امریکی اخبار کا یوکرینی طیارہ حادثے سے متعلق اہم انکشاف

ایک امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے یوکرینی مسافر برادار طیارے کو میزائل سے مار گرائے جانے کے بعد تین روز اس حقیقت کو ایرانی صدر حسن روحانی سے چھپائے رکھا گیا۔
اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے کی تباہی کے چند منٹ بعد ہی حقیقت کا ادراک ہو گیا تھا تاہم تین روز تک صدر حسن روحانی سے یہ بات چھپائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق صدر حسن روحانی کو 11 جنوری کو حقیقت بتائی گئی جس پر ایرانی صدر نےالٹی میٹم دیا کہ ذمے داری قبول کی جائے ورنہ وہ استعفیٰ دے دیں گے۔
اس تمام تر صورت حال پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مداخلت کی اور حکم دیا کہ طیارے سے متعلق حقیقت تسلیم کی جائے۔
خیال رہے کہ ایران میں 8 جنوری کو یوکرین کا مسافر طیارہ پرواز کے چند ہی منٹ بعد گِر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں طیارے پر سوار مسافروں اور عملے کے اراکین سمیت تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے ابتدائی طور پر طیارے کو میزائل سے مار گرائے جانے کے واقعے کی تردید کی تاہم جب اس حوالے سے ویڈیوز منظر عام پر آئیں تو ایران نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر ناصرف معافی مانگی بلکہ متاثرہ افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا۔
کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ جب تک طیارے کو مار گرائے جانے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے مطمئن نہیں ہو جاتے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، اب یوکرینی طیارے کو میزائل سے تباہ کرنے کی تحقیقات میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
