افغانستان میں گرفتار داعش امیر پاکستان کو کیوں چاہئے؟

افغان حکام کی جانب سے دہشت گرد تنظیم داعش کے گرفتار امیر اسلم فاروقی کی حوالگی کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اسلام آباد اور کابل کے مابین تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدگی کا شکار ہوگئے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک اعلامیے میں کہا تھا کہ چونکہ اسلم فاروقی افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان مخالف سرگرمیوں کروانے میں ملوث تھا، لہٰذا اسے پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ تاہم افغان حکام نےپاکستان کی یہ درخواست مسترد کر دی ہے۔ یاد رہے کہ عبداللہ اورکزئی عرف اسلم فاروقی کا تعلق پاکستان کے قبائلی ضلع اورکزئی سے ہے اور وہ ماضی میں پہلے طالبان اور پھر داعش کے پلیٹ فارم سے پاکستان مخالف دہشت گرد کارروائیوں میں شامل رہا ہے۔
افغانستان کی وزارت خارجہ نے پاکستان کی حوالگی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلم فاروقی نے افغانستان کی زمین پر مختلف جرائم کیے اور اس پر ایسے حملوں کی سربراہی کا الزام ہے جس میں کئی افغان شہری ہلاک ہوئے۔ لہذا اس کے ساتھ افغانستان کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ تاہم افغانستان کے اس جواب نے اسلام آباد اور کابل کے مابین تعلقات مزید کشیدہ کردیے ہیں کیونکہ پاکستانی حکام کا یہ خیال ہے کہ اسلم فاروقی کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ اس نے ایک ڈیل کے تحت افغان حکام کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں۔
گذشتہ ہفتے افغان طالبان کے ایک سینیئر رہنما نے انکشاف کیا تھا کہ اسلم فاروقی گرفتار نہیں ہوا بلکہ اس نے خود ہتھیار ڈالے۔ انھوں نے کہا کہ دراصل افغان صوبے کنڑ میں ان کے ہاتھوں داعش کی شکست کے بعد اسلم فاروقی نے ان سے رابطہ کیا تھا اور تحریک میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس مقصد کے لیے اسلم فاروقی نے اپنے والد اور بھائی کو طالبان کے پاس بھیجا تھا، لیکن چونکہ انہوں نے معصوم عوام پر بہت ظلم کیے تھے اس لیے انہیں ہماری طرف دے تحریک میں شامل کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔‘
دوسری طرف کابل حکام کا کہنا ہے کہ اسلم فاروقی نے سرکاری فورسز کے سامنے پکتیا صوبے میں ہتھیار ڈالے۔ ایک افغان اہلکار کے مطابق ’وہ ننگرہار سے پکتیا گئے تھے اور سرحدپار کر کے پاکستان جانا چاہتے تھے لیکن اس میں ناکام ہوئے اور خود کو حکام کے حوالے کر دیا۔‘ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ انہوں نے دراصل اسلم فاروقی کو مزار درہ، کنڑ میں گھیر لیا تھا، جہاں انہوں نے افغان فورسز سے رابطہ کیا اور ہتھیار ڈال دیے۔ ’افغان فورسز نے اسے پناہ دی ہے اور وہ ان کا مہمان ہے اور گرفتاری کا غلط تاثر دیا جا رہا یے۔‘
اسلم فاروقی کا تعلق بنیادی طورپر پاکستان کے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع اورکزئی سے رہا ہے۔ اس کا تعلق اپر اورکزئی کے ماموں زئی قبیلے کے ایک با اثر اور مذہبی خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ اس کے پر دادا محمود اخونزادہ علاقے کے ایک بااثرمذہبی رہنما اورقبائلی سردار گزرے ہیں، تاہم اسلم فاروقی عرصہ دراز سے لوئر اورکزئی کے صدر مقام کلایہ کے قریب واقع ایک گاؤں لیڑے میں اپنے خاندان سمیت مقیم رہا جہاں اس نے ایک دینی مدرسہ بھی قائم کیا ہوا تھا۔
لیڑے اہل تشیع اور سنی قبائل کے درمیان واقع ایک سرحدی متنازع علاقہ ہے جہاں ماضی میں شیعہ سنی فسادات بھی ہوتے رہے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ علاقہ شیعہ قبائل کی ملکیت بتائی جاتی تھی تاہم ابتدائی جھڑپوں کے بعد اس علاقے پر سنی قبائل نے قبضہ کرلیا تھا۔ سنیوں کی طرف سے اس لڑائی کی سربراہی ماموں زئی قبیلے کے محمود اخونزدہ نے کی تھی جس کے بعد قبائل کی طرف سے یہ علاقہ ان کو تحفے میں دے دیا گیا تھا۔ اسلم فاروقی ابتدا ہی سے مذہبی رحجانات رکھتے تھا اور اس نے مختلف دینی مدارس سے تعلیم حاصل کی۔ اسلم فاروقی کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ شاید وہ پہلا شدت پسند مذہبی شخصیت ہے جس نے 90 کے عشرے کے ابتدائی سالوں میں اس وقت کی اورکزئی ایجنسی میں اسلامی شرعی نظام کا اعلان کرکے ٹی وی، وی سی آر اور ڈش انٹینا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سال 2007 میں جب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تو ابتدا میں وہ اس کا حصہ نہیں بنا لیکن بعد میں جب سنی شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ نے ٹی ٹی پی سے اتحاد کیا تو اسلم فاروقی کے بھی طالبان تحریک سے مراسم پیدا ہوئے۔ اس وقت ٹی ٹی پی میں سپاہ صحابہ گروپ کے کرتا دھرتا طارق آفریدی المعروف طارق گیدڑ گروپ کو زیادہ اثرورسوخ حاصل تھا۔ اسلم فاروقی بھی کچھ عرصہ اس گروپ سے منسلک رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ طارق آفریدی اور اس کے گروپ کے جنگجو کچھ وقت کے لیے اورکزئی ایجنسی میں مقیم بھی رہے جہاں اسلم فاروقی کی طرف سے ان کو پناہ دی گئی تھی۔ بعد میں وہ باقاعدہ طور پر تحریک طالبان کا حصہ بن گیا اور حکیم اللہ محسود اور حافظ سعید خان کے گروپ کے قریب رہا۔ حافظ سعید خان تحریک طالبان پاکستان اورکزئی ایجنسی کے پہلے امیر تھے اور وہ اور اسلم فاروقی ایک ہی قبیلے ماموں زئی سے تعلق رکھتے ہیں۔
سال 2014 میں جب قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا تو شدت پسند تنظیموں کے خلاف سختیاں بڑھ گئیں اور کئی جنگجو پاکستان چھوڑ کر افغانستان منتقل ہوئے۔ اسلم فاروقی اور ان کے حامیوں کا تقریباً 1300 افراد پر مشتمل گروپ اورکزئی ایجنسی چھوڑ کر کرم کے راستے افغانستان منتقل ہوگیا۔ اسلم فاروقی اس وقت ٹی ٹی پی اورکزئی کے امیر حافظ سعید خان اور مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کے گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی میں امارت کے معاملے پر اختلاف پیدا ہوگئے تھے اور حافظ سعید خان تحریک طالبان چھوڑ کر دولت اسلامیہ یا داعش میں شامل ہوگئے تھے۔
جب حافظ سعید خان کو دولت اسلامیہ خراسان کا پہلا امیر مقرر کیا گیا تو اسلم فاروقی بھی ان کے ساتھ باقاعدہ طور پر اس تحریک میں شامل ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ حافظ سعید کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد داعش کی جانب سے دو مزید امیر بنائے گئے لیکن وہ بھی امریکی حملوں میں مارے گئے جس کے بعد اسلم فاروقی کو داعش خراسان کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔
