انتخابی مہم، نواز شریف عملاً سیاسی میدان میں کب اترینگے؟

نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد اب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پوری قوت کے ساتھ انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی قائد نواز شریف نے پارٹی کو بھرپور تیاریوں اور نو نکاتی ایجنڈے کے تحت انتخابی منشور تیار کرنے کی ہدایت کردی۔پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف آئندہ ہفتے سے اپنی سیاسی مصروفیات کا آغاز کر یں گے۔مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو آئندہ انتخابات کی انتخابی مہم کے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کر دی۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف نے پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کو ملک بھر میں بھرپور طریقے سے اور تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے انتخابی مہم چلانے کی ہدایت کی ہے جس کے تحت ملک بھر میں جلسے، ورکرز کنونشن اور دیگر تقاریب منعقد ہوں گی جبکہ انتخابی سرگرمیوں کے شیڈول کی تیاری بھی شروع کردی گئی۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے پارٹی کا انتخابی منشور تیار کرنے کے لیے کمیٹی کو ٹاسک دے دیا ہے یہ انتخابی منشور نواز شریف کے 9 نکاتی منشور کی روشنی میں تیار کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ نواز شریف نے 21 اکتوبر کو چار سال بعد وطن واپسی پر مینار پاکستان پر جلسہ عام سے خطاب میں ملک کو بحرانوں اور عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے 9 نکاتی ایجنڈا دیا تھا۔
9 نکاتی ایجنڈے میں سرکاری اور انتظامی اخراجات میں کمی، خودمختاری خارجہ پالیسی، آمدنی و محصولات میں اضافہ اور ٹیکس کے نظام میں بنیادی اصلاحات شامل ہیں۔برآمدات میں اضافے کے لیے فوری اور ہنگامی نوعیت کے اقدام، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انقلاب، اور بجلی اور گیس کی قیمتیں کم کرنا نو نکاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی انتظام کاری، نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انقلاب اور نظام عدل وانصاف میں اصلاحات بھی نو نکاتی ایجنڈے میں شامل ہیں۔

مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق انتخابی مہم کے تحت نواز شریف ملک بھر میں عوام کو متحرک کرنے کے لیے جلسے اور کنونشنز کریں گے، پارٹی تنظیموں نے قائد نواز شریف کے جلسوں کے لیے مقامات، تاریخوں اور دیگر امور پر مشاورت شروع کر دی ہے۔نواز شریف نے پارٹی کی صوبائی تنظیموں کو جلسوں کے شیڈول اور انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے، ن لیگ کی صوبائی تنظیموں کی جانب سے نواز شریف کو اپنے اپنے اضلاع میں پہلے جلسے کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

ن لیگ پنجاب کی تنظیم کی جانب سے نواز شریف کو قصور میں پہلا جلسہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں صوبائی تنظیم کی جانب سے نواز شریف کو مانسہرہ میں جلسہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔نواز شریف سندھ اور بلوچستان کے دورے بھی کریں گے، پارٹی کی جانب سے تمام عہدیداروں، رہنماوں اور ٹکٹ ہولڈرز کو اپنے اپنے حلقوں میں فعال رہنے کی ہدایت کی گئی ہےذرائع کے مطابق شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز الگ الگ علاقوں میں جلسے کیا کریں گے۔

دوسری طرف ذرائع کے مطابق نون لیگ نے عام انتخابات میں پنجاب میں سولو فلائٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد جہانگیر ترین کی نئی سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان آئندہ عام انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت نے استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق کیے گئے مطالبات پر عدم دلچسپی کا اظہار کر دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ استحکام پاکستان پارٹی نے آئندہ عام انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی 25 سے 30 نشستوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم مسلم لیگ ن کی قیادت نے جہانگیر ترین گروپ کو مثبت جواب نہیں دیا۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے جہانگیر ترین کو 5 نشستوں پر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں اپنے امیدوار کھڑے نہ کرنے کی حد تک سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی یقین دہانی کروائی ہے۔

دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے استحکام پاکستان پارٹی کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملے پر مثبت جواب نہ ملنے پر قیادت میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں استحکام پاکستان پارٹی ایک نئے سیاسی بیانیہ کے ساتھ منظر عام پر آسکتی ہے۔

Back to top button