افغان طالبان اب پاکستان کی بات کیوں نہیں مانتے؟

دھایئوں تک پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی اور سپورٹ سے افغانستان میں کامیابی سے مزاحمت کرتے ہوئے اپنا وجود برقرار رکھنے والے افغان طالبان اب پاکستانی اثر و رسوخ سے آزاد ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور اب اپنے پرانے میزبانوں اور مہربانوں کی بھی بات نہیں مانتے۔ پاکستان اور افغان طالبان کے دیرینہ تعلقات میں اس تبدیلی کا آغاز سابق طالبان امیر ملا محمد منصور کی کوئٹہ میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد سے شروع ہوا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ قیادت پر پاکستان کا اثر و رسوخ نہ صرف بہت کم ہوچکا ہے بلکہ وہ تو ملا منصور کی موت کا الزام بھی پاکستان پر دھرتے ہیں۔ تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ افغان طالبان پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم ہو چکا، لیکن یہ بات درست ہے کہ پاکستان اب طالبان پر امریکہ یا افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پریشر ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
اسوقت پاکستان ایک مرتبہ پھر امریکہ کے کہنے پر امن عمل میں دوبارہ شمولیت کیلئے افغان طالبان کو منانے کی کوششں کر رہا ہے۔ لیکن سینئر صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کے مطابق اگر پاکستان طالبان کو امن مذاکرات میں شمولیت کے لیے راضی نہ کر سکا تو پھر پھر طالبان کو پاکستان کی جانب سے کچھ سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انکے مطابق سینئر پاکستانی سیکورٹی عہدیداروں نے دوحہ دفتر میں افغان طالبان قیادت سے رابطہ کیا ہے اور ان پر واضح کیا ہے کہ استنبول میں طے شدہ کانفرنس میں شرکت سے انکار امن عمل کیلئے ایک بڑا دھچکا تھا اور اگر انہوں نے لچک کا مظاہرہ نہ کیا تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ امریکی ایما پر 24؍ اپریل کو استنبول میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس کی میزبانی ترکی، قطر اور اقوام متحدہ نے کرنا تھی، تاہم افغان طالبان کی عدم شرکت کی بناء پر کانفرنس ملتوی کر دی گئی۔ اس کانفرنس کا مقصد امن عمل میں تیزی لانا تھی لیکن طالبان کے شرکت سے انکار کے بعد واشنگٹن میں نئی انتظامیہ نے امریکی فوج کے انخلاء کی تاریخ یکم مئی سے بڑھا کر 11؍ ستمبر 2021ء کر دی۔ دوسری جانب افغان طالبان نے اس نئی تاریخ کو مسترد کر دیا اور اسے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کیے گئے امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
حامد میر کے مطابق حال ہی میں ترکی، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی استنبول میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے حصول کیلئے معاہدے پر عملدرآمد کے وعدے پر عمل کیا جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایک سینئر پاکستانی سیکورٹی عہدیدار ایک مرتبہ پھر افغان طالبان سے دوحہ میں ملاقات کرے گا جس میں طالبان کو واضح الفاظ میں پیغام دیا جائے گا کہ ’’بس بہت ہوگیا۔‘‘ حامد میر کے مطابق افغان امن عمل میں پاکستان اور دیگر بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کی کوشش ہے کہ افغان طالبان کو منایا جائے کہ وہ عبوری اتحادی حکومت میں شمولیت اختیار کریں لیکن طالبان ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں کو افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان سے جڑے گروپس کے آپسی درمیان تعلقات کا پتہ چلا ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ دونوں طالبان ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں اس لیے افغان طالبان کے ساتھ بھی سختی برتنے کا فیصلہ ہو سکتا ہے خصوصا اگر وہ امن مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو۔
دوسری جانب حامد میر کے مطابق افغان طالبان نے واضح کر رکھا یے کہ وہ صرف امریکی فوج کا افغانستان سے انخلاء ہی نہیں چاہتے، بلکہ اقوام متحدہ کی تیار کردہ دہشت گردوں کی فہرست سے اپنے ساتھیوں کے ناموں کا اخراج اور ان کی رہائی بھی چاہتے ہیں۔ لیکن اب طویل عرصہ سے طالبان سے بات چیت میں مصروف پاکستانی حکام کو ان کا غیر لچکدار رویہ مزید قابل قبول نہیں۔ ایک سینئر پاکستانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اشرف غنی سے بات چیت کرنا آسان لیکن افغان طالبان سے مشکل ہے اس لیے اب انھیں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا ورنہ پاکستان کو بھی سختی کرنا پڑے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button