الیکشن کمیشن نے 11 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ دے دی

الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے تمام شکوک و شبہات ختم ہو گئے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں 11فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ دے دی۔تاہم سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو صدر ڈاکٹر عارف علوی سے آج ہی مشاورت کر کے حتمی تاریخ طے کرنے کا حکم دے دیا۔

ملک میں 90 روز میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کے استفسار پرالیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لیے 11 فروری کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے بعد 29 جنوری تک انتخابی مہم کے لیے 54 روز مکمل ہوں گے۔الیکشن کمیشن نے انتخابات کے شیڈول سے متعلق سپریم کورٹ کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 29 جنوری کو حلقہ بندیوں سمیت تمام انتظامات مکمل ہوجائیں گے، وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی کے مطابق 11 فروی کو ملک بھر میں انتخابات ہوں گے، 5 دسمبر کو حتمی فہرستیں مکمل ہو جائیں گی، 5 دسمبر سے 54 دن گنیں تو 29 جنوری بنتی ہے.وکیل الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ انتخابات میں عوام کی آسانی کیلئے اتوار ڈھونڈ رہے تھے، 4 فروی کو پہلا جبکہ دوسرا اتوار 11 فروری کو ہے۔ ’ حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات کرائیں گے، ہم نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا کہ 11 فروری والے اتوار کو الیکشن کروائے جائیں۔‘

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا انتخابات کی تاریخ سے متعلق صدر پاکستان آن بورڈ ہیں؟ کیا الیکشن تاریخ سے متعلق صدر سے مشورہ کیا گیا؟چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن آج صدر سے مشاورت کرے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر آج ہی الیکشن کمیشن صدرسے مشاورت کرلیتا ہے تو سماعت کریں گے، کیا کسی کو اعتراض ہے کہ الیکشن کمیشن صدرمملکت سے مشاورت کرلے؟چیف جسٹس کے استفسار پر پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے کہا کہ صرف پتھر پر درج انتخابات کی تاریخ چاہیے جب کہ پی پی کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ مشاورت پر کوئی اعتراض نہیں۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھیں آج ہم نے پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کو اکٹھا کردیا، کل کو سرخی نہ لگی ہوکہ پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کا اتحاد ہوگیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے تو صدر سے مشاورت نہ کر کے آئین کو دوبارہ تحریر کر لیا ہے، آئینی خلاف ورزی پر جس کے خلاف کارروائی کرنا ہے اس کے فورمز موجود ہیں، عدالتی استفسار پر وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ الیکشن کمیشن صدر مملکت کو ’آن بورڈ‘ لینے کا پابند نہیں ہے۔الیکشن کی تاریخ دینے سے قبل صدرمملکت سے مشاورت نہ کرنے پرالیکشن کمیشن پر اظہاربرہمی کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صدر بھی پاکستانی ہیں اور الیکشن کمیشن بھی پاکستانی ہے، الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت نہ کرنے پر کیوں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے پوچھا کہ انتخابات کی تاریخ دینا صدر کا کام ہے، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ یہ ہمارا کام ہے، اس موقع پر چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی سے کہا کہ ابھی جائیں اور چیف الیکشن کمشنر سے پوچھیں آیا وہ صدر مملکت سے مشاورت کے لیے تیار ہیں اور عدالت میں جواب دیں۔وقفہ کے بعد سماعت شروع ہوئی توالیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے صدرمملکت سے مشاورت کا فیصلہ کر لیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وہ آپ کو نہ بھی بلائیں آپ ان کا دروازہ کھٹکھٹا دیں، سپریم کورٹ بغیر کسی بحث کے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے چیف الیکشن کمشنر کوآج ہی صدر مملکت سے مشاورت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل بھی اس مشاورت میں شریک ہوں گے۔

 90 روز میں انتخابات کیس کی سماعت کے حکم نامے میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عام انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان سپریم کورٹ سے ہوگا۔آج کی سماعت کے حکم نامے کے مطابق الیکشن کمیشن نے کہا حلقہ بںدیوں کا عمل 30 نومبر کو مکمل ہو گا جس کے بعد الیکشن شیڈول جاری ہو سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تمام مشق 29 جنوری بروز پیر کو مکمل ہو گی، الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں زیادہ عوامی شرکت مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات کی تاریخ اتوار کے روز تجویز دی ہے۔

چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دیتے ہوئے کہا آج ہی صدر سے رابطہ کریں، فون اٹھائیں اور صدر کے ملٹری سیکرٹری کو ملیں، اٹارنی جنرل مشاورتی عمل میں آن بورڈ رہیں، اٹارنی جنرل الیکشن کمیشن اور صدر پاکستان کی چائے پر ملاقات کرانے کا اہتمام کرے۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے کہا کہ عام انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان سپریم کورٹ سے ہوگا، الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کر کے کل جمعہ کو سپیرم کورٹ کو بتائے، الیکشن کمیشن اور صدر مشاورت کر کے دستاویزات عدالت میں پیش کریں۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن مشاورت کے بعد آج ہی تاریخ کا معاملہ حل ہوجائے گا، دستاویز پر سب کے دستخط ہوں گے تا کہ کوئی مکر نہ سکے، حتمی تاریخ کے بعد اس میں توسیع کی درخواست نہیں سنی جائے گی۔

Back to top button