اسٹیبلشمنٹ کا مسلط کردہ ہائبرڈ نظام کیسے ناکام ہوا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاکستان کی داخلی سیاست اسوقت انتہائی منقسم ہے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا مسلط کردہ تحریک انصاف کا ہائبرڈ نظام بری طرح ناکام ہو چکا۔ یہ نظام حزب اختلاف کو ختم کرنے، میڈیا کی آزاد سلب کرنے اور الیکشن کمیشن جیسے ریاستی اداروں کے آئینی حقوق کو دبانے کی کوشش میں ایسے آمرانہ اختیار لینے کی خواہش رکھتا ہے جسکا کوئی احتساب نہ کر سکے۔ دوسری جانب حکومت کی بیڈ گورننس اور ناکام تر معاشی پالیسیوں کی وجہ سے اب ملک کو ایک سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے جو ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ لہذا اب حالات اتنے ابتر ہو چکے ہیں کہ گلیوں میں فسادات ہونے اور شورش پھوٹ پڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں نجم سیٹھی لکھتے ہیں کہ جب سے اس ہائبرڈ حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مسلسل گرا ہے۔ 2018 ء میں ڈالر کے نرخ 120 روپے تھے، اب ڈالر 170 روپے کا ہے۔ یعنی اس کی قیمت میں پچھلے تین برسوں میں پچاس روپے اضافہ ہوچکا ہے جس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو ہوشربا مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کرنسی کی قدر گرنے سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا۔ گزشتہ ماہ سے پاکستانی روپے کی قدر میں دس فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی، حالاں کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے اربوں ڈالر مارکیٹ میں پھینکے۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ منفی ہے اور رواں برس تیس بلین ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے۔
سیٹھی کہتے ہیں کی ایسے میں صرف آئی ایم ایف اور اس کے معاون مالیاتی ادارے ہی پاکستان کو بیل آؤٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن انہیں بھی واشنگٹن کی طرف سے گرین سگنل کی ضرورت ہے۔ اس دوران واشنگٹن اپنے دشمن ممالک چین، روس، اور ایران کے علاوہ دہرے رویہ رکھنے والے پاکستان کے حوالے سے بھی امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ حالیہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں کامیابی سے حوصلہ پاتے ہوئے پی ڈی ایم میں شامل اپوزیشن جماعتیں ملک کے طول و عرض میں احتجاج کرنے کے لیے کمر باندھ رہی ہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں حکومتی اقدامات سے مایوس وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا ساتھ بھی حاصل ہو جائے۔ اس دوران عدلیہ پر بنیادی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کے لیے کھڑے ہونے کے لیے عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس وقت موجودہ نظام کو صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن اس پر بھی مقامی اور بیرونی طور پر بہت زیادہ دباؤ ہے کہ یہ اپنے دوستوں سے ملنے والے فوائد اور دشمنی رکھنے کی قیمت کا جائزہ لے۔ لہازا نجم سیٹھی کے خیال میں اس وقت دکھائی یہی دیتا ہے کہ معیشت، گورننس اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا پانی سر سے بڑھ رہا ہے۔ لیکن اب بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی قیادت مسائل کے حل کے ممکنہ امکانات کی بابت ابہام کا شکار ہے۔ گزشتہ تیس دنوں میں تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلامک موونٹ کے سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں پچاس سے زیادہ پاکستانی فوجی شہید کر دیے ہیں۔ تحریک طالبان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے کھلے عام اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان سے قبائلی علاقے چھین لے گا۔ لیکن افغان طالبان، جن کی کامیاب مزاحمت اور دوبارہ اقتدار میں آنا پاکستان کے مرہون منت ہے، انہیں اپنے محسن کے خدشات پر کوئی تشویش دکھائی نہیں دیتی۔
سیٹھی کے مطابق اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر عالمی برداری کابل میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے پاکستانی مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتی ہے تو کیا ہو گا؟ کیا اسلام آباد خود ایسا کرے گا اور معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا خطرہ مول لے گا؟ اسی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ کے داخلی سیاست کی بابت مشکل چوائس پر بھی بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا یہ بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی مشکلات کے باوجود اس غیر مقبول اور نا اہل حکومت کی حمایت کرتی رہے گی، حالاں کہ اس کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ہے، اور اس دباؤ کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ خارجہ پالیسی اور سکیورٹی امور پر فیصلہ سازی میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ پاکستان کو مشکل دور کا سامنا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ فیصلوں کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک یا بیرونی دنیا میں کوئی بھی ہماری ناکام قومی پالیسی اور عالمی بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انکے مطابق پاکستانی اسٹیبلشمنٹ تسلیم کرتے ہیں کہ طالبان حکومت کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر کابل حکومت ان مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی تو پاکستانی ریاست اور ہمارے معاشرے کو اس کے شدید سیاسی اور عسکری ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سیٹھی کے مطابق یہ بات قابل فہم ہے کہ پاکستان عالمی برداری پر زور دے رہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لے تاکہ وہاں امن اور استحکام قائم ہو اور وہ عالمی معاہدوں کی پاس دار پر مجبور ہو سکیں۔ مگر واشنگٹن اس درخواست پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس پر غور کرنے کی بجائے امریکی حکومت میں اٹھنے والی طاقتور آوازیں اپنی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے رہی ہیں۔ جو بائیڈن انتظامیہ کا پاکستان کے دوہرے کردار کا جائزہ لینے کا فیصلہ، جس کا تذکرہ پچھلے بیس سالوں میں تین امریکی صدور کر چکے ہیں، اور امریکی مفاد میں اقدامات کرنے کے لئے پاکستان پر دباؤ ایک پریشان کن صورتحال ہے۔ چونکہ پاکستان کی تجارت، امداد اور قرضہ یورپ اور امریکہ سے جڑا ہے، اس لئے پاکستان کے پاس اپنی بات منوانے کے لیے بہت کم گنجائش موجود ہے۔ چنانچہ سلام آباد کو اس وقت ایسے متبادل کے چناؤ کی الجھن درپیش ہے جس کے مضمرات بہت سنگین ہوسکتے ہیں۔
