مولویوں کا رمضان میں مساجد آباد کرنے کا اعلان

اس حقیقت کے باوجود کے پاکستان میں آدھے سے زیادہ کرونا کے مریضوں کو یہ موذی وائرس مذہبی اجتماعات سے لگا، ملک کے مذہبی حلقے اس بات پر بضد ہیں کہ وہ رمضان کے مہینے کے دوران مساجد کو مکمل آباد کریں گے اور نماز اور تراویح کی ادائی پر کسی قسم کی حکومتی پابندی برداشت نہیں کریں گے۔ ملا حضرات نے یہ اعلان یہ جانتے بوجھتے کیا ہے کہ سعودی حکومت پہلے ہی رمضان المبارک کے دوران ملک بھر کی مساجد میں نماز اور تراویح کی ادائی پر پابندی عائد کرچکی ہے۔
وفاق المدارس العربیہ سے تعلق رکھنے والے علما اور مختلف مدارس کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ایسی کسی حکومتی پابندی کو برداشت نہیں کریں گے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے 50 سے زائد جید علمائے کرام نے جامعہ دارالعلوم زکریا، ترنول میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ رمضان کے اجتماعات کو محدود رکھنے کی سوچ کو آگے نہ بڑھایا جائے ورنہ اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے صدر جامعہ دارالعلوم زکریا اور جمعیت علما اسلام اسلام آباد کے سرپرست پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی کا کہنا تھا کہ جید علمائے کرام نے واضح کیا ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم سے بچنے کے لیے تمام کوششیں کی جائیں گی‘۔
اجلاس میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں نماز ادائی کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ پانچ نمازوں کے علاوہ جمعہ اور تراویح اجتماعات لازمی احتیاطی تدابیر کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ احتیاطی تدابیر میں سینیٹائزر کا استعمال، قالینوں کو ہٹانا، فرش کی صفائی کرنا، صابن سے ہاتھ دھونے اور معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنا شامل ہیں۔
اجلاس کی ایک ویڈیو کلپ میں شدت پسند علمائے کرام، کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے نظر آ رہے تھے۔ اجلاس میں جے یو آئی-ف، عالمی تنظیم ختم نبوت، راجہ بازار کی تعلیم القرآن جیسے مدرسوں اور اہل سنت والجماعت سمیت متعدد سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ اس موقع پر پیر عزیز الرحمن ہزاروی نے کہاکہ ’مساجد کی بندش اور جمعہ اور تراویح کی نمازوں پر پابندی عائد کرنا ناقابل قبول ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسئلے کا حل اللہ تعالی سے معافی مانگنے اور مساجد میں عوام کی تعداد بڑھانے میں ہی ہے۔ اجلاس میں لال مسجد سے متعلقہ متعدد علماء کی گرفتاری پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف تمام مقدمات منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ نام نہاد علما نے کہا کہ انہوں نے ملک میں کرونا وائرس پھیلنے پر حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کیا ہے جو رمضان کے مہینے میں ختم ہوجائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے کے مولانا عبدالعزیز پہلے ہی کرونا وائرس سے بچنے کے لیے نماز جمعہ کی ادائی گی پر عائد حکومتی پابندی کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں اور ہر جمعہ امامت کرواتے ہیں۔ دریں اثنا، ایک علیحدہ پیش رفت میں وزیر برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی پیر نورالحق قادری نے اعلان کیا کہ حکومت مختلف مذہبی، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطہ کرے گی اور مساجد میں پانچ افراد کی جماعت کے لیے لیے ان کو اپنے ساتھ شامل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن، علامہ ساجد نقوی، پروفیسر ساجد میر، علامہ ناصر عباس جعفری اور سینیٹر سراج الحق سمیت سینئر علما کرام اور قائدین سے ملاقاتوں کے بعد اس فیصلے کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا۔ بعدازاں پیر نور الحق قادری نے وزیر داخلہ ریٹائرڈ بریگیڈئیر اعجاز احمد شاہ سے ملاقات کی جس میں رمضان کے دوران افطار اور تراویح کی نماز کے سلسلے میں حکمت عملی وضع کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یاد رہے کہ سعودی حکومت نے پہلے ہی رمضان المبارک کے دوران مساجد میں نماز اور تراویح کی ادائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن پاکستانی علماء کو عوام سے ذرا بھی ہمدردی نظر نہیں آتی اور وہ اپنی اپنی مذہبی دکانیں چمکانے میں مصروف ہیں۔
