’’الیکٹ ایبلز‘‘ موجودہ الیکشن میں کتنے کامیاب ثابت ہونگے؟

انتخابات قریب آنے پر یا سیاستدانوں کیلئے اکثر ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، جس سے اکثر لوگ ناواقف ہوتے ہیں کہ حلقے میں برادری یا کسی بھی بنیاد پر اپنا ذاتی ووٹ بینک رکھنے والے سیاست دان ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کہلاتے ہیں۔کیا پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت محض پارٹی ووٹ بینک کی بنیاد پر 2024 کا الیکشن جیت سکتی ہے؟ اس سوال پر آنے سے پہلے ہم آپ کو 1970 کے انتخابات کا ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں، صحافی قیوم نظامی اپنی کتاب ’’جو دیکھا جو سنا‘‘ میں لکھتے ہیں، ’شیخ محمد رشید لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ 98 سے (پیپلز پارٹی کی جانب سے) امیدوار تھے جن کا مقابلہ جماعت اسلامی کے امیر میاں محمد طفیل اور کونسل مسلم لیگ کے رہنما میاں عبدالخالق سے تھا۔بابائے سوشلزم کے نام سے مشہور شیخ رشید ایک دبلے پتلے اور انتہائی سادہ انسان تھے، تصور کیجئے قومی اسمبلی کا امیدوار اور حلقے کے لوگ چہرے تک سے واقف نہیں، جب نتائج آئے تو انہوں نے 68 ہزار 721 ووٹ لیے، ان کے مقابلے میں کھڑے تمام امیدواروں کے ووٹ کل ملا کر اس کا ایک تہائی حصہ بھی نہیں بنتے، اب ہم آتے ہیں اپنے سوال کی طرف کہ کیا پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت پارٹی ووٹ بینک کی بنیاد پر آج یہ تاریخ دُہرا سکتی ہے؟ سیاسی مبصرین اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے معروف صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں، ’کوئی جماعت بھی اس پوزیشن میں نہیں، اس لیے انتخابات میں کامیابی کا فارمولا ’پارٹی ووٹ بینک + الیکٹ ایبلز‘ ہے، پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کا الیکشن اسی طرح جیتا، مسلم لیگ ن بھی 2024 میں یہی فارمولا استعمال کر رہی ہے۔انتخابی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار احمد اعجاز انڈیپینڈنٹ اردو کو بتاتے ہیں، عقیدت کا ووٹ بینک رکھنے والی شخصیات بھی ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کہلاتی ہیں، یہ عموماً بڑے زمیندار بھی ہوتے ہیں، ان کے مذہبی مریدوں اور عقیدت مندوں کا ایک وسیع دائرہ ہوتا ہے جو کئی حلقوں تک پھیلا ہوتا ہے اور ہر حال میں انہیں ووٹ دیتا ہے۔1970 میں پاکستان کے پہلے عام انتخابات ہوئے اور جیسا کہ ہم نے مثال دی تب ووٹ بینک پارٹی کا تھا۔ اس دور میں مغربی پاکستان میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست عروج پر تھی، ایک طرف بھٹو کی جماعت اور دوسری طرف مذہبی جماعتیں متحرک تھیں۔مسلم لیگ کے مختلف دھڑے خود کو ’پاکستان بنانے والی جماعت‘ کہہ کر سپیس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، یہ دور پاکستانی سیاست میں نظریاتی کشمکش کا دور کہلاتا ہے، پروفیسر محمد صدیق قریشی کی کتاب ’’پولیٹیکل کلچر اِن پاکستان‘‘ اس موضوع پر عمدہ دستاویز ہے۔وہ لکھتے ہیں، ’پاکستان کی پہلی اسمبلی میں 31 وکلا، 27 جاگیردار، 12 دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور ایک بزنس مین تھے۔سہیل وڑائچ بتاتے ہیں، ’ضیا الحق کو خدشہ تھا پیپلز پارٹی الیکشن میں سویپ کر جائے گی، اس نے غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کا اعلان کر دیا۔ یہیں سے ہماری سیاست ہمیشہ کے لیے بدل گئی، اگرچہ الیکٹ ایبلز پاکستان بننے سے پہلے بھی موجود تھے لیکن ہمارے موجودہ سیاسی تناظر میں اس کا کھرا 1985 کے الیکشن تک جاتا ہے، پولیٹیکل کلچر اِن پاکستان‘ کے مطابق 1993 کے انتخابات میں پی پی اور ن لیگ کے 80 فیصد امیدوار جاگیردار اور صنعت کار تھے۔معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن ظفر فرائیڈے ٹائمز میں اسی بات کی تائید میں وضاحت کرتے ہیں، ’غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات نے ملک کی سیاسی اور انتخابی ڈائنیمکس کو یکسر تبدیل کر دیا۔ سیاسی جماعتوں کی غیر موجودگی میں ذاتی شان و شوکت کو اہمیت حاصل ہوگئی، یہ بات نواز شریف کی جانب سے پی پی 105 اور این اے 95 کے انتخابات پر خرچ کیے جانے والے 50 لاکھ روپے (جب ڈالر 15 روپے کا تھا) سے واضح ہوتی ہے، ان دونوں حلقوں (صوبائی اور قومی) میں ووٹرز زیادہ تر آرائیں اور کشمیری تھے۔جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ فرد کی بجائے سیاسی نظریات اور خیالات کو فوقیت دی جائے۔ لیکن روحانی، جاگیرداری یا برادری کارڈ کو ترپ کے پتے کے طور پر استعمال کرنے والے کسی بھی پارٹی، کسی بھی ٹکٹ اور کسی بھی انتخابی نشان پر جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ الیکٹ ایبل صرف اور صرف ذاتی مفاد کو مدِنظر رکھتے ہیں۔پاکستان میں انتخابات سے پہلے الیکٹ ایبلز کی سیاسی قلابازیاں معمول کی سرگرمی ہیں، سہیل وڑائچ کہتے ہیں، ’مسلم لیگ ن تو تھی ہی الیکٹ ایبلز کی جماعت۔ اس کا پارٹی ووٹ بینک 1990 کی دہائی میں بنا، یہ جب بھی جیتی پارٹی ووٹ بینک + الیکٹ ایبلز سے جیتی۔ ایسا لگتا ہے مسلم لیگ ن دیگر جماعتوں پر برتری لے جائے گی اور اس میں الیکٹ ایبلز کا بہت اہم کردار ہو گا۔احمد اعجاز کی رائے اس سے مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں ’پنجاب بالخصوص جی ٹی روڈ پر الیکٹ ایبلز کا زور ٹوٹ چکا ہے، اس میں بنیادی کردار عمران خان فیکٹر کا ہے، عمران کا جادو نوجوان طبقے پر چلا ہے، وہ کسی کی سننے کو تیار نہیں، وہ متحرک ہے، جذباتی ہے، ووٹ مانگنے اور دائرہ اثر کو بڑھانے کا طریقہ کار تبدیل ہو گیا ہے، الیکٹ ایبلز جن دھڑوں اور برادریوں پر انحصار کرتے تھے وہ ٹوٹے ہیں اور ٹوٹ رہے ہیں۔

Back to top button