امریکہ نے پاکستان میں فوجی اڈا بنانا شروع کر دیا


حکومت پاکستان کی تردید کے باوجود بین الاقوامی میڈیا یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو اپنے ملک میں فوجی اڈے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی میڈیا کے بعد اب افغان میڈیا میں بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے قبائلی ضلع کرم میں پاک افغان سرحد کے قریب شلوزان اور ترمینگل کے علاقے میں ایک فوجی اڈا بنا رہا ہے۔ افغانستان کی ’پژواک‘ نیوز ایجنسی اور ’کابل نیوز‘ نے اپنی رپورٹس میں کہا کہ امریکہ نے پاڑہ چنار میں فوجی اڈا بنانا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ روزانہ آٹھ سے 10 فوجی ہیلی کاپٹر شلوزان کے علاقے میں آتے ہیں اور یہ کہ شلوزان اور ترمینگل میں چیک پوسٹیں بن رہی ہیں جب کہ مقامی افراد کو وہاں جانے کی اجازت نہیں۔
افغان میڈیا کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنا آیا ہے جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان امن عمل کے لیے ’ہمارا کردار ایک سہولت کار کا ہو گا۔‘
دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کیتھ ایف میکنزی نے اپریل میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ امریکہ کے فی الوقت افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ فوجی اڈوں کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں لیکن وہ پرامید ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا سے قبل ایسے معاہدے ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بی بی سی نے یہ خبر دی ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود اتحادی افواج کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے کے بعد پاکستان نے صوبہ بلوچستان میں امریکی ائیر فورس کے لیے ایک نئی ائیر بیس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق پاکستان ایئر فورس نے تصدیق کی ہے کہ وہ صوبہ بلوچستان میں ایک نیا فضائی اڈہ یا ایئر بیس بنانے پر غور کر رہی ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ضلع نصیر آباد کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا ہے کہ ایئرفورس نے اس سلسلے میں اراضی کے حصول کے لیے انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد انھیں نصیر آباد کے علاقے نوتال میں اراضی کا معائنہ کرایا گیا ہے۔ یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پینٹاگون کے ایک عہدیدار ڈیوڈ ایف ہیلوے نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں موجود اپنی افواج کی سپورٹ کے لیے اپنی فضائی اور زمینی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کے انڈو پیسیفک افیئرز کے اسسٹنٹ سیکریٹری ڈیوڈ ایف ہیلوی نے گذشتہ ہفتے امریکہ کی سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا کیونکہ پاکستان کا افغانستان میں امن بحالی میں بڑا اہم کردار ہے۔ ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضلع نصیر آباد میں تعمیر کیا جانے والا ایئر بیس درحقیقت امریکن فورسز کی درخواست پر بنایا جا رہا ہے اور یہ کہ یہ ایئر بیس امریکہ کے زیر استعمال ہو گا۔
تاہم حسب توقع ترجمان پاکستان فضائیہ اور وزارت خارجہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ لیکن پاک فضائیہ کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں نیا فضائی اڈہ بنانے کی تجویز ایک معمول کی چیز ہے اور اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ فی الحال نہیں ہوا ہے۔ فضائیہ کے ترجمان کے مطابق ابھی اس فضائی اڈے کے لیے چار سائٹس زیر غور ہیں مگر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

Back to top button