چیف الیکشن کمشنر ملک کی دوسری طاقتور ترین سخصیت کیسے بنے؟

ملک میں نگران حکومتوں کے قیام کے بعد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطاں راجہ بیوروکریسی کے سیاہ وسفید کے مالک بن گئے ہیں ملک بھر میں کوئی تقرر و تبادلہ انکی منظوری کے بغیر نہیں ہوتا نگران وزرائے اعلیٰ ہوں یا نگران وزیر اعظم سب کے تقرر اور انتخاب میں انکا مرکزی کردار رہا ہے. چیف الیکشن کمشنر اس وقت ملک کی دوسری طاقتور ترین شخص بن چکے ہیں کہنے والے تو یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ اس وقت صاحب بہادر کے کہنے پر 8 سے 10 تو صرف ڈپٹی کمشنرز لگے ہوئے ہیں۔آج کل کا سب سے بڑا سیاسی موضوع الیکشن کی تاریخ ہے۔ نگران وزیر اعظم سے پوچھا گیا الیکشن کی تاریخ ؟ تو انہوں نے کہا یہ چیف الیکشن کمشنر کا اختیار ہے، نگران وزیر اعلیٰ بھی بار بار یہ کہہ رہے ہیں حتیٰ کہ نواز شریف بھی کہتے ہیں کہ یہ چیف الیکشن کمشنر کا اختیار ہے۔ اب اتنا اختیار ہونے کے باوجود اگر چیف الیکشن کمشنر صاحب بہادر الیکشن کی تاریخ کے بارے میں پراسرار طور پر خاموش رہے تو ان سے پوچھنا تو بنتا ہے کہ آپ کس آئین کے تحت کام کر رہے تھے اور آپکی 90 روز کی مقررہ حد کے بارے میں تشریح کیا ہے . ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ کہتے ہیں کہ ہ ہمارے ہاں بدقسمتی یہ رہی ہے کہ صاحبان اقتدار، آئین میں لکھی ہوئی واضح چیزیں بھی گڈمڈ کر دیتے ہیں ،جنرل ضیاءالحق نے 90روز میں الیکشن کا وعدہ کیا اور پھر وہ 90دن طویل ہو کر برسوں پر محیط ہو گئے۔ کچھ ایسا ہی حال موجودہ الیکشن کمیشن کا ہے کہ انہیں آئین میں لکھے ہوئے واضح الفاظ نظر نہیں آرہے تھے کیونکہ وہ آئین پر عمل کی نظر سے اسے نہیں پڑھ رہے تھے بلکہ اپنی خواہشات کے مطابق اسکی تاویل کرنے میں مصروف رہے ۔ الیکشن کمیشن پر ہی موقوف نہیں یہاں تو بڑے بڑوں کو گنتی میں کونسا عدد بڑا ہے اور کونسا چھوٹا،یہ بھی بھول جاتا ہے۔ 1988ء کے الیکشن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کو 93نشستیں ملی تھیں جبکہ اسلامی جمہوری اتحاد کو 54سیٹیں ملیں ،اس وقت کے طاقتور صدر غلام اسحاق خان نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ جائزہ لے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے زیادہ نشستیں جیتی ہیں یا اسلامی جمہوری اتحاد نے ؟اس موقع پر مرحوم و مغفور نوابزادہ نصراللہ خان نے کہا کہ لگتا ہے صدر اسحاق خان گنتی بھول گئے ہیں کس کو نہیں علم کہ 93کا عدد 54سے کتنا بڑا ہے؟ یہ الگ قصہ ہے کہ کس طرح جمہوری دبائو پر صدر اسحاق خان اور مرزا اسلم بیگ کو جھکنا پڑا اور بے نظیر بھٹو کو اقتدار دینا پڑا مگر اقتدار سے پہلے ہی انہوں نے منوا لیا کہ مشیر خزانہ وی اے جعفری، وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان اور وزیر دفاع کرنل سرور چیمہ ہونگے یوں بے نظیر بھٹو کو جیتنے کے باوجود کٹا پھٹا اقتدار لینا پڑا. خیر ذکر ہو رہا تھا آئین میں لکھے واضح الفاظ کا اور گنتی میں 90روز کے شمار کا مگر چیف الیکشن کمشنرصاحب بہادر کی اس طرف توجہ ہی نہیں تھی. سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ انصاف کی بات یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر صاحب بہادر کا بطور افسر کیریئر بے داغ گزرا ہے انہیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور لیڈر آف دی اپوزیشن شہباز شریف کے درمیان اتفاق رائے سے چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا ،یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انصافی حکومت کے دو ران انہوں نے دبائو کو ماننے سے انکار کیا، ڈسکہ ضمنی انتخابات کی دھاندلی کو نہ صرف بے نقاب کیا بلکہ اسکے ذمہ داروں کوسزائیں بھی دیں۔ اس سارے عمل میں کھلاڑی خان اور انکی ٹیم نہ صرف انکے خلاف بیانات دیتی رہی بلکہ انکے خلاف احتجاج بھی کرتی رہی ۔سکندر سلطان راجہ صاحب بہادر اس دور میں بہادری سے کھڑے رہے جس سے یہ تاثر ملا کہ وہ آئین اور قانون کے سختی سے پابند ہیں اور اس حوالے سے ڈر یا خوف سے وہ اپنی راہ تبدیل نہیں کریں گے۔ یہ ان کا پہلے کا روپ تھا مگر انصافی حکومت جانے کے بعد سے وہ ملک کے دوسرے طاقتور ترین شخص بن گئے ہیں۔ شہباز شریف حکومت کے جانے کے بعد سے تو وہ اور بھی طاقتور ہوگئے، ہمیں علم ہے کہ صاحبانِ اقتدار ہوں یا طاقتور ادارے نہ انہیں کوئی دبا سکتا ہے اور نہ انہیں کوئی آئین اور قانون پر عمل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے ۔مگر دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ صاحبان ِاقتدار اور طاقتور اداروں نے ایسی بے پناہ طاقت کے باوجود آئین اور قانون کو مقدم رکھنے اور اپنی طاقت کو سرنڈر کرنے کا فیصلہ کیا۔ایسی قوموں نے ہی ترقی کی اور اپنی طاقت کو سرنڈر کرنے والے تاریخ میں ہیرو ٹھہرے.
