امریکی اور افغان شہریوں کو پاکستان لانے پر کڑی تنقید


حکومت پاکستان نے کابل میں خودکش دھماکوں کے بعد افغانستان سے آنے والے امریکی شہریوں کو ٹھہرانے کے لیے اسلام آباد کے بڑے ہوٹل خالی کروانے کے بعد اب ہزاروں افغان شہریوں کو عارضی رہائش دینے کے لیے ملک کی بڑی یونیورسٹیوں کو بھی خالی کروانا شروع کر دیا ہے۔ تاہم حکومت کا یہ فیصلہ متعلقہ یونیورسٹیوں کے طلباء اور اساتذہ کی جانب سے کڑی تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے لاہور کی تین یونیورسٹیوں میں افغان شہریوں کو ٹھہرانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں 20 ہزار سے زائد افغان مہاجرین کو رہائش دی جائے گی، ا یونیورسٹی کیمپسز میں سکیورٹی اہلکار بھی تعینات کردیے گئے ہیں، تاہم ان یونیورسٹیوں کے طلباء اور اساتذہ نے اس حکومتی فیصلے کے پر احتجاج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ حکومت نے لاہور کی تین سرکاری یونیورسٹیوں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کالا شاکاکو کیمپس کے ہاسٹلز میں عارضی طور پر افغان مہاجرین کو ٹھہرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت یونیورسٹیز کے سب کیمپسز میں 20 ہزار افغان مہاجرین کو رہائش دی جائے گی، اس بارے یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے، لیکن ان تینوں یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم طلباء، اساتذہ اور ملازمین نے کیمپسز کو خالی کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا اور کہا کہ افغان مہاجرین کو یونیورسٹی میں ٹھہرانے سے تعلیمی ماحول خراب ہوگا لہازا حکام کو چاہیے کہ افغان مہاجرین کو ٹھہرانے کیلئے کسی اور جگہ کا بندوبست کریں۔
بتایا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے کالا شاکاکو کیمپش میں مہاجرین کو ٹھہرانے کیلئے سکیورٹی اہلکار بھی تعینات کردیے ہیں۔ ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن یو ای ٹی لاہور نے یونیورسٹی کے نیوکیمپس میں افغان پناہ گزین کیمپ قائم کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر امجد حسین کا کہنا تھا کہ نیو کیمپس کالا شاہ کاکو میں افغان پناہ گزین کیمپ قائم کرنے سے یونیورسٹی میں سیکیورٹی کے شدید مسائل پیش آئیں گے کیونکہ کیمپس کے اندر تین ہزار سے زائد طلبا، اساتذہ اور سٹاف کی رہائش گاہوں کے علاوہ اربوں روپے کی تکنیکی و تحقیقی مشینیری موجود ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس فیصلے پر طلبا اور اساتذہ میں عدم تحفظ اور گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ انھوں نے اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کے کیمپ یونیورسٹی کیمپس کی بجائے کسی اور جگہ قائم کیے جائیں تاکہ طلبا اور اساتذہ بلا تعطل اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں یونیورسٹی طلبا نے بھرپور احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ کابل ایئرپورٹ پر خود کش بم دھماکوں کے بعد غیر ملکیوں کے انخلا میں تیزی آگئی ہے، جن میں سے بیشتر پاکستان لا کر یہاں سے اپنے ملکوں کو روانہ کیے جائیں گے۔ پاکستان میں غیر ملکی باشندوں کو عارضی قیام دینے کی تیاریاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور اسلام آباد سمیت کراچی اور لاہور کے ہوٹلوں میں مزید بکنگز نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں افغانستان سے آنے والوں کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے تمام ہوٹلوں کو افغانستان سے آنے والے غیرملکیوں کو ٹھہرانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر بکنگ کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ہوٹل خالی کروانے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اس حکم پر فعری عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس فیصلے کا مطلب بظاہر یہ نظر آیا کہ تمام ہوٹلوں کے کمرے ضلعی انتظامیہ کے قبضے میں ہوں گے، جن میں افغانستان سے آئے ہوئے غیرملکیوں کو ٹھہرایا جائے گا۔
راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے پہپے ہی ضلع بھر کے 148 ہوٹلوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور ان کے کمرے افغانستان سے آنے والے مسافروں کے لیے مختص کردیے گئے ہیں۔ اسی طرح پنڈی کے 19 کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہاسٹل بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کو ایک مہینے کے ٹرانزٹ ویزے دیے جائیں گے اور اس دوران پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے ہوٹلوں اور ہاسٹلز پر تعینات ہوں گے۔
کراچی میں بھی غیر ملکی مہمانوں ٹھہرانے کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ ناردرن بائی پاس پر واقع لیبر فلیٹس اور ملیر کے مقامات پر بھی افغان باشندوں کو رہائش دی جائے گی۔ سندھ حکومت نے لیبر فلیٹس اور دیگر عمارتیں ان کے لیے مختص کر دی ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے کہ غیر ملکیوں کو ٹھہرانے کے لیے اسلام آباد کے تمام بڑے ہوٹل بند کردیے گئے ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’طور خم اور چمن بارڈر کھلے ہیں۔۔۔ عالمی اداروں کے ملازمین اور سفارت کار پاکستان آنا چاہیں تو آ سکتے ہیں، تاہم انہیں اپنے خرچے پر ہوٹلوں میں رہنا ہو گا۔ ہم ان لوگوں کو 21 دن کا ٹرانزٹ ویزہ جاری کر رہے ہیں۔

Back to top button