الیکشن کمیشن دھاندلی کرنے والوں کے خلاف کیاایکشن لے گا؟


حکومت پنجاب نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں ہونے والی بدترین دھاندلی کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر ڈالتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ تحقیقاتی رپورٹ میں ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے خلاف فوری کارروائی کا آغاز کرے۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ نواز نے ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی کی ذمہ داری وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی عثمان بزدار پر ڈالتے ہوئے الیکشن کمیشن سے دونوں کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر دھاندلی میں ملوث لوگوں کے خلاف خود کوئی ایکشن لیتا ہے یا نہیں؟
تاہم ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں ملوث ہونے کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان نے الیکشن کمیشن کو ضمنی الیکشن میں قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والے انتخابی عملے کے خلاف فوری طور پر کارروائی شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران کی تعیناتی اور کردار الیکشن کمیشن کا معاملہ ہے اور انہی کو اسے دیکھنا چاہیے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں جاری ہونے والی اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں فروری 2021 میں حلقہ این  اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کی تصدیق کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور چند حکومتی شخصیات کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ رپورٹ میں انتخابی اہلکاروں، پولیس اور مقامی انتظامیہ کو اپنا قانونی کردار ادا کرنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ الیکشن منصفانہ، آزادانہ اور شفاف طریقے سے نہیں ہوئے تھے۔ رپورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں تعینات 20 پریزائیڈنگ افسران کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے نتائج کی تبدیلی کے لیے مختلف حربے استعمال کیے۔ 
رپورٹ میں کئی دوسرے سرکاری اہلکاروں بشمول پولیس افسران کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے پریزائیڈنگ افسران کو انتخاب کے نتائج تبدیل کرنے سے متعلق یدایات، احکامات اور مدد فراہم کی۔ 
دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان حسان خاور نے ڈسکہ الیکشن میں حکومت پنجاب پر دھاندلی کروانے کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں کوئی صداقت نہیں اور ان کا مقصد صرف حکومت کو بدنام کرنا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ کو دیکھا جا رہا ہے اور حکومتی سطح پر کوئی کمی یا کوتاہی ہوئی تو ایکشن لیا جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ ’ہم چاہیں گے کہ انتخابات سے متعلق معاملات بہتر ہو لیکن ڈسکہ ضمنی انتخاب میں زیادہ ذمہ داری الیکشن کمیشن کی بنتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکومتوں نے ہمیشہ ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا کیس لڑا ہے اور اسی لیے تحریک انصاف کی حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کروانا چاہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عملے سے صوبائی یا وفاقی حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ ان کی تعیناتی اور ان سے کام لینا الیکشن کمیشن کی ذمہ  داری ہے۔ 
پنجاب حکومت کے ترجمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے کہ انتخابی عمل ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کیوں ناکام رہا۔ تاہم حسان خاور نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں پنجاب حکومت کے غیر انتخابی سرکاری اہلکاروں کے مبینہ غیر قانونی کردار پر تبصرہ نہیں کیا جن پر دھاندلی میں آلہ کار بننے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دھاندلی کی منصوبہ بندی اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کی سرکاری رہائش گاہ پر ہوئی کوئی اور اس اجلاس میں فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔ دوسری طرف حزب اختلاف کی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلی عثمان بزدار کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔  مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ سے ثابت ہو گیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ڈسکہ کے ضمنی انتخابات چوری کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم ہونا چاہیے۔ 
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار آیاز صادق نے بھی اسی طرح کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈسکہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کے الزامات ثابت ہونے کے بعد حکومت کے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔
یاد رہے کہ ڈسکہ کے ضمنی الیکشن سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’انتخابی اہلکاروں، پولیس اور انتظامیہ الیکشن کے دوران اپنے ناجائز آقاؤں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے رہے۔ ڈسکہ کا الیکشن تشدد، دھاندلی اور 20 سے زائد پریذائیڈنگ افسران کے لاپتہ ہونے کے باعث متاثر ہوا تھا، بعد ازاں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کی گئی۔  الیکشن کمیشن نے 19 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج غلط ہونے کے شبہے کے تحت پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا تھا جب کہ بعد میں سپریم کورٹ نے بھی اس حکم کو برقرار رکھا۔ 
بعد ازاں این اے 75 ڈسکہ میں اپریل 2021 میں دوبارہ ضمنی انتخاب منعقد ہوئے تھے، جن میں مسلم لیگ (ن) کی سیدہ نوشین افتخار ایک لاکھ 10 ہزار ووٹ لے کر تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی کے 93 ہزار ووٹوں کے مقابلے میں کامیاب قرار پائی تھیں۔ الیکشن کمیشن کی انکوائری رپورٹ کے مطابق: ’ایسا لگتا تھا کہ ایک مستقل آبزرویٹری فورس پریزائیڈنگ افسران کو چلا رہی تھی یا انہیں لالچ دے رہی تھی اور وہ ضمنی انتخابات کے دوران اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے۔‘ رپورٹ میں کہا گیا کہ 20 پریزائیڈنگ افسران، جنہیں زبردستی کسی نامعلوم مقام پر لے جایا گیا تھا، کے بیانات حقائق چھپائے جانے کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ مذکورہ افسران نے انتخاب کے دوران رپورٹ ہونے والی بے ضابطگیوں کے لیے پولیس اہلکاروں کو مورد الزام ٹھہرایا۔
تاہم رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ مذکورہ افسران کے بیانات ان کی غفلت اور بدانتظامی کا جواز پیش نہیں کر سکتے۔  الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ پریزائیڈنگ افسران کے بیانات اور انہیں نامعلوم مقامات پر لے جائے جانے کی تحقیقات سے شکوک پیدا ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی پشت پناہی کر رہا ہے، جبکہ سینئیر اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسرز نے بھی ان شبہات کی تائید کی۔  رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سینئیر پریزائیڈنگ افسران کے بیانات سے واضح ہوا کہ ایک پریزائیڈنگ افسر اپنی مرضی سے شواہد کا ٹیمپرڈ بیگ ایک شاپنگ بیگ میں ڈال کر اپنے ساتھ لے کر گیا تھا۔   
رپورٹ میں مزید کہا گیا: ’واقعاتی شواہد، بعض پریزائیڈنگ افسران اور سینئیر پریزائیڈنگ افسران کے تحریری بیانات، بہت سے ڈرائیوروں اور پولیس اہلکاروں کے بیانات اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے سی ڈی آر ڈیٹا سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا پریزائیڈنگ افسران منصوبہ بندی کے تحت نجی گاڑیوں میں اپنے متعلقہ پولنگ سٹیشنز چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر دھاندلی کے ذمہ داران کے خلاف خود کوئی ایکشن لیتا ہے یا نہیں؟

Back to top button