سیز فائر ٹوٹ گیا؟ امریکا کے ایران پر نئے حملے، تہران کا سخت ردعمل

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے دعووں کے باوجود بارود کی بو ختم نہ ہو سکی۔ امریکا نے جنوبی ایران میں نئے حملے کر کے خطے کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ تہران نے ان کارروائیوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دے دی ہے جبکہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سخت بیانات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن اب بھی معاہدے کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سفارتکاری آخری سانسیں لے رہی ہے یا دنیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے؟

مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ جنگ بندی کے ماحول میں امریکی فوج نے جنوبی ایران میں نئی کارروائیاں کر کے خطے میں بے چینی کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق حملوں میں ایرانی میزائل سائٹس اور ان کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد خطے میں موجود امریکی فوجیوں اور تنصیبات کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا تھا۔ سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق حملوں کا مرکز بندر عباس کے قریب کا علاقہ تھا، جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایک اہم ایرانی بحری اڈا سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی ایم کیو-9 ریپر ڈرون مار گرایا جبکہ ایک امریکی ایف-35 طیارے کو بھی ایرانی دفاعی کارروائی کے باعث پسپا ہونا پڑا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے انتہائی سخت بیان میں کہا کہ “وقت پیچھے نہیں لوٹے گا، اب خطے میں امریکا کیلئے کوئی محفوظ فوجی اڈہ باقی نہیں رہے گا۔” انہوں نے اسرائیل کے خاتمے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے برسوں میں خطے کی طاقت کا توازن مکمل طور پر بدل جائے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا کہ امریکا نہ صرف فضائی حملے کر رہا ہے بلکہ ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف سمندری کارروائیوں میں بھی ملوث ہے۔ تہران کے مطابق یہ تمام اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی مذاکرات جاری ہیں، جس سے امریکا کی نیت پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اسی دوران عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر میں دھماکے کی خبر نے عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ برطانوی میری ٹائم حکام کے مطابق جہاز کو جزوی نقصان پہنچا تاہم عملہ محفوظ رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل منڈی شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایران اور دیگر ثالثی کرداروں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق بات چیت میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے، تاہم تہران اب بھی امریکا کو ناقابلِ اعتماد فریق سمجھتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس امید کا اظہار کیا ہے کہ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور چند دنوں میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق سخت مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یا تو ایران اسے امریکا کے حوالے کرے یا عالمی نگرانی میں اسے تباہ کیا جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے۔ ایک طرف فوجی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف سفارتی کوششیں بھی دم توڑنے نہیں دی جا رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظریں اب قطر مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور واشنگٹن و تہران کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔

Back to top button