انتخابات کے بعد سینیٹ کو کون سے چیلنج درپیش ہوں گے؟

قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں آج پارلیمان کے ایوان بالا کی 37 سیٹیوں پر نئے اراکین کےلیے انتخابات ہو رہے جس کے بعد 2024 تک سینیٹ کی رکنیت مکمل ہو جائے گی۔
پنجاب سے 11 سینیٹر پہلے ہی منتخب ہوچکے ہیں جس کے بعد آج 37 نئے اراکین کےلیے انتخابات ہو رہے ہیں۔ 11 مارچ کو جب 2015 میں منتخب ہونے والے اراکین سبکدوش ہوں گے تب آج کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے سینیٹرز حلف برداری کے مرحلے سے گزرنے کے بعد باقاعدہ ایوان بالا کے رکن قرار پائیں گے۔ صحافی ذیشان حیدر کے مطابق آج کے انتخابات اور نئے ایوان بالا کی تکمیل نو کے درمیان مقابلوں کا ایک تسلسل ہے جو حکومتی اور اپوزیشن بینچز کے درمیان دیکھنے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقابلے پورے مارچ کے دوران جاری رہیں گے جب کہ بعد ازاں وہ روایتی رسہ کشی شروع ہوگی جو عام طور پر ہمیں قانون سازی کے دوران ایوانوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اکثریت یا اقلیت، ہر دو صورتوں میں حزب اقتدار اور اپوزیشن نے آج کے انتخابات کے بعد کی بھی ضرور منصوبہ بندی کی ہو گی، اور ان سطور میں ہم جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ نئے سینیٹرز کی حلف برداری کے بعد سینیٹ میں کیا ہونے جا رہا ہے اور تحریک انصاف حکومت اور اس کے اتحادیوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس کےلیے کیا منصوبہ بندی کر رکھی ہے؟ ۔ پارلیمان کے ایوان بالا کے اراکین کی مدت رکنیت چھ سال ہوتی ہے، جب کہ سینیٹ کے چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین ہر تین سال بعد تبدیل ہوتے ہیں۔ مارچ 2018 میں منتخب ہونے والے چئیرمین محمد صادق سنجرانی اور ڈپٹی چئیرمین سلیم مانڈی والا 11 مارچ کو سبکدوش ہوں گے، یوں حکومتی اور اپوزیشن بینچز کے درمیان پہلا معرکہ ان دو عہدوں کےلیے ہوگا۔ صادق سنجرانی کے بحیثیت رکن مزید تین سال ہیں، جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈی والا کی مدت رکنیت بھی ختم ہو رہی ہے۔ نئی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے والا فریق دونوں عہدے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، جب کہ کسی بھی دوسری صورت میں سیاسی لین دین کے ذریعے کم از کم ایک عہدے پر اکتفا کیا جائے گا۔ پارلیمانی امور پر صحافی نظر رکھنے والی وی لاگر حرا وحید کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی دوبارہ چئیرمین شپ میں دلچسپی لے رہے ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ انہیں حکومتی بینچز کی حمایت حاصل بھی ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان سے ایک سینئیر سیاست دان بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے تعلق رکھنے والی اپنی بیٹی کےلیے حکومتی اتحاد سے ڈپٹی چئیرمین شپ کا ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین دونوں کا ایک صوبے سے ہونا ہی بڑی قباحت ہے، کیوں کہ روایتاً یہ عہدے الگ الگ صوبوں اور ایک کسی چھوٹے صوبے کو دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف اسلام آباد سے واحد جنرل سیٹ پر اپوزیشن کے امیدوار اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کامیابی کی صورت میں چئیرمین شپ کے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ یوسف رضا گیلانی کے چئیرمین سینیٹ کی حیثیت سے امیدوار ہونے کی صورت میں پی ڈی ایم کو ڈپٹی چئیرمین کےلیے کسی چھوٹی وفاقی اکائی سے امیدوار میدان میں اتارنا ہو گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی ناکامی کی صورت میں پی ڈی ایم جمیعت علمائے اسلام ف کے عبدالغفور حیدری کے نام پر چئیرمین شپ کے امیدوار کے طور پر غور کر سکتی ہے۔ اپوزیشن کی سیٹیں کم آنے کی صورت میں بھی پیپلز پارٹی کسی نہ کسی طرح ڈپٹی چئیرمین شپ کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔ اس سلسلے میں 2018 کے سینیٹ الیکشنز میں پیپلز پارٹی کی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری نے اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ڈپٹی چئیرمین شپ کےلیے اپنے امیدوار (سلیم مانڈی والا) کو جتوایا تھا۔ سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹیاں 34 ہیں، جب کہ فنکشنل کمیٹیوں کو ملا کر یہ تعداد 50 سے زیادہ بنتی ہے، جو ہر تین سال بعد آدھے سینیٹرز کی سبکدوشی پر ختم ہو جاتی اور نئے سینیٹرز کے انتخاب کے بعد دوبارہ تشکیل دی جاتی ہیں۔ مارچ ہی میں چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے انتخابات اور حلف برداری کے بعد اگلا مرحلہ سینیٹ کمیٹیوں کی تشکیل نو کا ہوگا۔ حرا وحید کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کےلیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے طویل اجلاس ہوتے ہیں جن کی خاطر تمام کمیٹیوں کی تشکیل نو جلد از جلد کرنا ضروری ہوگا۔ سینیٹ میں فنانس، داخلہ، قانون اور عدل، دفاع، انسانی حقوق، کشمیر و گلگت بلتستان وغیرہ کے موضوعات سے متعلق کمیٹیاں اہم سمجھی جاتی ہیں، جن میں حکومتی اور حزب اختلاف کے اراکین کی مخصوص تعداد کے علاوہ وفاقی اکائیوں کو نمائندگی دی جاتی ہے جب کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین سینیٹرز کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ حرا وحید نے کہا کہ حکومت کے پاس بمشکل دو مہینے ہوں گے اور پھر بجٹ کا کام شروع ہو جانا ہے۔ ان کے خیال میں وفاقی حکومت کےلیے کمیٹیوں کی جلد از جلد تشکیل نو ضروری بن جاتی ہے، کیوں کہ سینیٹ میں بلوں پر زیادہ بحث انہیں فورمز پر ہوتی ہے۔ حرا نے مزید کہا کہ سینیٹ میں پیش ہونے والا کوئی بھی بل سیدھا متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا جاتا ہے، اور اس لیے بھی کمیٹیوں کی فوراً تشکیل نو ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ذیشان حیدر کا کہنا تھا کہ حکومتی اور اپوزیشن اراکین اہم کمیٹیوں کی صدارت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس مرتبہ بھی یہی ہوگا، موجودہ سینیٹ میں اقلیت ہونے کی وجہ سے حکومت کو ایوان بالا میں قانون سازی کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا رہا، جسے بعض تجزیہ کار تحریک انصاف حکومت ہی کی کمزوری قرار دیتے ہیں۔ حرا وحید کے خیال میں تحریک انصاف کی سب سے خراب کارکردگی قانون سازی کے حوالے سے رہی ہے۔ لگتا ہے نہ یہ خود قانون سازی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ اپوزیشن کو اس کےلیے رضا مند کروا سکتے ہیں۔ سینیٹ سیکریٹیریٹ سے حاصل کردہ ریکارڈز کے مطابق قومی اسمبلی سے 2020 میں دو درجن سے زیادہ منظور ہونے والے حکومتی بل ابھی تک ایوان بالا میں منظوری کے منتظر ہیں، جب کہ تحریک انصاف حکومت نے 2019 اور 2020 کے دوران 30 صدارتی آرڈیننسز جاری کیے اور پارلیمان سے منظور ہونے والے قوانین کی تعداد صرف 21 ہے۔ محمد آصف میاں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سینیٹ میں اکثریت حاصل نہیں کر پاتی تو انہیں قانون سازی میں مسائل کا سامنا آگے بھی رہے گا۔ حرا وحید کے خیال میں قانون سازی کے حوالے سے تحریک انصاف حکومت کی ترجیحات میں فیٹف کی ہدایات کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ، انسداد دہشت گردی، بینکنگ اور منشیات سے متعلق قانون سازی شامل ہوگی۔ اسلام آباد ہی کے ایک صحافی کا کہنا تھا: ’عین ممکن ہے کہ حکومت سینیٹ کی تشکیل نو کے فوراً بعد الیکشن ریفارمز سے متعلق کوئی قانون لے کر آئے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے کے بعد اس امر کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں جب کہ تحریک انصاف پہلے سے انتخابی اصلاحات پر بھی زور دیتی رہی ہے۔ محمد آصف میاں کے خیال میں اپوزیشن سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی صورت میں احتساب کے قانون میں ترامیم متعارف کروا سکتی ہے، جن کا قومی اسمبلی سے منظور ہونا مشکل ہوگا لیکن انہیں کریڈیٹ حاصل ہو جائے گا۔ ایوان بالا قانون سازی کے عمل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے جس میں قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہر قانونی بل سینیٹ میں پیش کیا جاتا ہے، جب کہ مالیاتی بل کے علاوہ کوئی بھی دوسرے قانون کا مسودہ براہ راست سینیٹ میں بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔
