امریکا میں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر مظاہرے پھوٹ پڑے

امریکی انتخاب سے صرف ایک ہفتے قبل راتوں رات ریاست فلاڈیلفیا میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں، 27 سالہ اس شخص کو پولیس نے اُس وقت قتل کیا جب اس نے ہاتھ میں چاقو پکڑا ہوا تھا۔
مقامی میڈیا نے بتایا کہ 2 پولیس آفیسرز نے پیر کی سہ پہر اس شخص کو اس وقت ہلاک کیا جب مذکورہ شخص کی ماں اسے روک رہی تھیں تاہم اس نے چاقو پھینکنے سے انکار کردیا تھا۔ ایک طرف تو قتل ہونے والے شخص کے اہل خانہ نے کہا کہ جان لیوا ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی، ساتھ ہی کہا کہ اسے ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا تھا۔ دوسری جانب فائرنگ کے بعد سیکڑوں مظاہرین سڑکوں پر جمع ہوگئے، جنہیں پولیس لاٹھیوں کی مدد سے پیچھے دھکیلتی رہی۔ اس سب کے باوجود رات بھر شہر میں مختلف مقامات پر وقفے وقفے سے ہنگامے اور لوٹ مار کے واقعات ہوتے رہے، اس دوران 30 پولیس افسران زخمی بھی ہوئے، جس میں ایک افسر وہ بھی تھا جس کی ٹانگ ٹرک کی ٹکر سے ٹوٹ گئی۔ فلاڈیلفیا پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر زخمی اینٹیں اور پتھر لگنے سے ہوئے، پولیس ترجمان میگیول ٹوریس کا کہنا ہے کہ ‘مختلف ہسپتالوں میں موجود تمام زخمیوں کی حالت بہتر ہے‘۔ اس سے قبل امریکا میں ماہ مئی میں پولیس کی جانب سے مینیسوٹا میں ایک سیاہ فام شخص کو قتل کرنے کے بعد سے احتجاج اور فسادات کی لہر دیکھی گئی ہے۔ بہت سے مظاہرین نے پولیس پر نسلی تعصب اور مظالم ڈھانے کا الزام لگایا لیکن ٹرمپ نے ان فسادات کے حوالے سے جو بائیڈن کے خلاف جاری انتخابی لڑائی میں اپنے آپ کو ’امن و عامہ‘ قائم کرنے والے امیدوار کی حیثیت سے ثابت کرنے پر توجہ دی۔ ادھر وائٹ ہاؤس کی ڈائریکٹر آف کمیونکیشن الائیسا فرح کا کہناہے کہ صدر ٹرمپ تشدد کو برداشت نہیں کریں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے جو معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں لیکن ہم اپنی سڑکوں پر لاقانونیت کو بالکل برداشت نہیں کریں گے۔ ویلیس کے والد جو والٹر ویلیس کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو بظاہر 10 بار گولیاں ماری گئیں، ان کے بیٹے کا علاج ہورہا تھا، آپ نے ‘کیوں ٹیزر (الیکٹرک شاک کا آلہ) استعمال نہیں کیا؟’، ‘اسے ذہنی مسائل کا سامنا تھا (تو) ’کیوں آپ نے پستول نیچے نہیں کی؟’
