اشرف غنی اور عمران خان، دو سلیکٹڈ حکمرانوں کا موازنہ

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ حامد کرزئی کے دور صدارت میں ڈٹ کر طالبان سے لڑنے والی افغان آرمی اشرف غنی کے دور میں اس لیے ریت کی دیوار ثابت ہوئی کہ کرزئی کے برعکس اشرف غنی فوج کو جنگ جاری رکھنے پر آمادہ نہیں کرسکے۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اشرف غنی کا الیکشن بالکل عمران خان کی سلیکشن جیسا تھا اور ہر افغان جانتا تھا کہ یہ اصلی نہیں بلکہ جعلی حکمران ہے جس نے دھاندلی کے نتیجے میں اقتدار حاصل کیا ہے چنانچہ غنی کی حکومت افغانستان کی غیر مقبول ترین حکومت تھی۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ جب حامد کرزئی افغانستان کے صدر تھے تو تب ان کے بارے پاکستان اور افغانستان میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ جیسے ہی وہ صدارت سے فارغ ہوں گے تو امریکہ یا ہندوستان چلے جائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ صدارت سے فراغت کے بعد بھی وہ نہ صرف افغانستان میں رہے بلکہ سیاست اور سفارت دونوں میں حد درجہ فعال رہے۔ جب طالبان کابل میں داخل ہورہے تھے تو افغانستان کے صدر وہ نہیں بلکہ اشرف غنی تھے۔ حامد کرزئی نے نہیں بلکہ اشرف غنی نے سینہ تان کر کہا تھا کہ وہ آخری وقت تک لڑیں گے لیکن ہوا یہ کہ غنی اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی چھوڑ کر بھاگ گئے لیکن حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللّٰہ عبداللّٰہ وغیرہ ڈٹے رہے۔ جب غنی بھاگ گئے تو کرزئی نے اپنی چھوٹی بچیوں کے ساتھ وڈیو جاری کرکے ساتھیوں اور قوم کو تسلی دی کہ وہ کابل میں موجود ہیں اور وہیں رہیں گے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ یاد رہے تب تک طالبان کی طرف سے عام معافی کا اعلان نہیں ہوا تھا اور یہ واضح نہیں تھا کہ طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد ان جیسے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟ سوال یہ ہے کہ ایک ہی ملک کے دو پختونوں کے ان مختلف رویوں کی وجہ کیا تھی اور اس میں پاکستانیوں کے لئے کیا سبق چھپا ہے؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ اشرف غنی کی اولاد افغانستان میں نہیں تھی جبکہ حامد کرزئی کی اولاد افغانستان میں ہے۔
دوسری وجہ یہ کہ اشرف غنی زیادہ عرصہ بیرون ملک رہے تھے اور حکمرانی کے لئے افغانستان آئے تھے جبکہ حامد کرزئی دھرتی کے بیٹے تھے۔ وہ فرشتے نہیں۔ ان کی حکومت بھی اچھی اور مثالی حکومت نہیں تھی۔ ان کی شخصیت میں بھی وہ خامیاں موجود ہیں جو دیگر افغان رہنماؤں میں پائی جاتی ہیں لیکن انہوں نے ماضی میں بھی کئی بار اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اور اب بھی ایسا ہی کیا۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ ان دو مثالوں میں پاکستانیوں کے لئے سبق یہ ہے کہ کوئی حکمران کتنا بھی محب وطن بننے کی کوشش کیوں نہ کرے لیکن اگر اسکی اولاد اس ملک میں نہیں اور اس کا مستقبل اس ملک سے وابستہ نہیں تو وہ مشکل وقت میں اسی طرح بھاگ سکتا ہے جس طرح اشرف غنی بھاگ گئے۔دوسرا سبق یہ ہے کہ شوکت عزیز کی طرح باہر سے لائے جانے والے بھاڑے کے حکمران حکومت ختم ہوتے ہی بھاگ جاتے ہیں۔ چنانچہ وزیر اعظم عمران خان کے اردگرد جمع ہونے والے امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سے آئے ہوئے بقراط اور سقراط بھی انکی حکومت ختم ہوتے ہی بھاگ جائیں گے۔
سلیم صافی کے مطابق حامد کرزئی میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ ہر طرح کے افغانوں کو ساتھ لے کر چلا سکتے تھے اور اسی لیے وہ اشرف غنی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بہتر حکمران ثابت ہوئے۔ مانا کہ کرپشن دونوں حکومتوں میں تھی لیکن کرزئی کے دور میں طالبان کابل تو کیا کسی ایک صوبے کو بھی فتح نہیں کرسکے۔ دوسری طرف وہ امریکیوں کو بھی آنکھیں دکھاتے رہے۔ کرزئی نے داخلی محاذ پر خود کو مضبوط کر رکھا تھا اس لئے ان میں یہ جرات تھی کہ امریکیوں کو قطر میں افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات نہیں کرنے دیے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جان کیری کو ڈانٹ پلا کر اپنے دفتر سے نکالا تھا۔ کرزئی امریکیوں کی "نائٹ ریڈز” یا رات کے حملوں کی بھی مخالفت کرتے رہے تاکہ افغان عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔ امریکی منت کرتے رہے کہ ہمارے ساتھ دس سال کے لیے باہمی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کر لو لیکن کرزئی نہیں مانے۔ دوسری طرف اشرف غنی نے صدر بنتے ہی امریکیوں کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کر لئے۔ چنانچہ انکی حکومت کا جو حشر ہوا، وہ سب کے سامنے ہے ۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ کرزئی اور غنی حکومتوں کے مختلف انجام سے پاکستانیوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ دراصل حکومت وہ مضبوط ہوتی ہے جو جعلی نہیں بلکہ عوام میں جڑیں رکھنے والے اصلی نمائندوں پر مشتمل ہو۔ ایسی حکومت خواہ چور اور کرپٹ مشہور کر دیے جانے والوں کی کیوں نہ ہو، داخلی محاذ پر بھی کامیاب ثابت ہوتی ہے اور خارجی قوتوں کے آگے بھی ڈٹ کر کھڑی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر حکومت جعلی طور پر لیڈر بنائے گئے لوگوں یا بدزبانوں پر مشتمل ہو تو ملک کے لئے کسی بھی وقت اشرف غنی کی حکومت ثابت ہو سکتی ہے۔ اشرف غنی نے بھی کپتان کی طرح بھارت کے ڈھیروں میڈیا منیجرز رکھے ہوئے تھے جو حکومت بھی زیادہ تر سوشل میڈیا کے زور پر چلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ چنانچہ غنی آخری وقت تک سوشل میڈیا پر کامیاب اور محبوب ترین صدر تھے لیکن عملاً وہ کیا تھے، سب نے دیکھ لیا۔
سلیم صافی کے مطابق افغان فوج حامد کرزئی کے دور میں تشکیل کے مراحل سے گزر رہی تھی۔ جب انہوں نے اقتدار چھوڑا تو ایک لاکھ فوج کی بھی تربیت مکمل نہیں ہوئی تھی۔ اسکے برعکس اشرف غنی کے دور میں ادغان سیکورٹی فورسز کی تعداد تقریباً تین لاکھ ہوگئی تھی جن میں 50 ہزار اسپیشل فورسز کے لوگ تھے ۔ انکو جدید ترین ہتھیار میسر تھے۔ ماضی میں وہ ڈٹ کر طالبان سے لڑتے رہے لیکن اشرف غنی کے دور میں یہ فوج ریت کی دیوار ثابت ہوئی کیوں کہ حامد کرزئی کے برعکس اشرف غنی اس فوج کو لڑائی پر آمادہ نہیں کرسکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اشرف غنی کا الیکشن بھی بالکل عمران خان کی سلیکشن جیسا تھا اور ہر افغان جانتا تھا کہ یہ اصلی نہیں بلکہ ایک جعلی حکومت ہے جو دھاندلی کے نتیجے میں اقتدار میں آئی ہے۔
