امریکہ چین کی جگہ پاکستان کا تجارتی پارٹنر بننے کا خواہاں

امریکہ کی جانب سے چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر کڑی تنقید کو پاکستانی حکام امریکہ کی پاکستان کو تجارتی پارٹنرشپ کی ایک بالواسطہ پیشکش قرار دے رہے ہیں۔ خیال رہے گزشتہ دنوں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے 60 ارب ڈالرز مالیت کے کئی پروجیکٹس پر مشتمل منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینئر امریکی اہلکار ایلس ویلز نے کہا تھا کہ سی پیک پاکستان کے نوجوانوں کو روزگار مہیا نہیں کرتا، یہ پاکستانی کمپنیوں کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتا جو چینی کمپنیوں کو پاکستان ایک دہائی پہلے مہیا کرتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں اس قدر عدم توازن ہے۔ اگرچہ پاکستان میں چین کے سفیر یاو جنگ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے امریکہ کے تمام تر تحفظات اور الزامات کو مسترد کیا ہے تاہم بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ چین نے سی پیک پر اعتراضات اٹھاکر دراصل پاکستان کے ساتھ نئی پارٹنرشپ شروع کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان دے کر امریکہ نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے چین کے ساتھ اتنے بڑے معاشی منصوبے میں شراکت داری کی ہے تو وہ اپنے ملک کو امریکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی کھولے، بصورت دیگر آئندہ برس فروری میں ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں شاید وہ پاکستان کے حق میں ووٹ نہ دے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے باوجود مزیدایک بیل آؤٹ پیکیج درکار ہے اس کے لئے بھی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے سے بچنا ہوگا اور خصوصی طور پر نیا قرضہ حاصل کرنے کے لیے امریکی حمایت بھی درکار ہے۔ ممکنہ طور پر امریکی نائب معاون وزیر خارجہ نے پاکستان کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اگر اس نے اقتصادی پابندیوں سے بچنا ہے اور اپنے ملک کی معاشی حالت بہتر کرنی ہے تو صرف چین کے ساتھ معاشی تعلقات پروان چڑھانے پر اکتفا نہ کریں بلکہ امریکہ کے ساتھ نئی پارٹنرشپ بھی شروع کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین میں بڑھتی ہوئی قربت سے نہ صرف ہمسایہ ملک بھارت پریشان ہے بلکہ امریکہ کو بھی لگتا ہے کہ اگر چین نے پاکستان میں مضبوط قدم جمالیے تو جنوبی ایشیا کی نئی گریٹ گیم میں اس کے لیے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو جائیں گے۔ سی پیک پر تنقید کرکے امریکہ نے پاکستان کی کمزوریوں اور اپنے مفادات اور اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوئے ایک نئی شراکت داری کی آفر کی ہے۔ عالمی امور کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت کو اس حقیقت کا پتہ لگ گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے امریکہ سے مایوس ہوکر اپنا سو فیصد جھکاؤ چین کے جانب کرلیا ہے تاہم اس طرح امریکہ کو افغانستان کے معاملات اور چین کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی نائب معاون وزیر خارجہ کی جانب سے سی پیک سے متعلق بیان اور امریکی سرمایہ کاری کے اشارے سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ نئی تجارتی پارٹنر شپ شروع کرنے کا خواہاں ہے تاکہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جائے اور پاکستان کے ساتھ اس قدر تعلقات ضرور قائم رہیں کہ افغانستان اور ایران کے معاملے میں پاکستان امریکا کے اہداف حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button