حکومت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے فرار

ایم کیو ایم اور ق لیگ کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ پر تحفظات اور 20 سے 25 اراکین کی غیر حاضری کے پیش نظر حکومت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں سے انتخابی اصلاحات سمیت دیگر معاملات پر اتفاق رائے کے لیےبلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کر دیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ کا کل ہونے والا مشترکہ اجلاس ملتوی ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے.ذرائع کے مطابق انتخابی اصلاحات بل پر حکومت اوراتحادیوں میں اتفاق رائے نہ ہونے پرمشترکہ اجلاس ملتوی کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کے بعد حکمران جماعت میں بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اختلاف ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیردفاع پرویز خٹک نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر قانون سازی کا مشورہ دیا اور وزیراعظم سے گفتگو میں کہا کہ اتحادی جماعتیں اس بل پر راضی نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ میں بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اتفاق رائے نہیں، حکومت کو خدشہ تھا کہ مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات بل پاس نہیں ہوسکے گا۔ذرائع نے بتایا کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بل کی کھل کر مخالفت کی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے اتحادی بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر مطمئن نہ تھے جس کے باعث اتحادیوں نے ووٹنگ مشین پر تفصیلی بریفنگ کا مطالبہ کر دیا۔اتحادیوں کی طرف سے بلائے گئے ظہرانہ میں صرف وزیراعظم عمران خان نے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے ووٹنگ مشین اور دیگر ایشوز ہر ارکان کو اعتماد میں لیا، کھانے کے بعد اتحادی اور حکومتی سینئر وزرا میں بات چیت ہوئی، اتحادیون نے ای وی ایم پر وقت مانگ لیا۔ اتحادیوں کے وقت مانگنے کے پیش نظر اجلاس موخر کیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہنا ہے کہ ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو ، انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
اپوزیشن سے ایک بار پھر اس حوالے سے رابطہ کرنے کے لیے سپیکر اسد قیصر کو ٹاسک سونپا گیا ہے تا کہ ایک متفقہ بل لایا جا سکے۔
فواد چودھری نے کہا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو اس مقصد کیلئے موْخر کیا جا رہا ہے۔ ہمیں امید ہے اپوزیشن ان اہم اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ہم پاکستان کے مستقبل کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر پائیں گے تاہم ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم اصلاحات سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے التوا پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اجلاس ملتوی کرکے عمران صاحب نے اپنی یوٹرن کی روایت قائم رکھی ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ مشترکہ اجلاس ملتوی ہونے کا مطلب ہے کہ کالے قوانین پر حکومت کو شکست ہوچکی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اپنے ارکان اور اتحادیوں کے عدم اعتماد کے بعد عمران نیازی کو مستعفی ہوجانا چاہئے مشترکہ اجلاس کو ملتوی کرکے عمران صاحب نے یوٹرن کی اپنی روایت قائم رکھی۔انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ اجلاس جلد بازی میں بلانے اور پھر عجلت میں ملتوی کرنے سے حکومت کی غیرسنجیدگی عیاں ہے قانون سازی جیسے حساس اور سنجیدہ معاملے کو بچوں کا کھیل بنادیا گیا ہے. محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ روز کی شکست نے حکومت کو اجلاس ملتوی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ میدان میں مقابلہ کرنے کے دعوے کرنے والے میدان سے بھاگ
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اچانک مؤخر کرنے پر پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مریم نے کہا کہ ’ابھی ابھی ریجیکٹڈ خان صاحب تقریر جھاڑ رہے تھے کہ اراکین کل کے مشترکہ اجلاس میں جہاد سمجھ کر ووٹ کریں تو کیا قوم یہ پوچھ سکتی ہے کہ جہاد اچانک ملتوی کیوں کرنا پڑا ؟ ویسے تو قوم سب جانتی ہے مگر پھر بھی پوچھنا تو بنتا ہے!‘
واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اور ق لیگ کی جانب سے حکومت کی جانب سے عام انتخابات کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جس پر اجلاس کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق خفیہ رپورٹ میں حکومت کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ کل ہونے والے اجلاس میں 20 سے 25 اراکین اسمبلی سے غیرحاضر رہیں گے جس میں حکومتی اراکین بھی شامل تھے۔

Back to top button