انڈیا میں کرونا پاکستان نے پہنچایا، ایک اور بھارتی لطیفہ

بھارتی فوج نے پاکستان پر کرونا وائرس زدہ جنگجووں کو بارڈر پار بھجوانے کا مضحکہ خیز الزام لگاتے ہوئے یہ بات مکمل طور پر فراموش کر دی کہ اس وقت انڈیا میں پاکستان سے کئی گناہ زیادہ لوگ پہلے ہی کرونا وائرس کا شکار ہو کر موت کی وادی میں اتر چکے ہیں اور پورا ملک اس وائرس کی وجہ سے پہلے ہی تین ہفتوں کے لاک ڈاؤن کا شکار ہے۔
ایک جانب جب ساری دنیا کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں مصروف ہے تو دوسری طرف حسب عادت و حسب روایت بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف مضحکہ خیز الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اب مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی جنرل بی ایس راجو نے یہ انوکھا الزام لگایا ہے کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ کووڈ 19 کے متاثرین کو آزاد کشمیر کی طرف شفٹ کر رہا ہے تاکہ مہلک وائرس بھارت تک پہنچ جائے۔
بھارت کی ہمیشہ سے روش رہی ہے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات سے توجہ ہٹانے کےلیے پاکستان پر بے سروپا الزام تراشیاں کرتا رہتا ہے، کبھی کبوتروں تو کبھی غباروں کے ذریعے جاسوسی کا الزام لگاتا ہے۔ اب کی بار سرینگر میں تعینات انڈین آرمی کی 15 ویں کور کے کمانڈر لیفٹنینٹ جنرل بی ایس راجو نے برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ پاکستان کووڈ 19 کا مقابلہ کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ جنگجو لائن آف کنٹرول کی طرف بھیج رہا ہے۔ لیفٹینینٹ جنرل بی ایس راجو نے کہا کہ ’کووڈ 19 کے اس دور میں بھی پاکستان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے اور ’حقیقت پسندی سے سوچنے کی ضرورت ہے‘ تاکہ ہم دونوں ملک کووڈ 19 کے خلاف اپنے اپنے طریقے سے کام کریں۔
جنرل راجو نے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان تربیت یافتہ جنگجوؤں کو لائن آف کنٹرول کے پاس موجود بند جگہوں میں اپنے لانچنگ پیڈز میں رکھ کر رسک لے رہا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لیے شاید جو لوگ سرحد پار سے آئیں وہ اس وائرس کے کیریئر ہو سکتے ہیں اور اس وجہ سے وہ مستقبل میں شدت پسندوں کی لاشوں سے نمٹنے میں بھی محتاط رویہ اختیار کریں گے۔ جب انہیں کہا گیا کہ وہ اپنے اس الزام کی وضاحت کریں تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اطلاع ہے کہ پاکستانی پنجاب میں کووڈ 19 کے متاثرین کو ’دور دراز کے علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے جہاں آبادی نسبتاً کم ہے اور پاکستانی قرنطینہ سینٹرز اس طرح کے علاقوں میں بنائے گئے ہیں‘۔
جنرل راجو یہ لطیفہ ٹائپ الزام لگاتے ہوئے بھول گئے کہ بھارت میں کرونا وائرس پاکستان سے بھی پہلے پہنچ چکا تھا اور وہاں اس وائرس کے متائثرین اور اس سے ہلاک ہونے والے مریضوں کی تعداد پاکستان سے سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ تاہم راجو نے دعوی کیا کہ اس وقت ان کی زیر کمانڈ زون میں کووڈ 19 کا کوئی کیس نہیں ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی کمانڈ میں 50 فیصد فوجی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچوں سے کٹے ہوئے ہیں اور وہ سیلف سسٹیننگ یا اپنا بوجھ خود اٹھانے کے ’موڈ‘ میں ہیں اور اس لیے ’میں لائن آف کنٹرول پر اپنے فوجیوں کی تعیناتی سے مطمئن ہوں کیوں کہ تکنیکی زبان میں ان کا کسی سے رابطہ نہیں ہے اور جو واحد خطرہ ہے وہ ان سے ہے جو باہر سے آئیں گے۔‘ تاہم بار بار یہ سوال کیے جانے کے باوجود کہ کیا ان کے پاس پاکستان پر عائد کردہ الزام کے حوالے سے کوئی ثبوت موجود ہے، جنرل راجو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پائے۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button