انجمن کے دوسرے شوہر سے ڈیل کے بعد نیب مشکل میں


نیب نے فلم سٹار اور پروڈیوسر میاں وسیم عرف لکی علی کو جعلی ہاوسنگ سوسائٹیاں بنانے کے کیس میں قابو کرکے خوب پھرتی دکھائی اور اسے تقریباً دو ارب روپے کی پلی بارگین کے لئے بھی راضی کرلیا۔ مگر اب بڑا چیلنج یہ بن گیا ہے کہ جو رقم نیب نے پلی بارگین کے ذریعے ریکور کی ہے اس کے تمام مدعی یا دعوے دار ہی دستیاب نہیں۔ ایسے حالات میں نیب پر یہ مشکل آن پڑی ہے کہ ریکور کی گئی رقم کا کیا کیا جائے۔
پاکستان میں انسدادِ بدعنوانی کے ادارے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے اعلی حکام حال ہی میں اس وقت خوشی سے جھوم اٹھے جب لگ بھگ دو ارب روپے کی خطیر رقم کا ایک پے آرڈر ادارے کو موصول ہوا۔ یہ پے آرڈر ماضی کی مشہور پاکستانی فلم سٹار انجمن کے سابق شوہر لکی علی کی جانب سے نیب کو بھیجا گیا تھا۔ ادارے کے افسران اس لیے بھی زیادہ خوش ہیں کیونکہ نیب کے میگا کرپشن ریفرنسز کی ایک طویل فہرست ہے جس میں ملک کے بڑے بڑے سیاستدان، نجی رہائشی سکیموں کے مالک، تاجروں اور سرکاری افسران کے نام شامل ہیں، مگر ان میں سے بیشتر سے کئی سال گزرنے کے باوجود کچھ خاص حاصل وصول نہیں ہو رہا ہے۔ تاہم لکی علی والی رقم پلی بارگین کے ذریعے حاصل ہوئی تھی اور نیب کے حکام نے اسے ادارے کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے۔ نیب کا کہنا تھا کہ یہ خطیر رقم ان متاثرین میں جلد تقسیم کر دی جائے گی جن سے رہائشی پلاٹس کے عوض یہ پیسے مبینہ طور پر وصول کیے گئے تھے۔
نیب کی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق ملزم لکی نے جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹس دینے کے نام پر نو ہزار لوگوں سے فراڈ کیا تھا۔نیب کی تحقیقات کے مطابق لکی گیارہ مختلف ناموں سے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تشہیر کرتے رہے اور سادہ لوح عوام سے پیسے بٹورتے رہے۔ لکی نے عام لوگوں کے ساتھ ہی فراڈ نہیں کیا بلکہ فلمسٹار انجمن سے شادی کے وقت انہیں بھی کئی پلاٹس بطور تحفہ دیئے تھے لیکن چونکہ یہ سوسائٹیاں غیر قانونی ثابت ہوگئیں لہذا اب انجمن بھی بیٹھی ہاتھ مل رہی ہیں لیکن نہ جانے کیوں دیگر بہت سے الاٹیز کی طرح انجمن نے بھی داد رسی کے لئےنیب سےتاحال رابطہ نہیں کیا۔
نیب حکام کے مطابق راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ریکارڑ میں لکی علی کی ایک بھی ہاؤسنگ سوسائٹی رجسٹرڈ نہیں ہے۔اس ڈیل کے باوجود نیب کو ابھی منزل کی تلاش ہے۔ اگرچہ حیرت انگیز طور پر نیب نے اس مقدمے میں خوب پھرتی دکھائی اور بہت کم وقت میں بڑی رقم برآمد کرا لی۔ مگر اب بڑا چیلنج یہ بن گیا ہے کہ جو رقم نیب نے پلی بارگین کے ذریعے ریکور کی ہے اس کے تمام مدعی یا دعوے دار دستیاب نہیں ہیں۔اس مقدمے کی پیروی کرنے والے نیب کے ایک تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ اس وقت نیب کے پاس تقریباً دو ارب روپے تو آ گئے ہیں مگر اس رقم کے دعویداروں کی تعداد بہت کم بنتی ہے۔ان کے مطابق نیب اس رقم کو نہ تو اپنے خزانے اور نہ ہی قومی خزانے میں جمع کرا سکتی ہے۔نیب اب مزید دعویداروں کے انتظار میں ہے اور خود ایسے افراد سے رابطے بھی کیے جا رہے ہیں جو ممکنہ طور پر اس مقدمے کے مدعی ہو سکتے ہیں۔نیب کے تفتیش کاروں کو دوران تفتیش یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لکی علی تنہا یہ کام نہیں کر رہے تھے بلکہ اس کے ساتھ راولپنڈی اور اسلام آباد میں کام کرنے والی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی شامل تھیں، جن تک نیب کی تفتیش کا دائرہ کار نہیں بڑھایا جا سکا ہے۔ذرائع کے مطابق ان بڑی سوسائٹیوں نے لکی علی کے خلاف مقدمات کے اندراج کے بعد زمین پہلے ہی اپنے قبضے میں لے لی ہے۔ تاہم نیب نے اپنی ڈیل کو صرف لکی علی کی حد تک محدود رکھا۔نیب دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کب اور کیسے کارروائی کرے گا، عدالت کے سامنے طے پانے والی ڈیل میں اس کی وضاحت نہیں دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ نیب آرڈیننس کے مطابق جب کوئی ملزم مبینہ طور پر لوٹی گئی رقم کا ایک خاص حصہ نیب کو واپس کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو پھر اُس کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا جاتا ہے۔نیب قوانین کے مطابق پلی بارگین کا مرحلہ عدالتی منظوری کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔چند ہفتے قبل نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر فراڈ کے مقدمے میں لکی علی کی پلی بارگین کی درخواست ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی کی طرف سے اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں پیش کی گئی تھی۔اس درخواست کی باقاعدہ منظوری جج محمد بشیر نے دی تھے۔عدالتی منظوری کے بعد لکی علی ایک ارب 95 کروڑ کی ڈیل کر کے جیل جانے کے بجائے خاموشی سے گھر چلے گئے تھے لیکن اب اس خطیر رقم میں سے اپنا حصہ لینے والے الاٹیز نہ جانے کیوں نیب سے رابطہ نہیں کررہے۔ شاید انہیں خطرہ ہے کہ اگر وہ اپنی رقم وصول کرنے نیب کے پاس گئے تو کسی اور کیس میں نہ الجھ جایئں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button