قاضی فائز عیسٰی ریفرنس بارے وزیراعظم کی ایڈوائس بدنیتی پر مبنی تھی

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سندھ ہائی کورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ قاضی فائز عیسٰی کیخلاف ریفرنس بارے وزیراعظم کی ایڈوائس بدنیتی پر مبنی تھی، صدر کو ریفرنس کی ایڈوائس پر آزادانہ فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ صدر اور جوڈیشل کونسل کے علاوہ کوئی بھی ادارہ یا شخصیت ججز کے خلاف انکوائری کی مجاز نہیں،اثاثہ جات برآمدگی یونٹ غیرقانونی باڈی ہے اور غیرقانونی طریقے سے جمع شدہ مواد پر آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی.
سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی. دوران سماعت بنچ کے سربراہ جستس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کیس میں بدنیتی عیاں تھی کیوںکہ سابق چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کا فائدہ اس وقت کے صدر کو ہونا تھا۔
دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ میں کچھ دستاویزات دینا چاہتا ہوں، جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ دستاویزات کس نوعیت کی ہیں؟ رشید اے رضوی نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چند فیصلے پیش کرنا چاہتا ہوں ،ججز کے خلاف صرف صدر اور سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری کر سکتے ہیں، صدر اور کونسل کے علاوہ کوئی بھی انکوائری کرے تو غیرقانونی ہوگی۔ رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ غیرقانونی طریقے سے حاصل کردہ دستاویزات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اعلی عدلیہ اس نقطے پر کسٹمز اور اِنکم ٹیکس مقدمات میں اصول وضع کر چکی ہے۔
مزید دلائل دیتے ہوئے رشید اے رضوی نے کہا کہ اثاثہ جات برآمدگی یونٹ غیرقانونی باڈی ہے اور غیرقانونی طریقے سے جمع شدہ مواد پر آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی نہیں ہو سکتی جبکہ اثاثہ جات برآمدگی یونٹ ازخود اختیار حاصل نہیں کر سکتا۔ رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ یہی صورتحال رہی تو کل ایس ایچ او بھی ججز کے خلاف کارروائی شروع کر دے گا، صدر اور وزیراعظم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے۔
دوران سماعت ملک میں حالیہ آٹے کا بحران بھی موضوع گفتگو بنا، جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ صدر اور جوڈیشل کونسل جج کے خلاف میڈیا کی خبر پر ایکشن لے سکتے ہیں؟ جس پر رشید اے رضوی نے جواب دیا کہ اوّل تو صدر صاحب اخبار پڑھتے ہی نہیں ہیں، چند روز قبل کسی نے صدر سے گندم بحران کا سوال کیا تھا جس پر صدر نے گندم بحران سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ رشید اے رضوی کا مزید کہنا تھا کہ عدالت نے ایسے اصول وضع کر دئیے تو کوئی نہیں بچے گا، سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی تبدیلی آئی ہے، گزشتہ 2 سے 3سال میں جو کونسل میں ہوا امید ہے اب نہیں ہوگا۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نےکہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں آنے والی تبدیلی کو چھوڑ دیں، اب جسٹس عمر عطاء بندیال کونسل کا حصہ بن چکے ہیں۔ رشید اے رضوی نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے آرڈیننس فیکٹری لگا رکھی ہے کیا ایسے شخص سے ضمیر کے مطابق فیصلے کی امید لگائی جا سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے ریفرنس پر اپنے جوڈیشل ذہن سے کوئی فیصلہ نہیں کیا، بلکہ وزیراعظم کی سفارش پر ریفرنس جوڈیشل کونسل کو بھیجوا دیا۔
جس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ صدر نے صرف ذہن اپلائی کرنا ہوتا ہے جوڈیشل مائنڈ نہیں تو رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ صدر نے نان جوڈیشل مائنڈ بھی اپلائی نہیں کیا۔ رشید اے رضوی نے کہا کہ ریفرنس میں جج کے نام کیساتھ معزز بھی نہیں لکھا گیا، صدر نے ریفرنس پر دستخط کرکے حلف کی خلاف ورزی کی۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے دریافت کیا کہ جج کے خلاف شکایت حکومت نے صدر کو بھجوائی تھی، کیا صدر ایڈوائس سے ہٹ کر اختیار استعمال کر سکتے ہیں؟ رشید اے رضوی نے کہا کہ وزیراعظم کی ایڈوائس بدنیتی پر مبنی تھی، صدر کو ریفرنس کی ایڈوائس پر آزادانہ فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سپریم جوڈیشل کونسل آزاد ادارہ ہے، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کیس میں بدنیتی عیاں تھی کیوںکہ سابق چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کا فائدہ اس وقت کے صدر کو ہونا تھا۔ بعدازاں سپریم جوڈیشل کونسل کی درخواست کے خلاف سماعت 28 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔
بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ بینچ سماعت کررہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button