اسٹیبلشمنٹ ہائبرڈ نظام کی غلطی دوبارہ تو نہیں دہرائے گی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کارعاصمہ شیرازی نے کہا ہےہائبرڈ نظام کی تخلیق کی غلطی کو تسلیم کرنا ہماری اسٹیبلشمنٹ کی بہادری ہے، مگر یہ غلطی تسلیم کر کے اسے نہ دہرانے کا فیصلہ اس سے بھی بڑی بہادری ہو گا ،جس کی آزمائش ابھی ہونا باقی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بدلی ہوئی نیوٹرل اسٹیبلشمنٹ اور ’جمہوریت‘ کے حامی طاقت کے مراکز کو آئین کے صفحے پر آنے کے لیے ابھی امتحان سے گزرنا ہے جو ابھی شروع ہوا ہے۔ اس امتحان کی پہلی منزل کا مسافر جنرل قمر باجوہ کی جگہ لینے والا نیا آرمی چیف ہو گا۔
بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں حالیہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ایک اہم بیٹھک کا انعقاد ہوا۔ اس بیٹھک کے دوران جہاں بہت سارے انکشافات ہوئے وہیں پر ایک اُمید بھی دامن گیر ہوئی کہ تقسیم کے اس عمل کو کہیں تو رُکنا ہے۔ آئین، جمہوریت، روشن خیالی اور معاشی خوشحالی کی خبر تو دی گئی تاہم گفتگو کے دوران مخاطب کی جانب سے تین سے زائد بار حالات کی مزید خرابی اور حکومت اپوزیشن کے ایک ساتھ نہ بیٹھنے کی صورت میں دی جانے والی مارشل لا کی دھمکی بھی طاقت اور دھونس کا احساس دلاتی رہی۔
عاصمہ کہتی ہیں کہ اس وجہ سے گزشتہ چار سال کے واقعات اور غلطیوں کے احساس نے جنرل قمر باجوہ کی رخصتی کے اہم اعلان کو کسی طور کم اہم نہ ہونے دیا۔اُس دوران با رہا صحافیوں پر تنقید وہاں موجود صحافی حضرات کو جُز بُز کرتی رہی مگر ساتھ ہی ساتھ فوج کی سیاست میں عدم مداخلت اور آئینی کردار تک محدود رہنے کے ارادے انہیں بھی اُمید دیتے رہے۔ عاصمہ کہتی ہیں کہ اس اہم نشست کا احوال کسی اور وقت رکھیں گے مگر صحافیوں پر بار بار تنقید اور تقریباً ہر مسئلے کا ملبہ صحافت اور صحافیوں پر گرانا خود ایک مسئلہ سا لگنے لگ گیا ہے۔ دراصل پیغام کو نہیں پیغام رساں کو نشانہ بنانا طاقتور حلقوں کا ایک محبوب مشغلہ رہا ہے، مگر برداشت اور بس برداشت، جمہوریت اور بس جمہوریت، آزادی رائے اور بس آزادی رائے ہی معاشرے کو مضبوط کر سکتی ہے۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ کینیا میں مشکوک حالات میں قتل ہونے والے ارشد شریف سے لاکھ اختلاف سہی، مگر اُن کے مارے جانے کی خبر نے پہلے سے بندوق کے نشانے پر موجود پاکستانی صحافیوں کو مزید پریشان کر دیا ہے۔ یوں کہیے کہ اس بار صحافی کے قتل نے حیرت کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ بقول عاصمہ سوال یہ ہے کہ ارشد شریف نیروبی کیوں گئے؟ جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ اجل انہیں وہاں لے گئی مگر اس اجل کو کیا نام دیں؟ موت ارشد کا تعاقب کرتے ہوئے دبئی، برطانیہ اور پھر کینیا پہنچ گئی لیکن موت کی آہٹ کیوں سنائی نہ دی؟ اجل نام بدل کر سرحد بدل رہی تھی مگر زندگی کو معلوم ہی نہ ہو سکا؟ سوال ہی سوال ہیں۔ کون؟ کیوں؟ کیسے اور پھر کہاں؟
نیروبی کی پولیس نے غلطی کی اور مان لی۔۔۔ بات ختم؟ پولیس نے فائر کھول دیا، صرف ایک گولی ٹائر پر لگی لیکن ارشد شریف کا سر چھلنی ہو گیا؟ ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر کون تحقیق کرے گا اور کس سے پوچھا جائے گا؟ جہاں اتنے صحافیوں کے قاتل پکڑے نہیں جا سکے وہاں کینیا کی پولیس کے اہلکاروں سے کون الجھے گا۔عاصمہ کہتی ہیں کہ ارشد شریف کے قتل کے پیچھے کیا محرکات ہیں، کیا وجوہات ہیں، ان سب سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے تحقیق ہونا ضروری ہے لیکن ہو گا کیا؟ کمیشن پر کمیشن اور نتیجہ صفر۔ سلیم شہزاد کمیشن، حامد میر کمیشن، ابصار عالم اور اسد طور پر حملے کی تحقیقاتی کمیٹیاں، عدالتی انکوائریاں اور جانے کیا کیا، یہ سب کمیشن اورکمیٹیاں دل بہلانے کے بہانے تو ہیں مگر انصاف کے تقاضے نبھانے کے طریقے قطعاًنہیں۔
ملک جس دوراہے پر کھڑا ہے وہاں منقسم میڈیا، منقسم عدلیہ، منقسم انتظامیہ، مقننہ اور یہاں تک کے منقسم طاقت ور اشرافیہ اُس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مزید تقسیم کی گنجائش نہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ارتقا کا جو عمل تقسیم کے بعد جنم لیتا ہے اُس کے آغاز کی کوئی صورت بھی دکھائی نہیں دے رہی۔
