الیکشن کمیشن نے ڈسکہ میں دھاندلی کو مزید ننگا کر دیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سے ڈسکہ ضمنی الیکشن میں بدترین حکومتی دھاندلی کا پردہ چاک کرنے کے بعد اب ایک نئی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس نے پنجاب حکومت کی رہی سہی عزت کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ ڈسکہ ضمنی انتخاب سے متعلق ایک اور تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ’ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سمیت پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو پہلے ہی اس بات کا علم تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور انہوں نے منصوبہ بندی کے مطابق الیکشن میں دھاندلی ہونے دی۔ ضمنی انتخاب میں الیکشن ڈیوٹی سر انجام دینے والے حکومت پنجاب کے سینئیر افسران کے خلاف 34 صفحات پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ضلعی انتظامیہ کسی نہ کسی سطح پر ضمنی الیکشن کے حوالے سے تمام ناپسندیدہ اور غیر قانونی واقعات میں شامل رہی‘۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر یعنی ڈی پی او نے جان بوجھ کر ریٹرننگ افسران کے پاس تاخیر سے سیکیورٹی پلان جمع کروایا تا کہ کسی بھی اعتراض، سوال اور جھول کی نشاندہی سے بچا جاسکے۔
یہ بھی کہا گیا کہ ضلعی پولیس کے سربراہ ہوتے ہوئے ڈی پی اور ایس پی انویسٹی گیشن سیالکوٹ الیکشن کے دن اپنے گھروں میں رہے اور ضمنی انتخاب کے انتہائی اہم موقع پر امن و عامہ کی صورت حال سنبھالنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ لہٰذا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان دونوں کو پہلے سے معلوم تھا کہ پولنگ والے دن شہر میں امن و امان کی خرابی کے حوالے سے کیا ہوگا، اسی لیے انہوں نے منصوبہ بندی کے مطابق جان بوجھ کر حالات کو خراب ہونے دیا اور امن و عامہ برقرار رکھنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیا۔
الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضلعی پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے ڈی پی او اپنے ماتحتوں کی غلطیوں کا ذمہ دار ہوتا ہے کیونکہ وہ ضلع کی سیکیورٹی سے متعلق ہر کام کی منظوری دینے کا اختیار رکھتا ہے اور سیکیورٹی پلان جاری کرنے کا مجاز ہے۔ رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ ضلعی پولیس کو بھی پولنگ کے دن ہونے والے واقعات کا علم تھا اور وہ جان بوجھ کر یا نیم دلی سے اس کی انجام دہی میں حصہ دار بن گئے کیونکہ اسطرح کے ناخوش گوار واقعات کو روکنے کے لیے ضلعی پولیس کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے جن کی نشاندہی انٹیلی جنس بیورو نے اپنی رپورٹ میں کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈی پی او تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور انتخابی عمل کو خطرے میں ڈالنے اور نتائج کو حکومت کے حق میں تبدیل کرنے کی پوری کوشش کرتا رہا جو کہ اس کی جانب سے ایک مجرمانہ فعل تھا۔
الیکش کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ، ڈی پی او نے اس طرح کا کوئی کردار ادا کرنے سے انکار کیا لیکن اسی تاریخ اور وقت پر اڈہ بیگو والا میں ان کی موجودگی انکے دفاعی بیان کی نفی کرتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی ٹی اے سے حاصل کردہ ان کے موبائل نمبر کی سی ڈی آر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف چند سرکردہ سیاست دانوں بلکہ تمام مشکوک کرداروں سے بھی رابطے میں تھے، مزید یہ کہ ان کی رہائش گاہ غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی تھی جہاں پر سرکاری افسران کی ملاقاتیں باقاعدگی سے ہوتی تھیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنر ہاؤس ڈسکہ بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشیر فردوس عاشق اعوان کے اجلاسوں کا مرکز بن گیا تھا جہاں انہوں نے اجلاسوں کی صدارت کی۔
یاد رہے کہ پہلی انکوائری رپورٹ میں الیکشن کمیشن نے قرار دیا تھا کہ انتخابی عہدیدار اورحکومتی اہلکار الیکشن والے دن اپنے ’غیر قانونی آقاؤں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلیوں‘ کے طور پر کام کرتے رہے۔ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا آغاز ڈسکہ ضمنی انتخاب میں دھاندلی، تشدد اور 20 پریزائیڈنگ افسران کے لاپتا ہونے کے بعد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ای سی پی نے نتائج روک کر حلقہ این اے-75 میں دوبارہ ضمنی انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر نے اعتراف کیا کہ حکومت نے ضمنی انتخاب میں ان پر دباؤ ڈالا تھا۔
