نون لیگ کیلئے اقتدار کی راہ کس نے اور کیسے ہموار کی؟

میاں نوازشریف کی وطن واپسی کے بعد ملکی سیاسی منظر نامہ بدل گیا ہے، سب کو معلوم ہو چکا ہے کہ آنے والے انتخابات میں کون سی جماعت پورے اعتماد کیساتھ میدان میں اُتر رہی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت کیلئے آسانیوں کے دروازے کھلتے چلے جا رہے ہیں، میاں نواز شریف کی واپسی سے قبل اس بات کی توقع کی جا رہی تھی کہ چند روز کیلئے ہی سہی مگر انہیں جیل جانے سمیت دیگر قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، مگر جس با سہولت اور آسان طریقے سے ان کی چار سال بعد واپسی ہوئی نہ صرف ان کے حریف بلکہ حامی بھی حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔
دنیا نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ پر اُتر کر سٹیٹ گیسٹ لاؤنج میں وہ پروٹوکول ملا جو اہم سرکاری عہدیداروں کو ہی ملتا ہے، عدالت میں سرنڈر کرنے کیلئے درکار دستاویزات مکمل کرنے کیلئے بائیومیٹرک کرنے والا عملہ خود چل کر ایئرپورٹ آیا، میڈیا نے میاں نواز شریف کی وطن واپسی پر ایسی کوریج دی جو بڑے بڑے سربراہانِ مملکت کو ملا کرتی ہے، اسلام آباد سے لاہور پہنچنے کے بعد رن وے پر نہ صرف ہیلی کاپٹر انہیں مینارِ پاکستان پہنچانے کیلئے منتظر تھا بلکہ ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے وہ پروٹوکول دیا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کو ملتا ہے۔
ان مناظر کو ٹیلی ویژن سکرینز اور سوشل میڈیا پر دیکھنے کے بعد ملک میں لیول پلینگ فیلڈ کے سوالات اٹھنے لگے، نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو پریس کانفرنس میں چبھتے ہوئے سوالات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ لیول پلینگ فیلڈ سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا تسلی بخش جواب دینے کی بجائے تلخ اور جارحانہ ہوگئے، ایئرپورٹ پر بائیومیٹرک کی سہولت کو انہوں نے بطور پاکستانی شہری نواز شریف کا حق قرار دے دیا، مگر یہ نہ بتا سکے کہ کیا یہ سہولت واقعی ایک عام پاکستانی کو میسر ہے۔
رہی سہی کسر نیب نے نکال دی جس نے احتساب عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں میاں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت پر کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ حفاظتی ضمانت میں توسیع کیلئے بھی راہ ہموار کر دی، ایسے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج میاں گل حسن اورنگزیب نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ پانچ سال بعد یہ سب کچھ دیکھ کر ہم پوچھنے پر مجبور ہیں کہ کیا یہ وہی نیب ہے؟ انہوں نے کہا کہ حفاظتی ضمانت کی پہلی سماعت پر بھی نیب بغیر نوٹس کے کمرہ عدالت میں موجود تھی، نیب نے اپیلوں میں اور سزا معطلی اور ٹرائل کے دوران کتنے طویل دلائل دیئے مگر احتساب کا ادارہ میاں نواز شریف کو گرفتار کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس سب میں عوام کا کتنا وقت ضائع کیا گیا، جب آپ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر کوئی اعتراض نہیں کرنا تو پھر ریفرنسز کیوں برقرار رہیں؟ چیئرمین نیب سے ہدایات لیں اور آئندہ سماعت پر صورتحال کو واضح کریں، پنجاب حکومت بھی میاں نواز شریف کو ریلیف دینے میں پیچھے نہ رہی اور کریمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 401 کے تحت اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے العزیزیہ کیس میں سات سال قید کی سزا معطل کر دی۔میاں نواز شریف کی وطن واپسی اور اپیلوں کی بحالی کے حوالے سے گمان کیا جا رہا تھا کہ انتخابات سے قبل سہی مگر العزیزیہ اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کیسز سے جانے چھڑانے میں انہیں چند ماہ لگیں گے، مگر استغاثہ یعنی نیب کے طرز عمل کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کی اپیلیں بحال ہونے کے بعد جلد ہی شرفِ قبولیت حاصل کر سکیں گی۔
میاں نواز شریف کی واپسی کے بعد ان کے اقتدار میں آنے کیلئے راہ ہموار ہونے کی باتیں ہونے لگی ہیں، یہی (ن) لیگ چاہتی بھی تھی کہ وہ ایسا تاثر دینے میں کامیاب ہو جائے کہ انہیں اقتدار میں آنے کیلئے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے تاکہ وہ ملک کے بڑے الیکٹ ایبلز کو اپنی جانب آسانی سے راغب کر سکے۔(ن) لیگ کیلئے نظر آنے والی آسانیوں کا معاملہ اپنی جگہ مگر یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ اپنے کارکنوں کو کامیابی سے متحرک کرنے کیلئے اس کی اپنی تیاری بھی نظر آ رہی ہے، 21 اکتوبر کو مینار پاکستان میں ہونے والا جلسہ بلا شبہ ایک کامیاب جلسہ تھا، (ن) لیگ کو ہمیشہ طعنہ اس بات کا ملا کہ ان کے کارکن باہر نہیں نکلتے، اس سے قبل میاں نواز شریف جلاوطنی کاٹنے کے بعد وطن واپس لوٹے تو صورتحال سب کے سامنے تھی مگر اس بار مینار پاکستان پر ہونے والے کامیاب شو نے انہیں ایک ایسے وقت میں اعتماد دیا جب (ن) لیگ کے پاس کوئی بڑا بیانیہ نہیں تھا۔
پی ڈی ایم حکومت کی 16 ماہ کی کارکردگی اور احتساب کے بیانیہ سے مجبوراً پیچھے ہٹنے کے بعد (ن) لیگ اس بات پر پریشان تھی کہ عوام کی عدالت میں کیا لے کر جانا ہے، مگر میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں ایک قومی لیڈر کی سی گفتگو کی جس کی ملک کو اس وقت ضرورت تھی، انہوں نے انتقام کی بجائے ملک کیلئے آگے بڑھنے کا اعلان کیا جو ملک میں جاری سیاسی نفرت کے ماحول میں ایک خوشگوار تبدیلی تھی۔
موجودہ صورتحال میں انتخابات کے انعقاد کا معاملہ بھی واضح ہونے لگا ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان انتخابات 90 روز میں کرانے سے متعلق کیس میں جو ریمارکس دے رہی ہے اس کے بعد ملک میں عام انتخابات کسی بھی وجہ سے غیر ضروری التوا کا شکار ہونا آسان نہیں ہوگا، الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سپریم کورٹ میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ سے متعلق صورتحال واضح کرنی ہوگی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان حلقہ بندیوں کو حتمی شکل دینے کے بعد اعتراضات کی سماعت کا مرحلہ مکمل کر رہا ہے جس کے بعد 15 نومبر کو حلقہ بندیوں کا حتمی نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا، ملک میں عام انتخابات کے جنوری کے آخری ہفتے میں منعقد ہونے کی راہ میں بظاہر اب کوئی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی، مگر انتخابات سے قبل لیول پلینگ سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے اثرات عام انتخابات کے بعد بھی رہیں گے۔
