افسانہ نگار منٹو فحش نگار کیوں کہلائے؟

سعادت حسن منٹو کا المیہ یہ ہے کہ آج بھی کوئی تو ان کو جھوٹی دنیا کا سچا افسانہ نگار گردانتا ہے تو کوئی فحش نگار قرار دیتا ہے تاہم ایک ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ غیر اردو داں طبقہ اردو شاعری کو اگر غالب کے حوالہ سے جانتا ہے تو فکشن کے لئے اس کا حوالہ منٹو ہیں، شاید اسی لئے حکومت پاکستان نے منٹو کو بعد از مرگ ملک کے سب سے بڑے سول اعزاز نشان امتیاز سے نوازا۔ یوں منٹو مرنے کے بعد خود.کو منوانے میں کامیاب ہوگئے.
نقادوں کا ماننا ہے کہ منٹو کو فحش نگار کہنا ان کی توہین ہے۔ دراصل ان کو محض افسانہ نگار کہنا بھی ان کی توہین ہے اس لئے کہ وہ افسانہ نگار سے زیادہ حقیقت نگار ہیں اور ان کی نگارش کسی عظیم مصور سے کم درجہ کی نہیں۔ یہ کردار نگاری اتنی طاقتور ہے کہ لوگ کرداروں میں ہی گم ہو کر رہ جاتے ہیں اور کردار نگار کے آرٹ کہ باریکیاں پس پشت چلی جاتی ہیں۔ منٹو افسانہ نگار نہ ہوتے تو بہت بڑے شاعر یا مصور ہوتے۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ فکشن میں پریم چند اور منٹو کی وہی حیثیت ہے جو شاعری میں میر اور غالب کی۔ اپنی فکر کے حوالے سے منٹو یہ کہہ کر سمجھنے والوں کی الجھن کو آسان کر گئے گئے کہ میری زندگی اک دیوار ہے جس کا پلستر میں ناخنوں سےکھرچتا رہتا ہوں۔ کبھی چاہتا ہوں کہ اس کی تمام اینٹیں پراگندہ کر دوں، کبھی یہ جی میں آتا ہے کہ کہ اس ملبہ کے ڈھیر پر اک نئی عمارت کھڑی کر دوں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ منٹو کی زندگی ان کے افسانوں کی طرح نہ صرف دلچسپ بلکہ مختصر بھی تھی۔محض 42 سال 8 ماہ اور چار دن کی چھوٹی سی زندگی کا بڑا حصہ منٹو نے اپنی شرائط پر ، نہایت لاپراوئی اور لااوبالی پن سے گزارا۔ انھوں نے زندگی کو اک بازی کی طرح کھیلا اور ہار کر بھی جیت گئے۔ ابنی تقریبا 20 سالہ ادبی زندگی میں منٹو نے 270 افسانے، 100 سے زیادہ ڈرامے،کتنی ہی فلموں کی کہانیاں اور مکالمے،اور ڈھیروں نامور اور گمنام شخصیات کے خاکے لکھ ڈالے۔ 20 افسانے تو انھوں نے صرف 20 دن اخبارات کے دفاتر میں بیٹھ کر لکھے۔ا ان کے افسانے ادبی دنیا میں اک تہلکا مچا دیتے تھے۔ان پر کئی بار فحش نگاری کے مقدمات چلے اور پاکستان میں 3 مہینے کی قید اور 300 جرمانہ بھی ہوا۔ پھر اسی پاکستان نے ان کے مرنے کے بعد ان کو مک کے سب سے بڑے سیویلین ایوارڈ نشان امتیاز سے نوازا۔ جن افسانوں کو فحش قرار دے کر ان پر مقدمے چلے ان میں سے بس کوئی ایک بھی منٹو کو زندہ جاوید بنانے کے لئے کافی تھا۔ بقول نقاد وارث علوی, بات صرف اتنی تھی کہ منٹو کی بے لاگ اور سفّاک حقیقت نگاری نے بیشمار عقائد، مسلْمات اور تصورات کو توڑا اور ہمیشہ شعلہ ء حیات کو برہنہ انگلیوں سے چھونے کی جرات کی۔
منٹو کے ذریعے پہلی بار ہم ان حقائق سے آشنا ہوتے ہیں جن کا صحیح علم نہ ہو تو دل نرم و نازک اور آرام دہ عقائد کی تحویل میں چھوٹی موٹی شخصیتوں کی طرح جیتا ہے۔ منٹو ایک ایک انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے خیالی کرداروں کی بجائے سماج کے ہر طبقے اور ہر طرح کے انسانوں کی رنگارنگ زندگیوں کو ،ان کی نفسیاتی اور جذباتی تہہ داریوں کے ساتھ ، اپنے افسانوں میں منتقل کرتے ہوے معاشرہ کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا۔ منٹو کے پاس معاشرہ کو بدلنے کا نہ تو کوئی نعرہ ہے اور نہ خواب۔ بس وہ تو اک ماہر حکیم کی طرح وہ مریض کی نبض دیکھ کر اس کا مرض بتا دیتے ہیں اب اس کا علاج کرنا ہے یا نہیں اور اگر کرنا ہے تو کیسے کرنا ہے یہ سوچنا مریض اور اس کے لواحقین کا کام ہے۔
سعادت حسن منٹو 11مئی 1912ء کو لدھیانہ کے قصبہ سمبرالہ کے ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مولوی غلام حسین تھا اور وہ پیشہ سے جج تھے۔ منٹو ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے۔اور جب زمانہ منٹو کی تعلیم و تربیت کا تھا والد صاحب ریٹائر ہو چکے تھے۔ جج صاحب کے مزاج میں سخت گیری تھی اس لئے منٹو کو باپ کا پیار نہیں ملا۔ منٹو بچپن میں شریر کھلندڑے اور تعلیم کی طرف سے بے پروا تھے میٹرک میں دو بار فیل ہونے کے بعد تھرڈ دویزن میں امتحان پاس کیا۔ کتنی دلچسپ بات ہے کہ وہ اردو میں فیل ہو جاتے تھے۔ بہرحال باپ کی سخت گیری نے ان کے اندر بغاوت کا جذبہ پیدا کیا۔
یہ بغاوت صرف گھر والوں کے خلاف نہیں تھی بلکہ اس کے دائرہ میں زندگی کے تمام مسلمہ اصول آ گئے۔جیسے انھوں نے فیصلہ کر لیا ہو کہ انھیں زندگی اپنی اور صرف اپنی شرائط پر جینی ہے۔ اسی نفسیاتی گتھی کا اک دوسرا پہلو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا شوق تھا۔ سکول کے دنوں میں ان کا محبوب مشغلہ افواہیں پھیلانا اور لوگوں کو بیوقوف بنانا تھا مثلاً کبھی کہتے کہ میرا فونٹن پن گدھے کی سینگ سے بنا ہے، کبھی چھوڑ دیتے کہ لاہور کی ٹریفک پولیس کو برف کے کوٹ پہنائے جا رہے ہیں یا کبھی یہ چٹکلہ چھوڑ دیتے کہ آگرہ والا تاج محل امریکہ نے خرید لیا ہے اور مشینوں سے اکھاڑ کر اسے امریکہ لے جائیں گے۔ منٹو نے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر "انجمن احمقاں” بھی قائم کی تھی۔
میٹرک کے بعد منٹو کو علی گڑھ بھیجا گیا لیکں وہاں سے یہ کہہ کر نکال دیا گیا کہ ان کو تپ دق کی بیماری ہے۔ واپس آ کر انھوں نے امرتسر میں، جہاں ان کا اصل مکان تھا ایف اے میں داخلہ لے لیا۔ پڑھتے کم اور آوارہ گردی زیادہ کرتے اک رئیس زادے نے شراب سے تعارف کرایا اور موصوف کو جوے کا بھہ چسکا لگ گیا ۔شراب کے سوا ، جس نے ان کو جان لے کر ہی چھوڑا ،منٹو زیادہ دن کوئی شوق نہیں پالتے تھے۔طبیعت میں اضطراب تھا۔منٹو کا امرتسر کے ہوٹل شیراز میں آنا جانا ہوتا تھا وہیں ان کی ملاقات باری علیگ سے ہوئی۔ وہ اس وقت اخبار” مساوات”کے ایڈیٹر تھے۔ وہ منٹو کی ذہانت اور ان کے داخلی انتشار کو بھانپ گئے۔انھوں نے نہایت مخلصانہ اور مشفقانہ انداز میں منٹو کو صحافت کی طرف مائل کیا۔
اور ان کو تیرتھ رام فیروپوری کے ناول چھوڑ کر آسکر وائلڈ اور وکٹر ہیوگو کی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دلائی۔منٹو نے بعد میں خود اعتراف کیا کہ اگر ان کو باری صاحب نہ ملتے تو وہ چوری یا ڈاکہ کے جرم میں کسی جیل میں گمنامی کی موت مر جاتے۔ باری صاحب کی فرمائش پر منٹو نے وکٹر ہیوگو کی کتاب "دا لاسڈ ڈے آف اے کنڈیمنڈ مین” کا ترجمہ دس پندرہ دن کے اندر "سرگزشت اسیر” کے نام سے کر ڈالا۔ باری صاحب نے اسے بہت پسند کیا ،اس کی اصلاح کی اور منٹو "صاحب کتاب” بن گئے۔ اس کے بعد منٹو نے آسکر وائلڈ کے اشتراکی ڈرامے "ویرا” کا ترجمہ کیا جس کی اصلاح اختر شیرانی نے کی۔اور مسودہ پر اپنے دستخط کئے جس کی تاریخ 18 نومبر 1934ء ہے۔ باری صاحب انہی دنوں "مساوات” سے الگ ہو کر "خلق” سے وابستہ ہو گئے۔خلق کے پہلے شمارے میں منٹو کا پہلا طبع زاد افسانہ "تماشہ” شائع ہوا۔
1935ء میں منٹو بمبئی چلے گئے، ادبی حلقوں میں بطور افسانہ نگار ان کا تعارف ہو چکا تھا۔ یہاں مختلف اداروں سے وابستہ رہے اور پھر ماں کے اصرار پر ان کا نکاح اک کشمیری لڑکی صفیہ سے ہو گیا جس کو انھوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔ کہتے ہیں کہ منٹو کی مفروضہ بد اطواریوں کی وجہ سے اقربا نے ان سے قطع تعلق کر لیا تھا ۔حقیقی بہن بمبئی میں موجود ہونے کے باوجود نکاح میں شریک نہیں ہوئیں۔
بمبئی میں قیام کے دوران منٹو نے ریڈیو کے لئے لکھنا شروع کر دیا تھا ۔ان کو 1940ء میں آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ملازمت مل گئی یہاں ن۔م راشد، کرشن چند اور اوپندر ناتھ اشک بھی تھے۔ منٹو نے ریڈیو کے لئے 100 سے زائد ڈرامے لکھے۔ منٹو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ اشک سے برابر ان کی نوک جھونک چلتی رہتی تھی۔ایک بار منٹو کے ڈرامے میں اشک اور راشد کی سازش سے ردوبدل کر دیا گیا اور بھری میٹنگ میں اس کی نکتہ چینی کی گئی منٹو اپنی تحریر میں ایک لفظ کی بھی اصلاح گوارہ نہیں کرتے تھے، گرما گرمی ہوئی لیکن فیصلہ یہی ہوا کہ اصلاح شدہ ڈرامہ ہی نشر ہو گا، منٹو نے ڈرامے کا مسودہ واپس لیا نوکری کو لات ماری اور بمبئی واپس آ گئے۔
بمبئی آ کر منٹو نے فلم "خاندان "کے شہرت یافتہ ڈائرکٹر شوکت رضوی کی فلم” نوکر” کے لئے مکالمے لکھنے شروع کر دئے۔انھیں پتہ چلا کی شوکت کچھ اور لوگوں سے بھی مکالمے لکھوا رہے ہیں۔ یہ بات منٹو کو بری لگی اور وہ شوکت کی فلم چھوڑکر 100 روپے ماہوار پر بطور مکالمہ نویس فلمستان چلے گئے یہان ان کی دوستی اشوک کمار سے ہو گئی۔اشوک کمار نے بمبئی ٹاکیز خرید لی تو منٹو بھی ان کے ساتھ بمبئی ٹاکیز چلے گئے۔ اس عرصہ میں ملک تقسیم ہو گیا تھا ۔فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے تھے اور بمبئی کی فضا بھی کشیدہ تھی۔صفیہ اپنے عزیزوں سے ملنے لاہور گئی تھیں اور فسادات کی وجہ سے وہیں پھنس گئی تھیں۔ادھر اشوک کمار نے منٹو کی کہانی کو نظر انداز کر کے فلم محل کے لئے کمال امروہی کی کہانی پسند کر لی تھی منٹو اتنے بد دل ہوئے کہ ایک دن کسی کو بتائے بغیر پانی کے جہاز سے پاکستان سدھار گئے۔
پاکستان میں تھوڑے دن ان کی آؤ بھگت ہوئی پھر ایک ایک کر کے سب انکھیں پھیرتے چلے گئے۔ پاکستان پہنچنے کے کچھ ہی دنوں بعد ان کی کہانی ٹھنڈا گوشت پر فحاشی کا الزام لگا اور منٹو کو 3 ماہ کی قید اور 300 جرمانہ کی سزا ہوئی۔ سزا کے خلاف پاکستان کے ادبی حلقوں سے کوئی احتجاج نہیں ہوا الٹے کچھ لوگ خوش ہوئے کہ اب منٹو کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا۔اس سے پہلے بھی ان پر اسی الزام میں کئی مقدمے چل چکے تھے لیکن منٹو سب میں بچ جاتے تھے۔ سزا کے بعد منٹو کا دماغ ٹھیک تو نہیں ہوا ، سچ مچ خراب ہو گیا ۔یار لوگ انھیں پاگل خانے چھوڑ آئے۔ اس بیکسی ،ذلت و خواری کے بعڈ منٹو نے ایک طرح سے زندگی سے ہار مان لی شراب نوشی حد سے زیادہ بڑھ گئی۔آمدنی کا کوئی ذریعہ کہانیاں بیچنے کے سوا نہیں تھا۔اخبار والے 20 روپے دے کر اور سامنے بٹھا کر کہانیاں لکھواتے۔خبریں ملتیں کہ ہر شناسا اور غیر شناسا سے شراب کے لئے پیسے مانگتےہیں۔ بچی کو ٹائیفائڈ ہو گیا، بخار میں تپ رہی تھی لیکن گھر میں دوا کے لئے پیسے نہیں تھے۔ بیوی پڑوسی سے ادھار مانگ کر پیسے لائیں اور ان کو دئے کہ دوا لے ائیں وہ دوا کی بجائے اپنی شراب کی بوتل لے کر آگئے۔ انکی صحت دن بہ دن بگڑتی جا رہی تھی لیکن شراب چھوڑنا تو دور، کم بھی نہیں ہو رہی تھی۔ وہ شائد مر ہی جانا چاہتے تھے۔
17 جنوری کی شام کو منٹو دیر سے گھر لوٹے۔تھوڑی دیر کے بعد خون کی قے کی۔ رات میں طبیعت زیادہ خراب ہوئی ڈاکٹر کو بلایا گیا اس نے اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔اسپتال کا نام سن کر بولے اب بہت دیر ہو چکی ہے، مجھے اسپتال نہ لے جائو۔ تھوڑی دیر بعد بھانجے سے چپکے سے کہا میرے کوٹ کی جیب میں ساڑھے تین روپے ہیں ان میں کچھ پیسے لگا کر مجھے وہسکی منگا دو۔ چنانچہ وہسکی منگائی گئی۔ بولے دو پیگ بنا دو۔ وہسکی پی تو درد سے تڑپ اٹھے اور غشی طاری ہو گئی۔ اتنے میں ایمبولنس آئی. پھر وہسکی کی فرمائش کی۔ ایک چمچہ وہسکی منہ میں ڈالی گئی لیکن ایک قطرہ بھی حلق سے نہیں اترا اور منہ سے بہہ گیا۔ انہیں ایمبولنس میں ڈال کر اسپتال لے جایا گیا لیکن راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
