امریکہ نے ایرانی فوج کے چیف قاسم سلیمانی کو کیوں مارا ؟

3 جنوری 2020 کے روز امریکہ نے بالآخر اپنے پرانے دشمن اور پرائم ٹارگٹ ایران کی اسلامی ریولیشنری گارڈ کورپس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو بغداد ائیر پورٹ پر ایک ڈرون حملے میں قتل کر دیا۔ سلیمانی پر الزام تھا کہ وہ گزشتہ ہفتے بغداد امریکی ایمبیسی پر ہونے والے عراقی مظاہرین کے حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
قاسم سلیمانی پر ہونے والے بغداد ایئرپورٹ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد سات ہے۔ قاسم سلیمانی
کی موت تہران کے لئے ایک جھٹکے سے کم نہیں ہے کیونکہ وہ ایک کامیاب اور نڈر جرنیل ہونے کی وجہ سے نہ صرف ایران بلکہ پوری اسلامی دنیا میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔
11مارچ 1957 کو پیدا ہونے والے قاسم سلیمانی ایک عام گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جنہیں بہت کم عمری میں اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لئے کام کرنا پڑا۔ 13 سال کی عمر میں قاسم نے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ دن میں وہ کام کرتے اور رات میں مختلف عبادات میں مصروف رہتے۔ ان کا تعلق ایران کے جنوب میں واقع صوبہ کرمان سے تھا۔
1979 کے ایرانی انقلاب میں پہلی مرتبہ قاسم سلیمانی کو ملٹری ٹریننگ کا حصہ بنایا گیا۔ قاسم سلیمانی کو صرف 6 ماہ کی ٹریننگ کے بعد سرحد پر بھیج دیا گیا۔ بطور ایرانی اسلامی ریولیشنری گارڈ کورپس کے سربراہ اور ایران اور شام کے مابین ہونے والی جنگ میں قاسم سلیمانی کا بحثیت کمانڈر تاریخی کردار رہا۔ ایران اور عراق جنگ میں ان کی کارکردگی نے انہیں ایرانی عوام کا ہیرو بنا دیا تھا۔
مڈل ایسٹ جہاں امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل جیسے ممالک بھی مداخلت نہ کر سکے، وہاں قاسم سلیمانی کی قیادت میں ایران نے اپنے قدم جمائے اور ایرانی اثر رسوخ بڑھایا۔ انہی کارناموں کی بدولت گزشتہ بیس سالوں میں کئی بار قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کی سازش کی گئی لیکن وہ ہر بار زندہ بچ نکلے۔ گزشتہ 20 سالوں میں قاسم سلیمانی نے لا تعداد حملوں سے اپنا بچاو کیا تاہم 3 جنوری 2020 کے امریکی ڈرون حملے میں وہ جاں بحق ہو گئے۔
قاسم سلیمانی کی زیر صدارت ایرانی گارڈز نے سرحد پار کئی کارنامے انجام دئیے۔ ان کی جانب سے 2011 میں شام کے صدر کی حمایت کا اعلان ایک ایسے وقت میں کرنا جب اپنی شکست بلکل سامنے نظر آرہی ہو، قاسم سلیمانی کی جرات کا منہ بولتا ثبوت تھا اور ایسے کارنامے ہی ان کی وجہ شہرت رہے۔ قاسم سلیمانی 1998 میں ایرانی انقلابی گارڈز کے سربراہ بنے اور شروع کے کچھ سال صرف ایران کے تعلقات بہتر بنانے پر صرف کیے۔ اس دور میں سلیمانی کی جانب سے حزب اللہ، لبنان، شام اور عراق میں موجود مختلف گروپوں سے رابطے قائم کئے گے۔
ملکی معیشت ہو یا سیاست، سرحدی تحفظ سے لے کر افواج کی مدد تک، قاسم سلیمانی نے ہر لحاظ سے ایران کے اندر اور سرحد پار بھی خدمات انجام دیں۔ سلیمانی ایران عراق جنگ میں صحیح معنوں میں ملکی ہیرو بن کر ابھرےتھے جب انہوں نے سرحد پار مشن کے لئے کام کیا۔ ایران کے شہری ہونے کے باوجود قاسم سلیمانی کا عراق کی سیاست میں کافی حد تک اثر و رسوخ بن چکا تھا۔ اسی لیے امریکہ نے پچھلے ہفتے بغداد میں اپنی ایمبیسی پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی سلیمانی کو قرار دیا اور پھر ان کو ڈرون میزائل کے ذریعے نشانہ بھی بغداد کے ایئرپورٹ پر بنایا۔
