’ہرمز معاہدے‘ کا مسودہ مسترد، امریکہ اور ایران پھر آمنے سامنے

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبینہ ’ہرمز معاہدے‘ کا مسودہ مسترد کیے جانے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملوں کے دعوے کیے ہیں۔

ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ ’جارحیت‘ دہرائی تو ایران اس سے بھی زیادہ فیصلہ کن ردعمل دے گا، اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ تاہم ایرانی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ نشانہ بننے والا امریکی اڈہ کہاں واقع تھا۔

عرب میڈیا اور روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کے پیش نظر ایرانی ڈرون آپریشن کے خلاف نئی کارروائیاں کیں۔ امریکی فوج نے ایران کے چار حملہ آور ڈرون مار گرانے اور بندر عباس میں ایک زمینی کنٹرول اسٹیشن کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک امریکی آئل ٹینکر پر فائرنگ کی، جس کے بعد جہاز کو واپس مڑنا پڑا۔ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد امریکی فوج نے بندر عباس کے اطراف میں کھلے علاقوں کو نشانہ بنایا، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

خیال رہے کہ امریکی فوج اس سے قبل جنوبی ایران میں بھی کارروائیاں کر چکی ہے، جنہیں واشنگٹن نے دفاعی اقدام قرار دیا، جبکہ ایران نے انہیں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کہا تھا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے ابھی مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن امریکا کو اب بھی کئی معاملات پر تحفظات ہیں۔صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ یا تو معاہدہ ہو جائے گا یا پھر امریکا کو ’کام مکمل‘ کرنا پڑے گا، جسے مبصرین نے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی قرار دیا ہے۔سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی عالمی تیل کی سپلائی، خطے کے امن اور امریکا ایران تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Back to top button