400 کے مقابلے میں آدھی ہے یعنی 150 سے 200 کلومیٹر۔ایک اور فرق یہ ہے کہ تھاڈ صرف ایک قسم کا میزائل فائر کر سکتا ہے جب کہ ایس 400 کے پاس کئی اقسام کے میزائل موجود ہیں جنہیں ہدف کی نوعیت کے لحاظ سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہر رفعت حسین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ایس 400 نظام کی تنصیب کا یہ مطلب ہے کہ بھارت مستقبل قریب میں کسی جارحیت کی تیاری کر رہا ہے تاکہ پاکستان کی جانب سے کسی جوابی کارروائی کا توڑ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ داخلہ امت شاہ اور وزیرِ دفاع راج ناتھ کی جانب سے حالیہ دنوں میں جارحانہ بیانات سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے کہا کہ نئے سال میں پاکستان سے ہونے والے دراندازیوں کا جواب دیا جائے گا۔ تو عین ممکن ہے کہ اس میزائل کی تنصیب اسی پروگرام کا حصہ ہو۔ جب رفعت حسین سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان بھی روس سے یہ میزائل نظام خریدنے کے بارے میں سوچ سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی موجود معاشی حالات میں پاکستان ایسا سوچ بھی سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو یہ نظام بہت مہنگا ہے اور پاکستان کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں، دوسری اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اگر پاکستان نے ایسا کیا تو اسے امریکہ سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کے چکر سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔رفعت حسین نے کہا کہ امریکہ نے بھارت پر بھی پابندیاں لگانے کی دھمکی دی رھی لیکن بھارت طاقتور ملک ہے، لہذا اول تو اس پر پابندیاں لگیں گی نہیں اور اگر لگیں بھی تو وہ ان کا مقابلہ کر سکتا ہے، لیکن پاکستان نہیں۔
