اماراتی پرواز میں کپتان پر چاقو سے حملہ کرنے والا شریک پائلٹ برطانیہ میں پڑھا تھا: رپورٹ

برطانوی میڈیا کے مطابق ملزم کے قبضے سے 3 سال قبل اسرائیلی طیاروں کو ہدف بنانے کی سازش کا منصوبہ اور القاعدہ کا پراپیگنڈا مواد برآمد ہوا تھا

دبئی: اماراتی پرواز میں کپتان پر چاقو سے حملہ کرنے والا شریک پائلٹ برطانیہ میں پڑھا تھا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق 3 سال پہلے ملزم کے قبضے سے اسرائیلی طیاروں کو ہدف بنانے کی سازش کا منصوبہ برآمد ہوا تھا۔ ملزم کے پاس القاعدہ کا پراپیگنڈا مواد بھی موجود تھا، تاہم اسے اماراتی پرواز اڑانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اماراتی ایئرلائن کے زخمی کپتان کو ٹیلیفون کیا اور ان سے پوچھا کہ طیارے میں کیا واقعہ پیش آیا تھا۔ زخمی کپتان نے اسرائیلی وزیراعظم کو اپنے اوپر ہونے والے حملے کا پورا واقعہ بتایا۔

کپتان نے بتایا کہ شریک پائلٹ نے کہا تھا کہ وہ عبادت کرنے جارہا تھا، تاہم اچانک ان کے سر پر چوٹ لگی۔ انہیں لگا کہ طیارے کو حادثہ پیش آیا ہے، لیکن جب مزید ضربیں لگیں تو احساس ہوا کہ حملہ کرنے والا شریک پائلٹ ہے۔

کپتان کے مطابق انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو شریک پائلٹ انہیں روکتا رہا۔ کاک پٹ کا دروازہ کھلنے کے بعد لوگوں نے شریک پائلٹ پر قابو پالیا۔

واقعے کا پس منظر

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں دبئی سے اسرائیل جانے والی اماراتی پرواز کے ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کرکے اسے زخمی کردیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جہاز کا کنٹرول چھیننے اور اسے گرانے کی کوشش کی گئی۔ طیارے میں 169 اسرائیلیوں سمیت 174 مسافر سوار تھے۔ حملہ کرنے والا پائلٹ سعودی حکام کی حراست میں ہے۔

صورتحال اس وقت قابو میں آئی جب طیارے میں موجود مسافروں نے بروقت مداخلت کرکے شریک پائلٹ کو قابو کرلیا۔ بعد ازاں جہاز میں سفر کرنے والے ایئرلائن کے دیگر آف ڈیوٹی پائلٹس نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسے بحفاظت سعودی عرب میں اتار لیا۔

Back to top button