امریکا اور ایران کا جنگ بندی معاہدے پر اتفاق، وائٹ ہاؤس کی تصدیق؟

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملوں اور کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران جنگ بندی معاہدے کی اہم جزیات پر متفق ہو گئے ہیں، تاہم اس مجوزہ مفاہمتی یادداشت کو ابھی دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی حتمی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔ وائٹ ہاؤس نے بھی نیوز ویب سائٹ کی خبر کی تصدیق کردی۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات شروع کرنے کے لیے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس پر باضابطہ دستخط نہیں کیے جبکہ ایران کی جانب سے بھی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ رپورٹ کے مطابق ثالثی کے عمل میں شامل امریکی اور علاقائی حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے اور اسے حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سب سے اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مفاہمتی یادداشت زیر غور ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی اس کی حتمی منظوری نہیں دی۔امریکی حکام کے مطابق معاہدے کی زیادہ تر شرائط پر اتفاق ہو چکا تھا لیکن دونوں ممالک کو اپنی اعلیٰ قیادت سے منظوری درکار تھی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں ایرانی عہدیداروں نے اشارہ دیا کہ انہیں ضروری منظوری مل چکی ہے اور وہ دستخط کے لیے تیار ہیں، تاہم ایران نے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ 60 روزہ ایم او یو میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو بلا رکاوٹ بحال رکھنے، بارودی سرنگیں ہٹانے اور تجارتی بحری آمدورفت معمول پر لانے جیسے نکات شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی مرحلہ وار ختم کی جائے گی۔

معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عہد اور افزودہ یورینیم سے متعلق مذاکرات بھی شامل ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق آئندہ 60 روز کے دوران ایران کے جوہری پروگرام، افزودگی کے عمل اور بین الاقوامی نگرانی سے متعلق تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکا پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی فنڈز کے اجرا اور انسانی امداد کی فراہمی کے معاملات پر بھی بات کرنے پر آمادہ ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اپنی معیشت کو بحال اور عالمی تنہائی کم کرنے کا ایک اہم موقع موجود ہے۔ایک امریکی اہلکار کے مطابق ایران جتنا زیادہ تعاون اور رعایت دینے پر تیار ہوگا، اتنا ہی زیادہ فائدہ حاصل کر سکے گا۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کے دوران ایران کی یقین دہانیاں غیر تسلی بخش رہیں تو امریکا کے پاس معاشی اور فوجی سمیت تمام آپشنز بدستور موجود رہیں گے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران گزشتہ 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان دو جھڑپیں بھی ہوئیں، جس سے خطے کی کشیدہ صورتحال مزید واضح ہو گئی۔

Back to top button