مریم اور بلاول کی آپس میں کیوں نہیں بن پاتی؟

وقتی سیاسی مصلحتوں کے تحت مریم نواز اور بلاول بھٹو دونوں ایک دوسرے کے قریب بھی آ جاتے ہیں، مسکراہٹوں کے تبادلے بھی ہوتے ہیں، بظاہر دونوں میں ”پہلے آپ پہلے آپ“ جیسی عاجزی اور انکساری بھی دکھائی دیتی ہے اور بہن بھائی جیسی محبت بھی۔۔ لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے نظریں ہی نہیں بدلتیں، راستے بھی جُدا ہو جاتے ہیں۔۔ مانا کہ سیاست کے پل پل بدلتے رنگ نگاہیں بدلنے کا سبب بنتے ہیں مگر دونوں کے ستارے بھی نہیں ملتے۔
یہاں ذکر ہو رہا ہے بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف کا، جو ملک کی دو بڑی مگر متحارب سیاسی جماعتوں کے جانشین ہیں۔ سیاست میں چونکہ کچھ بھی حرف آخر نہیں یوتا یعنی کل کے دوست کو آج کا دشمن اور کل کے دشمن کو آج کا دوست بنتے دیر نہیں لگتی، اس لئے کب، کس سے اور کیوں ہاتھ ملانا پڑ جائے، اس بارے کوئی نہیں جانتا۔ جیسے مریم اور بلاول نے بھی بغض عمران میں مصلحتا ہاتھ تو ملا لئے لیکن ان کے ستارے بتا رہے تھے کہ اپنے بڑوں کی طرح ان کا شیک ہینڈ بھی چار دن کی چاندنی ثابت یو گا۔ اور تو اور ان بلاول اور مریم کے ناموں کے پہلے حروف کے مطابق بھی دوستی کی یہ بیل منڈھ چڑھتے نظر نہیں آ رہی تھی کیونکہ دونوں ہر اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
عمروں کے فرق، پرورش، تعلیم اور سیاسی تربیت کو نظر انداز کر بھی دیا جائے تو بھی ایک مشرق ہے تو دوسرا مغرب۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مریم بلاول سے 15 سال بڑی ہیں۔ مریم کی تاریخ پیدائش 28 اکتوبر 1973 ہے جبکہ بلاول 21 ستمبر 1988 کو پیدا ہوئے۔ اس اعتبار سے مریم کا سٹار Scorpio اور بلاول کا سٹار Virgo ہے۔ ستاروں کے مطابق اگر بلاول چاہتے ہیں کہ ان کی ہر بات مانی جائے اور انہی کا حکم چلے تو مریم بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں، وہ بھی طاقت کی دیوی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ہر معاملے میں انہی کا سکہ چلے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاست ہو یا دولت، دونوں اتنی تگڑی وراثت کے مالک ہیں کہ اگر ہاتھ ملا لیں تو اقتدار کے ایوانوں میں ہر طرف تہلکہ مچا دیں۔ تاہم دونوں چونکہ اپنے سٹارز کے حوالے سے بہت پاور فل ہیں اس لئے کوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں۔
جہاں تک مریم کے سٹار Scorpio کا تعلق ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ سیاسی رویے میں کافی انتہا پسند واقع ہوئی ہیں۔ انھیں ضدی، ہٹ دھرم اور کسی حد تک پیچیدہ خاتون بھی کہا جا سکتا ہے۔ انھیں سمجھنا خاصا مشکل کام ہے۔ اس سٹار کے لوگ طاقت اور دولت سے دیوانگی کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں اور بہت جلد مشتعل بھی ہو جاتے ہیں۔ تاہم مریم کو ایک پرعزم اور باہمت خاتون بھی کہا جا سکتا ہے۔ کیسی ہی مشکل صورتحال کیوں نہ ہو، مریم بہت دلیری سے اس کا مقابلہ کرتی ہیں۔ انھیں ہر وقت اپنی پوزیشن کا خیال رہتا ہے، اس لئے ہر ایک سے ہاتھ نہیں ملاتیں۔ ان میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ لوگوں کو آسانی سے جج کر لیتی ہیں لیکن خود ہر کام رازداری سے کرتی ہیں۔ ویسے بھی جس وقت یہ کسی منصوبے پر کام کر رہی ہوتی ہیں تو دوسروں کی کم ہی پرواہ کرتی ہیں۔ اپنے ستارے کے مطابق مریم جراٴت مند اتنی کہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ انھیں ان کے ارادوں سے باز نہیں رکھ سکتی، اسی لیے بعض اوقات تو کسی غلط مؤقف پر بھی ڈٹ جاتی ہیں۔ Scorpian کسی حد تک خود غرض بھی ہوتے ہیں، دشمنوں کو کبھی نہیں بھولتے بلکہ جب بھی موقع ملے بدلہ ضرور لیتے ہیں۔
مریم کی پرسنیلٹی پر حرف ایم کی چھاپ نظر آتی ہے۔ ایسی خواتین جراٴت مند، ذہین اور محنتی ہوتی ہیں۔ تاہم انھیں انسانوں کی پہچان نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ ان کے آس پاس مطلب پرست لوگوں کا ہجوم رہتا ہے اور کوئی بھی انھیں آسانی سے بیوقوف بنا سکتا ہے لیکن یہ جس کی طرف ایک بار دوستی کا ہاتھ بڑھا لیں تو اسے ہرممکن طریقے سے نبھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ چونکہ بہت پُر اعتماد ہوتی ہیں، اس لئے عموماً اپنے مقاصد حاصل کر لیتی ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تبدیلی کا انتظار نہیں کرتیں بلکہ خود تبدیلی لانے کی خواہاں ہوتی ہیں اور یہ قدرے سیلفش بھی ہوتی ہیں، ان کے خیال میں یہ ہمیشہ صحیح اور دوسرا غلط ہے۔ البتہ شوہر اور بچوں کے لئے یہ کافی لکی ثابت ہوتی ہیں۔
دوسری طرف بلاول بھٹو کا سٹار Virgo ہے جو انھیں جذبات سے نہیں ہوش سے کام لینے پر اُکساتا ہے۔ وہ اتنے سٹریٹ فارورڈ ہیں کہ ان کے دشمن زیادہ اور دوست کم ہیں۔ عام طور پر معاملے کے ہر پہلو پر نظر رکھتے ہیں اور انتہائی سوچ بچار کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ اگرچہ انھیں کسی بھی بات کے لئے آسانی سے قائل کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ دلیل میں وزن ہو۔ یہ سخت محنتی اور زبردست قوت مشاہدہ کے مالک ہوتے ہیں ۔ Virgo کی فطرت میں جستجو اور لگن انھیں ہر وقت کچھ نا کچھ نیا کرنے پر اُکساتی ہے۔ چونکہ Virgo ہمدرد اور قابل بھروسہ ہوتے ہیں، اس لئے لوگ ان سے بلا خوف وخطر اپنے مسائل شیئر کرتے ہیں۔ ویسے بھی Virgo کی خصوصیات کے مطابق بلاول کو عاجزی و انکساری کا پیکر کہا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے سامنے ہمیشہ ایک واضح مقصد رکھتے ہیں اور پوری ثابت قدمی سے اس کے حصول کے لئے ڈٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ قواعد و ضوابط کے اتنے پابند ہوتے ہیں کہ کبھی اپنے اصولوں کا سودا نہیں کرتے۔ یہ ہمیشہ اپنی ایک مضبوط رائے رکھتے ہیں اور اپنی آواز کو بلا کسی خوف و خطر بلند کرنا جانتے ہیں۔
بلاول بھٹو کا نام چونکہ انگریزی حرف بی سے شروع ہوتا ہے تو اس حرف کی خصوصیات کا بھی ان کی پرسنیلٹی پر گہرا اثر ہے۔ ایسے افراد دوسروں پر جلد اعتبار نہیں کرتے تاہم ان میں انسانی ہمدردی کا جذبہ کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے، اس لئے زیادہ تر سوشل ورک میں مصروف رہتے ہیں۔ اس سٹار کے لوگ بہت کواپریٹو بلکہ صلح جو ہوتے ہیں اور بلاوجہ اختلافات مول نہیں لیتے۔ انھیں آپ غیر جذباتی بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ انھیں اپنے جذبات پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ لڑائی جھگڑوں سے تو میلوں دور ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتے ہیں جبکہ انھیں غصہ بہت کم آتا ہے۔ یہ تھوڑے خود پسند بھی ہوتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے دوست نہیں ہوتے، انکے دوست تو لاتعداد ہوتے لیکن یہ ہر کسی کے قریب نہیں ہوتے۔ ایسے لوگ چہرہ شناس بھی غضب کے ہوتے ہیں۔ بلاول جیسے سٹار والے لوگ پیدائشی ذہین ہونے کی وجہ سے عموماً جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں اُسے بہت سمجھداری اور ذمہ داری سے پایہٴ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کسی غلطی کے مرتکب نہیں ہوتے اور اگر کبھی بھولے سے کوئی غلطی کر بیٹھیں تو اسے کبھی نہیں دہراتے۔۔اور ہاں یہ تخلیق کار تو ہوتے ہی ہیں مگر ان میں حسِ ظرافت بھی کمال کی ہوتی ہے۔
تو یہ تھے مریم نواز اور بلاول بھٹو کی شخصیتوں کے کچھ ان جانے پہلو، کیا اب بھی آپ کو لگتا ہے کہ دونوں کبھی ایک ہو سکتے ہیں؟
