اعظم خان کا بیان عمران خان کو کس مشکل میں ڈال سکتا ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے اُس وقت کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے منسوب سائفر ڈرامے بارے بیان سامنے آنے کے بعد سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 زیرِبحث ہے۔ اور قانونی و سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ دفعہ 164کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیان سے ملزم کس مشکل میں پھنس سکتا ہے؟

واضح رہے کہ اعظم خان نے اسلام آباد میں ایک مجسٹریٹ کے روبرو اپنا بیان قلمبند کروایا ہے جس میں انہوں نے سائفر کے حوالے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے سائفر کا ڈرامہ اپنی سیاست کو بچانے کیلئے رچایا اور وزیر اعظم آفس کیلئے دی گئی سائفر کی کاپی عمران خان نے گُم کر دی تھی
خیال رہے کہ اعظم خان گذشتہ کئی ہفتوں سے لاپتا تھے اور ان کی گمشدگی کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا تاہم ان کے اچانک منظرِعام پر آنے اور 164 کا بیان دینے سے متعلق خبروں نے سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔

اعظم خان کا سائفر بارے دعویٰ سامنے آنے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دفعہ 164 کا بیان ہوتا کیا ہے؟ٖقانونی ماہرین کے مطابقپاکستان کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 ایک معروف اصطلاح ہے جو اکثر خبروں کی زینت بنتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس عبادالرحمان لودھی کے مطابق کسی بھی جرم کے بعد اس پر فوجداری کارروائی کیسے چلے گی یہ سب کریمینل پروسیجر کوڈ یعنی ضابطہ فوجداری میں لکھا ہوا ہے۔ ’ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 بنیادی طور پر کسی بھی کیس کی انکوائری/ انویسٹی گیشن/ ٹرائل کے دوران کسی ملزم/ گواہ/ مدعی کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ کسی بھی فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروا سکتا ہے۔‘
’عام طور پر ایسا بیان ریکارڈ کروانے کی ضرورت اُس وقت پیش آتی ہے جب کوئی ملزم/ گواہ/ مدعی یہ سمجھے کہ پولیس یا کسی دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سامنے اس کے بیان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے یا اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ بیان کہیں بھی کسی بھی درجہ اول کے مجسٹریٹ کو ریکارڈ کروا سکتا ہے۔ اس کے لیے یہ شرط نہیں کہ جہاں وقوعہ ہوا ہے وہیں کی عدالت کے سامنے بیان ریکارڈ ہو۔‘

سینئر وکیل اور سابق سیکریٹری لاہور ہائی کورٹ بار ایڈووکیٹ شمیم ملک کے مطابق ’164 کا بیان اصل میں کسی مقدمے میں اپنی مرضی سے شہادت قلمبند کروانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس شہادت کو ٹرائل کے دوران استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘انہوں نے مزید بتایا کہ ’محبت کی شادی کے کیسز میں خاتون کا بیان مجسٹریٹ کے روبرو اس لیے ریکارڈ کروایا جاتا ہے تاکہ کل کو خاتون واپس جانے کے بعد اپنی مرضی سے شادی کرنے کے فیصلے سے مُکر نہ جائے۔‘
اس بیان کی قانونی حیثیت بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جسٹس ریٹائرڈ عبادالرحمان لودھی کہتے ہیں کہ ’164 کے بیان کی قانونی حیثیت اس وقت تو بہت زیادہ ہوتی ہے جب ضابطہ فوجداری میں درج تقاضوں کے تحت اس کو ریکارڈ کیا جائے۔‘انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’تقاضے یہ ہیں کہ جو شخص بھی یہ بیان ریکارڈ کروا رہا ہے وہ رضاکارانہ ایسا کر رہا ہو اور اس بات کو یقینی بنانا مجسٹریٹ کی ذمہ داری ہے۔ کمرہ عدالت میں اسے یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے 164 کے بیان کے ساتھ یہ تفصیل بھی لکھنا ضروری ہوتی ہے۔‘
’دوسرا بڑا تقاضا اس دفعہ میں یہ ہے کہ بیان دینے والے نے اپنا بیان کسی کے خلاف دینا ہے یعنی کسی ملزم کے خلاف 164 کا بیان ریکارڈ کروانا ہے تو پھر عدالت پابند ہے کہ اس ملزم کو نوٹس کرے اور کمرہ عدالت میں بلائے۔ اس کے روبرو بیان ریکارڈ ہو اور اسے جرح کا موقعہ دیا جائے۔‘انہوں نے بتایا کہ ایسی صورت میں یہ بیان ٹرائل میں بطور شہادت استعمال ہوسکتا ہے۔ اگر آپ نے ایک شخص کے خلاف بیان ریکارڈ کروا دیا ہے اور اسے پتا ہی نہیں تو آپ نے اسی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 اے ون اور 265 جے کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے اور ایسا بیان کسی بھی دوسری عدالت میں قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہو گا۔‘
پاکستان کی اعلٰی عدالتوں کے کئی فیصلے اس بابت موجود ہیں جہاں کُھل کر دفعہ 164 کے تحت دئیے گئے بیان کی قانونی حیثیت اور لوازامت کو آشکار کیا گیا ہے۔ شمیم ملک کہتے ہیں کہ ’اگر مجسٹریٹ نے 164 کے بیان میں ملزم کو نوٹس نہیں کیا تو پھر اس بیان کی قانونی حیثیت پر واضح سوالیہ نشان ہو گا۔‘
خیال رہے کہ اعظم خان کے حالیہ 164 کے بیان کی خبریں نشر ہونے کے بعد عمران خان یا ان کی جماعت کی طرف سے ایسی کسی بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ انہیں اس بیان کے ریکارڈ کرنے سے قبل عدالت کی جانب سے کوئی نوٹس موصول ہوا ہے۔

Back to top button