مولانا عبدالعزیز کو گرفتار کرنے کا رسک کیوں نہیں لیا جاتا؟


جولائی 2007 میں لال مسجد فوجی آپریشن کے دوران برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش میں پکڑے جانے والے مولانا عبدالعزیز نے ایک مرتبہ پھر جامعہ حفضہ پر نہ صرف افغان طالبان کا جھنڈا لہرا دیا بلکہ وہاں تعینات پولیس والوں کو دھمکیاں بھی دیں جس کے بعد ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی انہیں گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ماضی میں بھی مولانا ایسی حرکات کرتے رہتے ہیں لیکن اسلام آباد انتظامیہ انکے خلاف مقدمات تو درج کر لیتی ہے لیکن انہیں گرفتار کرنے کا رسک نہیں لیتی کیونکہ اسے صورتحال بگڑنے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔
اسلام آباد میں لال مسجد کے زیر انتظامیہ چلنے والے لڑکیوں کے مدرسے جامعہ حفصہ پر ایک بار پھر افغان طالبان کا پرچم لگانے کے حوالے سے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جھنڈا اتار دیا گیا ہے اور مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ جامعہ حفصہ پر ایسے پرچم لہرائے گئے ہیں۔ ترجمان جامعہ حفصہ و لال مسجد شکیل غازی کے مطابق ’امارات اسلامیہ افغانستان کے جھنڈے افغان طالبان سے اظہار یکجہتی کے اظہار کے لیے لگائے گئے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق دوبارہ جھنڈے لگانے والی جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی انتظامیہ کا مطالبہ ہے کہ ’پاکستان میں اسلامی نظام متعارف کیا جائے۔‘ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اور وفاقی انتظامیہ مدرسے کی انتظامیہ سے بات چیت کی کوششیں کر رہی ہے جبکہ ترجمان جامعہ حفصہ و لال مسجد شکیل غازی کے مطابق سابق خطیب مولانا عبدالعزیز ’بضد ہیں‘ کہ وہ ’اس بار پرچم نہیں ہٹانے دیں گے۔‘ ماضی میں یہ پرچم مسجد انتظامیہ کی اسلام آباد انتظامیہ سے بات چیت کے بعد یہ کہہ کر ہٹوا دیا گیا تھا کہ ان کے مطالبات پر ’اعلی سطح کے افسران تک پہنچائے جائیں گے۔‘ ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسر نے بتایا کہ طالبان کا پرچم ہٹا دیا گیا ہے اور مولوی عبدالعزیز کے خلاف اس حرکت پر متعلقہ قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ تاہم لال مسجد انتظامیہ کا موقف ہے کہ پرچم اتارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک ویڈیو میں مولانا عبدالعزیز کو پولیس اہلکاروں سے مخاطب ہو کر یہ کہتے سنا جا سکتا ہے ’طالبان یہاں بھی آئیں گے، پاکستان کے طالبان آپ کا حشر کر دیں گے انشا اللہ۔ ہاتھ تو لگاؤ ذرا!‘ بظاہر وہ جھنڈے کو ہاتھ لگانے کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ ترجمان جامعہ حفصہ و لال مسجد شکیل غازی نے بتایا کہ اب تیسری بار جھنڈے لگانے کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے کہ ’پہلے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گے اور پاکستان میں اسلامی نظام متعارف نہیں کرایا گیا۔‘
واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے سے پہلے بھی جامعہ حفصہ کی عمارت پر اسلامی امارات کا پرچم لہرایا گیا تھا۔ کیا دوبارہ ایسا کرنے کی ایک وجہ پاکستان کو افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے پر آمادہ کرنا ہے؟ اس سوال کے جواب میں شکیل غازی نے کہا کہ ’ہم نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق کوئی مطالبہ نہیں کیا۔‘ ’یہ پرچم جس پر کلمہ لکھا ہے، ہم اس کو تسلیم کرنے اور پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔‘ اس سے پہلے جب جامعہ حفصہ پر طالبان کے جھنڈے لگائے گئے تھے تو تب ترجمان نے بتایا تھا کہ یہ جھنڈے کسی تقریب کے لیے لگائے گئے اور اسلام آباد کی انتظامیہ سے بات کرنے کے بعد یہ بات رفع دفع ہوگئی تھی۔ یاد رہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے گرد پولیس کی نفری کافی عرصے سے تعینات ہے لیکن مولانا عبدالعزیز کی بار بار کی حرکتوں کے باوجود انھیں گرفتار کرنے کا رسک نہیں لیا جاتا۔
واضح رہے کہ پرویز مشرف کے دور میں 2007 میں لال مسجد میں فوجی آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں لال مسجد کی سابق انتظامیہ کے بقول خواتین بھی شامل تھیں تاہم ضلعی انتظامیہ اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔ مولانا عبدالعزیر اس آپریشن میں خواتین کا برقعہ اوڑھ کر فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار ہو گے تھے اور انہیں برقعے سمیت زبردستی پاکستان ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر انٹرویو دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ تاہم مولانا کی والدہ اور بھائی اس آپریشن میں مارے گئے تھے۔ مولانا عبدالعزیز نے دو مختلف مقدمات سے ضمانت ملنے کے بعد 2016 میں پرویز مشرف سمیت لال مسجد آپریشن کے تمام کرداروں کو معاف کرنے سے متعلق بیان دیا تھا۔

Back to top button