اقوام متحدہ کی ایلچی کی طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے ملاقات

اقوام متحدہ کی ایلچی نے افغانستان کے نئے وزیر داخلہ سے ملاقات کی ہے جو کئی برس سے دنیا کے انتہائی مطلوب عسکریت پسندوں میں سے ایک تھے اور اب وہ ایک ایسے حکومت کا حصہ ہیں جو انسانی بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی سربراہ ڈیبورا لیونز اور سراج الدین حقانی کے درمیان ہونے والی ملاقات انسانی امداد پر مرکوز رہی۔
انہوں نے کہا کہ سراج الدین حقانی نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے اہلکار بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام انجام دے سکتے ہیں اور افغان عوام کو اہم امداد پہنچا سکتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری کے ساتھ مشترکہ تعلقات پر زور دیا۔
خیال ہے کہ افغانستان کو پہلے ہی غربت اور خشک سالی کا سامنا ہے، گزشتہ ماہ طالبان کی حکومت سنبھالنے کے بعد سے امداد کی فراہمی میں رکاوٹ، حکومت اور امدادی کارکنوں سمیت ہزاروں افراد کی دیگر ممالک کی جانب روانگی اور بہت سی معاشی سرگرمیوں کے خاتمے کے ساتھ حالات خراب ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے رواں ہفتے ایک بین الاقوامی امدادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانیوں ’شاید ان کی سب سے خطرناک گھڑی‘ کا سامنا ہے۔
ایک خونریز ترین واقعہ میں طالبان عسکریت پسندوں نے 2009 میں کابل میں ایک گیسٹ ہاؤس پر حملے میں اقوام متحدہ کے 5 غیر ملکی عملے کو قتل کر دیا تھا۔
طالبان کے اندر کا ایک دھڑا حقانی نیٹ ورک کو شورش کے دوران افغانستان میں بدترین عسکریت پسند حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
امریکا نے 2012 میں اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔
جنیوا میں ایک ڈونر کانفرنس میں افغانستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی امداد کا وعدہ کرنے کے بعد طالبان نے عالمی برادری کا شکریہ ادا کیا۔
اقوام متحدہ کے چیف نے کہا تھا کہ موجودہ وقت میں طالبان کے ساتھ بات چیت کرنا بہت ضروری ہے۔
