افغان جیلوں سے آزاد ہونے والے پاکستانی طالبان ایک خطرہ کیسے؟


افغان طالبان کی جانب سے صوبائی دارالحکومتوں اور کابل پر قبضے کے دوران کئی جیلوں سے سینکڑوں قیدیوں کو آزاد کروایا گیا ہے جن میں تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کی تعداد 780 بتائی جا رہی ہے۔ چنانچہ پاکستانی سکیورٹی حکام نے ان رہا شدہ پاکستانی طالبان کی ملک واپسی کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر آنے کا امکان ہے۔
کابل کی جیل سے آزاد ہونے والے پاکستانی طالبان میں سب سے اہم شخص تحریک طالبان پاکستان کا سابق نائب امیر مولوی فقیر محمد ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر مولوی فقیر محمد کی ایک تازہ تصویر بھی وائرل ہے جو اسکی کابل میں ساتھیوں سمیت رہائی کے بعد لی گئی ہے۔ اس تصویر میں فقیر محمد کی داڑھی اور سر کے بال سفید نظر آتے ہیں جب کہ 8 برس پہلے اس کی گرفتاری سے پہلے کی پرانی تصویروں میں اس کے بال کالے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق افغان جیلوں سے رہا ہونے والوں میں تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر بیت اللہ محسود کے ڈرائیور اور کمانڈر زلی محسود کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ایسے رہنماؤں اور کارکنوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں جو اگرچہ بظاہر غیر معروف ہیں لیکن ان کی اپنی تنظیم میں اہمیت رہی ہے۔ اُن میں زرقاوی محسود، وقاص، حمزہ، زیت اللہ، قاری حمیداللہ، حمید اور مظہر محسود وغیرہ شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی تصاویر وائرل ہونے اور طاکبان قیدیوں کی رہائی کی اطلاعات کے بعد پاکستان میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا تحریک طالبان کے رہا ہونے والے یہ کارکن پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بعد میں پہلے ہم کو یہ بتاتے چلیں کہ مولوی فقیر محمد کون ہیں؟
پاکستان میں جب شدت پسندی عروج پر تھی تو اس وقت تحریک طالبان کہ جو گنے چُنے نام منظر عام پر آئے تھے ان میں مولوی فقیر محمد کا نام بھی شامل تھا۔
مولوی فقیر محمد تنظیم کے نائب امیر تھے اور ان کی رائے کو تنظیم کے اندر ترجیح دی جاتی تھی۔ ان دنوں پاکستان میں شدت پسند تنظیمیں تقسیم تھیں اور مولوی فقیر محمد کا نام ’حرکت طالبان‘ نامی ذیلی گروہ سے بتایا جاتا رہا لیکن ماضی میں اُن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے بھی رہا ہے۔
مولوی فقیر محمد کو سنہ 2013 میں افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ سے افغان سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ کہاں رہے اس بارے میں معلوم نہیں۔ ان کی گرفتاری کے وقت یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انھیں افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس کے اہلکاروں نے تین دیگر ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا اور بعد میں اس کی اطلاع افغان حکومت نے پاکستانی حکام کو بھی دی تھی۔ ان کی رہائی کی تصاویر پل چرخی جیل سے سینکڑوں قیدیوں کی رہائی کے موقع پر وائرل ہوئی تھی۔
مولوی فقیر محمد باجوڑ ایجنسی موجودہ ضلع باجوڑ میں کالعدم تنظیموں کے سب سے بڑے کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان دنوں قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کا اثر و رسوخ زیادہ تھا۔ القاعدہ کے مفرور امیر ڈاکٹر ایمن الظواہری سے مولوی فقیر کے خاص تعلق کی وجہ سے یہ دعوے بھی کیے جاتے رہے ہیں کہ اُن کے عرب جنگجوؤں کے ساتھ گہرے مراسم رہے ہیں۔ دوسری جانب فقیر محمد کی رہائی کے فورا بعد تحریک طالبان پاکستان کے مطلوب امیر کمانڈر نور ولی محسود نے تحریک طالبان افغانستان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو کابل پر قبضے کی مبارکباد پیش کی ہے۔
افغان امور کے ماہر تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پاکستانی کالعدم تنظیموں کے پانچ سے چھ ہزار اہلکار موجود ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان میں ہونے والی بڑی دہشت گردی کی کاروائیوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوتی۔ لیکن یوسفزئی کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں لگتا کہ موجودہ حالات میں ٹی ٹی پی کے لوگ پاکستان میں فوری کوئی کارروائی کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی طالبان اس نازک موقع پر افغان طالبان کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہیں گے۔ عقیل یوسفزئی نے کہا کہ ان لوگوں کا پاکستان میں داخل ہونا ابھی مشکل ہو گا اور انھیں نہیں لگتا کہ یہ لوگ پاکستان میں فوری داخل ہونے کی کوشش کریں گے خصوصا تب تک جب تک ان تنظیموں کے لیے حکومت کی کوئی پالیسی مرتب نہیں ہوتی۔
یاد رہے کہ پاک افغان سرحد پر متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان آنا جانا آسان تھا۔ پاکستان حکومت نے گذشتہ کچھ عرصے سے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا ہے اور نوے فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو سرحدی علاقہ ہے اس کا طویل ترین حصہ بلوچستان میں ہے۔ اس سرحد پر بلوچستان کے چھ اضلاع واقع ہیں۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا مزید کہنا ہے کہ اب سرحد پر اکثر علاقوں میں باڑ لگ گئی ہے اور حالات پہلے جیسے نہیں رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ باڑ لگنے کی وجہ سے غیر روایتی راستوں سے لوگوں کی آمدورفت نہیں ہو رہی تاہم جو قانونی راستے ہیں ان میں سے اس وقت چمن سے لوگوں کو آمدورفت کی اجازت ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں بم دھماکوں اور بدامنی کے جو واقعات ہوتے رہے ہیں ان میں سے بہت سارے واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی، داعش اور لشکر جھنگوی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔
بلوچستان میں حکام کہتے رہے ہیں کہ سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں ٹی ٹی پی سمیت متعدد دیگر کالعدم تنظیموں کے لوگ افغانستان چلے گئے تھے۔
افغان جیلوں سے آزاد ہونے والے شدت پسندوں کے تناظر میں پوچھے جانے والے سوال پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ سرکاری طور پر ایسی کوئی بات ان کی علم میں نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ افغانستان میں جیلوں سے قیدیوں کو رہائی دلانے کے عمل میں کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ بھی آزاد ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ لوگ جیلوں سے نکلے ہیں تو ان کی تعداد کے بارے میں ابھی تک بلوچستان حکومت کو سرکاری طور پر آگاہی فراہم نہیں کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی خبروں اور اطلاعات کے بعد ہم مزید الرٹ ہو گئے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ افغانستان سے کوئی بھی مجرم پاکستان میں داخل نہ ہو اور اگر وہ داخل ہونے کی کوشش کریں تو وہ گرفتار ہوں۔

Back to top button